aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "murgaabii"
طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےالو جب مردنگ بجائے کوا شور مچائےککڑوں کوں کی تان لگا کے مرغا گائے خیالقمری اپنی ٹھمری گائے مرغی دیوے تالمور اپنی دم کو پھیلا کر کتھک ناچ دکھائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےچڑیا باجی سبھا میں ناچے خوشی سے چھم چھم چھمموٹی بطخ چونچ سے ڈھولک پیٹے دھم دھم دھمبیا بجائے منجیرے اور بھونرا بھجن اڑائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےبلبل گل کی یاد میں رو رو گائے دیپک راگمست پپیہا دور سے نغموں کی بھڑکائے آگکوئل پہن کے پائل ساری محفل میں اٹھلائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےرنگ برنگی چڑیاں اب چھیڑیں ایسی قوالیپتا پتا بوٹا بوٹا تال میں دیوے تالیپھوپھی چیل وجد میں آ کر اونچی تان لگائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےانگلستان کا سارس آ کر ناچے راک این رولمرغابی سے بولے میڈم انگلش گانا بولدیکھو دیکھو کتنی پیاری محفل ہے یہ ہائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے
غسل خانے میں وہ کہتی ہیں ہمیں چینی کی اینٹیں ہی پسند آتی ہیںچینی کی اینٹوں پہ وہ کہتی ہیں چھینٹا جو پڑے تو پل میںایک اک بوند بہت جلد پھسل جاتی ہےکوئی پوچھے کہ بھلا بوندوں کے یوں جلد پھسل جانے میںکیا فائدہ ہےجب ضرورت ہوئی جی چاہا تو چپکے سے گئے اور نہا کر لوٹےدھل دھلا کر یوں چلے آئے کہ جس طرح کسی جھیل کے پانی پہ کوئی مرغابیایک دم ڈبکی لگاتی ہے لگاتے ہی ابھر آتی ہےاور پھر تیرتی جاتی ہے ذرا رکتی نہیں
دنبہ زرافے کی گردن ناپنے کو تیار ہوامرغابی کے انڈے کھا کر سانپ بہت بیمار ہوا
ایک ڈر تھا تنہائی کاایک ڈر تھا جدائی کاجو مسلسل میرے ساتھ رہتا تھاکل کا دن جو گزر گیابہت بھاری لگتا تھالگتا تھا کسی ایسے دن کا بوجھ اٹھا نہ پاؤں گیآدھے ادھورے راستے میں ہی مر جاؤں گیمگر کل کا دن بھی آ ہی گیااور ریت کا وہ گھروندا ساتھ ہی بہا لے گیاجس میں رکھے تھے میں نےرنگ برنگ کے پیارے پتھرتتلیوں کے پر اور مور کے پنکھپھولوں کے سب رنگاور آسمان کی دھنکگلہری کا ادھ کھایا اخروٹماں کے پروں تلے بیٹھے مرغابی کے بچےاس گھروندے پر اتری دھوپ جس نے مجھ سے میرا سایہ جدا کر دیا تھاکل جب وہ سب بے رحم وقت کی موجوں کے ساتھ بہہ گیااور چار سو قبر جیسا اندھیرا پھیل گیاتو سفید دھوپ جاتے جاتے ایک احسان کر گئیوہ مجھ کو میرا سایہ لوٹا گئیاور میں مرتے مرتے بچ گئی ورنہمیں تو ایسے کل میں مر ہی جاتیآوازوں کے بچھڑنے سے
نجمی فہمی عظمیٰ رعناآؤ دیکھیں چڑیا خانہجن کے نام سنا کرتے ہوآج انہیں نزدیک سے دیکھوایک سے ایک پرندے دیکھوآدم خور درندے دیکھومور سروں پر تاج سجائےناچ رہے ہیں پر پھیلائےبلبل دیکھو طوطا دیکھوکوئل دیکھو مینا دیکھوخوش آواز پپیہا دیکھوحد حد اور گوریا دیکھوبھونرا دیکھو تتلی دیکھوشیر کی خالہ بلی دیکھوزیبرا گھوڑا ٹٹو خچرباز کبوتر کوا تیتروہ دیکھو خرگوش گلہریبارہ سنگھا اور وہ ہرنیبن مانس اور بھالو بھی ہےنیولا اور کنگارو بھی ہےبندر کی نقالی دیکھوپیٹ رہے ہیں تالی دیکھودو دو ہاتھی جھوم رہے ہیںدور گدھے بھی گھوم رہے ہیںشیروں کا غرانا دیکھوتندوے کا بل کھانا دیکھووہ دیکھو افریقی گینڈااور یہ ہندوستانی چیتاپھن کاڑھے اک ناگن بھی ہےلومڑی اک مکارن بھی ہےبزدل گیدڑ لکڑ بگھاکون بنے گا لیڈر اس کادل کش طائر آبی دیکھوکیسی ہے مرغابی دیکھومچھلی کو لہراتے دیکھومینڈک کو ٹراتے دیکھوایک مگرمچھ جاگ رہا ہےدیکھ کے کچھوا بھاگ رہا ہےآج فراغؔ انکل نے دیکھاکلکتے کا چڑیا خانہ
