aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naslii"
حریم محمل میں آ گیا ہوں سلام لے لوسلام لے لو کہ میں تمہارا امین قاصد خجل مسافر عزا کی وادی سے لوٹ آیامیں لوٹ آیا مگر سراسیمہ اس طرح سےکہ پچھلے قدموں پلٹ کے دیکھا نہ گزرے رستوں کے فاصلوں کوجہاں پہ میرے نشان پا اب تھکے تھکے سے گرے پڑے تھےحریم محمل میں وہ سفیر نوید پرورجسے زمانے کے پست و بالا نے اتنے قصے پڑھا دئیے تھےجو پہلے قرنوں کی تیرگی کو اجال دیتےتمہیں خبر ہےیہ میرا سینہ قدیم اہرام میں اکیلا وہ اک حرم تھاعظیم رازوں کے کہنہ تابوت جس کی کڑیوں میں بس رہے تھےانہیں ہواؤں کا ڈر نہیں تھانہ صحرا زادوں کے نسلی کا ہی ان کی گرد خبر کو پہنچےحریم محمل میں وہ امانت کا پاسباں ہوںجو چرم آہو کے نرم کاغذ پہ لکھے نامے کو لے کے نکلاوہی کہ جس کے سوار ہونے کو تم نے بخشا جہاز صحراطویل راہوں میں خالی مشکوں کا بار لے کر ہزار صدیاں سفر میں گرداںکہیں سرابوں کی بہتی چاندی کہیں چٹانوں کی سخت قاشیںمیان راہ سفر کھڑے تھے جکڑنے والے نظر کے لوبھیمگر نہ بھٹکا بھٹکنے والاجو دم لیا تو عزا میں جا کرحریم محمل سنو فسانے جو سن سکو تومیں چلتے چلتے سفر کے آخر پہ ایسی وادی میں جا کے ٹھہرااور اس پہ گزرے حریص لمحوں کے ان نشانوں کو دیکھ آیاجہاں کے نقشے بگڑ گئے ہیںجہاں کے طبقے الٹ گئے ہیںوہاں کی فصلیں زقوم کی ہیںہوائیں کالی ہیں راکھ اڑ کر کھنڈر میں ایسے پھنکارتی ہےکہ جیسے اژدر چہار جانب سے جبڑے کھولے غدر مچاتےزمیں پہ کینہ نکالتے ہوںکثیف زہروں کی تھیلیوں کو غضب سے باہر اچھالتے ہوںمہیب سائے میں دیوتاؤں کا رقص جاری تھاٹوٹے ہاتھوں کی ہڈیوں سے وہ دہل باطل کو پیٹتے تھےضعیف کوؤں نے اہل قریہ کی قبریں کھودیںتو ان کے ناخن نحیف پنجوں سے جھڑ کے ایسے بکھر رہے تھےچکوندروں نے چبا کے پھینکے ہوں جیسے ہڈی کے خشک ریزےحریم محمل وہی وہ منزل تھی جس کے سینے پہ میں تمہاری نظر سے پہنچا اٹھائے مہر و وفا کے نامےوہیں پہ بیٹھا تھا سر بہ زانو تمہارا محرمکھنڈر کے بوسیدہ پتھروں پر حزین و غمگیںوہیں پہ بیٹھا تھاقتل ناموں کے محضروں کو وہ پڑھ رہا تھاجو پستیوں کے کوتاہ ہاتھوں نے اس کی قسمت میں لکھ دئیے تھےحریم محمل میں اپنے ناقہ سے نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں خموش و ویراںغبار صحرا مژہ پہ لرزاں تھا ریت دیدوں میں اڑ رہی تھیمگر شرافت کی ایک لو تھی کہ اس کے چہرے پہ نرم ہالہ کیے ہوئے تھیوہ میرے لہجے کو جانتا تھاہزار منزل کی دوریوں کے ستائے قاصد کے اکھڑے قدموں کی چاپ سنتے ہی اٹھ کھڑا تھادیار وحشت میں بس رہا تھاپہ تیری سانسوں کے زیر و بم سے اٹھی حرارت سے آشنا تھاوہ کہہ رہا تھا یہاں سے جاؤ کہ یاں خرابوں کے کارخانے ہیںروز و شب کے جو سلسلے ہیں کھلے خساروں کی منڈیاں ہیںوہ ڈر رہا تھا تمہارا قاصد کہیں خساروں میں بٹ نہ جائےحریم محمل میں کیا بتاؤں وہیں پہ کھویا تھا میرا ناقہفقط خرابے کے چند لمحے ہی اس کے گودے کو کھا گئے تھےاسی مقام طلسم گر میں وہ استخوانوں میں ڈھل گیا تھاجہاں پہ بکھرا پڑا تھا پہلے تمہارے محرم کا اسپ تازیاور اب وہ ناقہ کے استخواں بھیتمہارے محرم کے اسپ تازی کے استخوانوں میں مل گئے ہیںحریم محمل وہی وہ پتھر تھے جن پہ رکھے تھے میں نے مہر و وفا کے نامےجہاں پہ زندہ رتوں میں باندھے تھے تم نے پیمان و عہد اپنےمگر وہ پتھر کہ اب عجائب کی کار گہہ ہیںتمہارے نامے کی اس عبارت کو کھا گئے ہیںشفا کے ہاتھوں سے جس کو تم نے رقم کیا تھاسو اب نہ ناقہ نہ کوئی نامہ نہ لے کے آیا جواب نامہمیں نامراد و خجل مسافرمگر تمہارا امین قاصد عزا کی وادی سے لوٹ آیااور اس نجیب و کریم محرم وفا کے پیکر کو دیکھ آیاجو آنے والے دنوں کی گھڑیاں ابد کی سانسوں سے گن رہا ہے