جسموں کے کھو جانےاور رویوں کے بدلنے کے کرب نے مجھے تمام عمراندیشۂ ضیاع میں ہی مبتلا رکھاکل کے دن نے مجھ میں بسے سب خوف مار دئےچہرے سے نقاب اترا تو سچائی سینہ تانے میرے سامنے آ کھڑی ہوئیخود سے بچھڑی ہوئی تھی اب خود سے آ ملی ہوںمیرا سایہ مجھ میں نو پھٹا ہو کر جاگ گیا ہے اوروہ میرا ہاتھ تھامے بیٹھا ہےاب وہی مورپنکھ وہی جھیل وہی مرغابی کے بچےاخروٹ کھاتی گلہری اور رنگ بکھیرتی تتلیمیرا سایہیہی سب مردہ مناظر کو میرے اندر حنوط کر کے بیٹھ گیا ہےاب اپنے ہی سائے کی پناہ میں ہوںجس کے نہ بدلنے کا ڈر نہ بچھڑنے کا وہمایک سا بس مجھ میں ہی رہے گامیرا ہی رہے گااس لئےاب تنہائی سے ڈر نہیں لگتااب جدائی سے ڈر نہیں لگتااب میں اپنی پناہ میں ہوں
خاموش ہوا بھیڑوں کا گلہ چلتے چلتے ممیا کرجا پہنچا شاید باڑے میں بوسی رستے میں پھیلا کرچپ چاپ کھڑا ہے دور ادھر وہ جنگل کالی چیلوں کاسر سبز پہاڑوں کو پر ہول بنانے والی چیلوں کاآواز نہیں آتی اب جھیل کی جانب سے مرغابی کیسنسان فضا بے جان ہوا میں لرزاں روح خموشی کییوں لائی دوش پہ لاش سی کیا رنگیں دن کی بربادی کییہ شام یہ گہری شام یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکی!قدرت کے سکوت مجسم کی اس ہیبت زا آرائش سےوادی کے ذرے ذرے کی ہم آہنگی کی نمائش سےہر نقش شجر ہر فیل نما پتھر دنیا ہے طلسموں کیحد ہی نہیں آتی کوئی نظر اس طرفہ فسوں کی قسموں کیہر شے پر خواب سا طاری ہے اور میں ہوں صرف بے خوابیلینے ہی نہیں دیتی دم مجھ کو میری فطرت سیمابیاے کاش کبھی کم کر سکتی میرے بھی دل کی بیتابییہ شام یہ گہری شام یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکیمیں مصنوعات کا پروردہ بلکہ انسان بھی مصنوعیمیرا سامان بھی مصنوعی میرا ایمان بھی مصنوعیبسنے والا میدانوں کے ہنگامہ پرور شہروں کابے ربط سکوں سے ناواقف اور شوریدہ سر شہروں کامیں قدرت کے اسرار و رموز پنہاں سے آگاہ کہاںاس اندھیار کے اتھاہ سمندر کی مرے دل میں چاہ کہاںاور مجھ کو دکھاتی ہے نور حقیقت کے جلووں کی راہ کہاںیہ شام یہ گہری شام یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکییہ منظر خوش آیند تو ہیں میں ان سے مگر کیوں ڈرتا ہوںکیوں ان کی دلآویزی کو وحشت ناک تصور کرتا ہوںکیوں مجھ کو میسر سنگ و شجر کا سا بھی سکون قلب نہیںکیوں میری دنیا اس دنیا سے جا کے بسی ہے دور کہیںکیوں میں نے ڈالا ہے اپنے ہی جی کو آپ ہلاکت میںکیوں ہو ہی نہیں جاتا میں خود پیوستہ جہان قدرت میںکیوں لے ہی نہیں لیتی مجھ کو اپنی آغوش کی وسعت میںیہ شام یہ گہری تاریکی یہ ہر لحظہ بڑھتی ہوئی تاریکی
ڈھل گیا دن اور شبنم ہے زمیں پر قطرہ ریزگوشۂ مغرب میں گلگوں ہے شفق سے آسماںپڑ رہی ہیں دور تک سورج کی کرنیں زرد زردجا رہی ہے تو اکیلی شام کو اڑتی کہاںدیکھتا ہے کیوں عبث صیاد سوئے آسماںیاس کی نظروں سے تیری شوکت پرواز کوارغواں زار فلک کے منظر خوش رنگ نےکر دیا ہے اور دل کش تیرے نقش ناز کوڈھونڈتی پھرتی ہے کیا کوئی سہانا آبشاریا کہ سر گرم تلاش دامن دریا ہے تویا کسی بحر تموج خیز کی ہے جستجویوں سکوت شام میں کیوں آسماں پیما ہے توتو جو بے سنگ نشان جادہ و بے مرحلہکر رہی ہے آسماں پر قطع طبقات ہوااڑ سکے بے بدرقہ تو یہ کہاں تیری مجالکوئی طاقت ہے مگر تیری مقرر رہنمااے سبک پرواز! تیری سرعت پرواز نےطے کئے کتنے ہی دن بھر سرو طبقات نسیمہو کے داماندہ زمیں پر گر نہ شہ پر جوڑ کرشب کی ظلمت کا ہے گرچہ سر پہ طوفان عظیمہو چکی تیری مشقت ختم تجھ کو عن قریبگرمیوں کا اک سہانا گھر ملے گا خوش گوارگاتی ہوگی چھوٹی چڑیوں میں ہم آہنگی سے تواور نشیمن پر ترے ہوگی نیستاں کی بہارہو گئی غائب فضائے آسماں میں گرچہ تواور اب آنکھوں میں ہے تیرا تصور یادگارمیں نے سیکھا ہے سبق لیکن تری پرواز سےہے طریق زندگی میں تو مری آموز گارمنطقہ سے منطقہ تک اے سبک پرواز شوقوسعت اوج فلک پر ہے جو تیرا راہبرمجھ کو بھی لے جائے گا وہ منزل مقصود تکجب کروں گا جادۂ ہستی سے میں تنہا سفر
جو زندگی کے نئے سفر میںتجھے کسی وقت یاد آئیںتو ایک اک حرف جی اٹھے گاپہن کے انفاس کی قبائیںاداس تنہائیوں کے لمحوںمیں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیںمجھے ترے درد کے علاوہ بھیاور دکھ تھے یہ مانتا ہوںہزار غم تھے جو زندگی کیتلاش میں تھے یہ جانتا ہوںمجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میںدرد کی ریت چھانتا ہوںمگر ہر اک بار تجھ کو چھو کریہ ریت رنگ حنا بنی ہےیہ زخم گلزار بن گئے ہیںیہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہےیہ درد موج صبا ہوا ہےیہ آگ دل کی صدا بنی ہےاور اب یہ ساری متاع ہستییہ پھول یہ زخم سب ترے ہیںیہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمےجو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیںجو تیری قربت تری جدائیمیں کٹ گئے روز و شب ترے ہیںوہ تیرا شاعر ترا مغنیوہ جس کی باتیں عجیب سی تھیںوہ جس کے انداز خسروانہ تھےاور ادائیں غریب سی تھیںوہ جس کے جینے کی خواہشیں بھیخود اس کے اپنے نصیب سی تھیںنہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہبہت دنوں کا اجڑ چکا ہےوہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکنکڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہےوہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہاسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلید یورپ کےمگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے
کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معریپھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقاتاک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے بھیجاشاید کہ وہ شاطر اسی ترکیب سے ہو ماتیہ خوان تر و تازہ معری نے جو دیکھاکہنے لگا وہ صاحب غفران و لزوماتاے مرغک بیچارہ ذرا یہ تو بتا توتیرا وہ گنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تودیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات!تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکنجو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا!مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہےیہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا!جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتااے قطرۂ نیساں وہ صدف کیا وہ گہر کیا!شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہوجس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا!بے معجزہ دنیا میں ابھرتیں نہیں قومیںجو ضرب کلیمیؑ نہیں رکھتا وہ ہنر کیا!
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
نوخیز دلہن اور عید کا دن کپڑوں سے نمایاں بد حالیکمہلائے ہوئے سے غنچے تر مرجھائی ہوئی سی ہریالی
ساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیےچاند تاروں بہاروں کے سپنے بنےحسن اور عشق کے گیت گاتا رہاآرزوؤں کے ایواں سجاتا رہامیں تمہارا مغنی تمہارے لیےجب بھی آیا نئے گیت لاتا رہاآج لیکن مرے دامن چاک میںگرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیںمیرے بربط کے سینے میں نغموں کا دم گھٹ گیاتانیں چیخوں کے انبار میں دب گئی ہیںاور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے ہیںمیں تمہارا مغنی ہوں نغمہ نہیں ہوںاور نغمے کی تخلیق کا ساز و ساماںساتھیو! آج تم نے بھسم کر دیا ہےاور میں اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامےسرد لاشوں کے انبار کو تک رہا ہوںمیرے چاروں طرف موت کی وحشتیں ناچتی ہیںاور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہےبربریت کے خوں خار عفریتاپنے ناپاک جبڑوں کو کھولےخون پی پی کے غرا رہے ہیں
درد کی آگ بجھا دو کہ ابھی وقت نہیںزخم دل جاگ سکے نشتر غم رقص کرےجو بھی سانسوں میں گھلا ہے اسے عریاں نہ کروچپ بھی شعلہ ہے مگر کوئی نہ الزام دھرےایسے الزام کہ خود اپنے تراشے ہوئے بتجذبۂ کاوش خالق کو نگوں سار کریںمو قلم حلقۂ ابرو کو بنا دے خنجرلفظ نوحوں میں رقم مدح رخ یار کریںرقص مینا سے اٹھے نغمۂ رقص بسملساز خود اپنے مغنی کو گنہ گار کریں
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامصوت انسانی کی روح جاوداںآسمانوں کی ندائے بیکراںآج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤآؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیںآرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاسجیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسےریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپاپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہےاس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریشکیسے خاک آلودہ ہیںتھے کبھی جن کی تہیں بود و نبودکیسے اس کا صور اس کے لب سے دوراپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گمجھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زودمرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہوہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاںمرگ اسرافیل سےحلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گرابن آدم زلف در خاک و نزارحضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تارآسمانوں کی صفیر آتی نہیںعالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیںمرگ اسرافیل سےاس جہاں پر بند آوازوں کا رزقمطربوں کا رزق اور سازوں کا رزقاب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیاسننے والوں کے دلوں کے تار چپاب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیابزم کے فرش و در و دیوار چپاب خطیب شہر فرمائے گا کیامسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپفکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیاطائران منزل و کہسار چپمرگ اسرافیل ہےگوش شنوا کی لب گویا کی موتچشم بینا کی دل دانا کی موتتھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہواہل دل کی اہل دل سے گفتگواہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلواب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گماب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گممرگ اسرافیل سےاس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیاجیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیاایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیںایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیںمرگ اسرافیل سےدیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھیزباں بندی کے خوابجس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہواس خداوندی کے خواب
مجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں،تجھے موت آئے گی، مر جائے گی تو،وہ پہلی شب مہ شب ماہ دونیم بن جائے گیجس طرح ساز کہنہ کے تار شکستہ کے دونوں سرےدور افق کے کناروں کے مانندبس دور ہی دور سے تھرتھراتے ہیں اور پاس آتے نہیں ہیںنہ وہ راز کی بات ہونٹوں پہ لاتے ہیںجس نے مغنی کو دور زماں و مکاں سے نکالا تھا،بخشی تھی خواب ابد سے رہائی!
منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےآ کر ان کو لے گئے چوہے لمبی مونچھوں والےگڑ کا ان کو ماٹ ملا تھا میٹھا اور مزے دارلاکھ خوشامد کر کے مجھ سے لے لئے دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبلی تھی اک مامی موسی چپکے چپکے آئیپنجوں پر تھی دیگ کی کھرچن ہونٹوں پر بالائیبولی گڑ کے ماٹ پہ میں نے چوہے دیکھے چارحصہ آدھوں آدھ رہے گا دے دو دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبعد میں بوڑھا موتی آیا رونی شکل بنائےبولا بی بی اس بلی کا کچھ تو کریں اپائےدودھ نہ چھوڑے گوشت نہ چھوڑے ہیں بڈھا لاچاراس کو کروں شکار جو مجھ کو دے دو دانت ادھاراچھی منی تم نے اپنے اتنے دانت گنوائےکچھ چوہوں نے کچھ بلی نے کچھ موتی نے پائےباقی جو دو چار رہے ہیں وہ ہم کو دلواؤاک دعوت میں آج ملیں گے تکے اور پلاؤمرغی کے پائے کا سالن بیگن کا آچاردو گی یا کسی اور سے مانگوںہاں دیے ادھاربابا ہاں ہاں دیے ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books