ہر چند آ رہا ہے زمانہ میں انقلابلیکن زبان حال سے کہتا ہے آفتابنسلی غلام دیکھ رہے ہیں ہنوز خوابآزاد اگر نہیں ہے تو ہندوستاں نہیں
میں اس کی سانسیں سونگھتا ہوادریاؤں اور میدانوں میں داخل ہوا تھااور وہ مجھے زرخیز زمین کی طرح ملی تھیمیں تاریک رات میں جنما ہوا مہتاب تھااور وہ شریانوں سے خون اچھال دینے والی تمازت تھیمیں ریت کی کشادہ دامنی تھااور اس کی پشت سرما کے سورج کی طرح تھیمیں ایڑ لگائے ہوئے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کودنے والے کا بیٹا تھااور اس کی آنکھوں میںجاٹوں کی خوں ریز صدیاں چنوتی دیتی تھیںوہ گناہ کی طرح نمکین تھیاور وہ ذائقہ تھی جو چکھے بغیر زبان پر پھر جاتا تھااور میں اس کی گدی میں دانت گاڑ دینے کی حسرت میں تھاوہ دھرتی پر پھیلا ہوا سرسوں کا کھیت تھیاور اس کے ہاتھ گندم کاٹنے والی ماں نے بنائے تھےاور اس کی ناف کے گرد بھرا پرا شکم تھااور اس کی گھنڈی میں ایسی جان تھیکہ اس کا باپ موریا عہد میں پتھر چمکانے کا کاری گر معلوم ہوتا تھااور اس کے جسم میں توے پر سرخ کی ہوئی روٹی کی خوشبو تھیاور میں آنتوں سے اگی ہوئی آرزو تھااور میں تلواروں کی موسیقی پر پڑھا ہوا رجز تھااور میں تیر کھائے ہوئے گھوڑے سے گری ہار تھااور وہ طعنے سے دہکی ہوئی ونگار تھیاور وہ ایسی جیت تھیجس کی یاد میںزمین پر کوئی لاٹھ گاڑی جا سکتی تھی
یہ کیسے آنسو ہیںان کے ہونے کا رازدکھ یا خوشی ہے کوئیخوشی کا آخر کو نام کیا ہےدکھوں کی نسلی شناخت کیا ہے
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
ہمارا فخر تھا فقر اور دانش اپنی پونجی تھینسب ناموں کے ہم نے کتنے ہی پرچم لپیٹے ہیںمرے ہم شہر زریونؔ اک فسوں ہے نسل، ہم دونوںفقط آدم کے بیٹے ہیں فقط آدم کے بیٹے ہیںمیں جب اوسان اپنے کھونے لگتا ہوں تو ہنستا ہوںمیں تم کو یاد کر کے رونے لگتا ہوں تو ہنستا ہوںہمیشہ میں خدا حافظ ہمیشہ میں خدا حافظخدا حافظخدا حافظ
خون اپنا ہو یا پرایا ہونسل آدم كا خون ہے آخرجنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میںامن عالم كا خون ہے آخر
جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کریںیہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں
تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میںیا بزم طرب آرائی میںمیرے سپنے بنتی ہوں گی بیٹھی آغوش پرائی میںاور میں سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوںجینے کی خاطر مرتا ہوںاپنے فن کو رسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوںمجبور ہوں میں مجبور ہو تم مجبور یہ دنیا ساری ہےتن کا دکھ من پر بھاری ہےاس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہےمیں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیںچاہا تو مگر اپنا نہ سکیںہم تو دو ایسی روحیں ہیں جو منزل تسکیں پا نہ سکیںجینے کو جئے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیںخاموش وفائیں جلتی ہیںسنگین حقائق زاروں میں خوابوں کی ردائیں جلتی ہیںاور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیںپھر دو دل ملنے آئے ہیںپھر موت کی آندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیںمیں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہوان کا بھی جنوں ناکام نہ ہوان کے بھی مقدر میں لکھی اک خون میں لتھڑی شام نہ ہوسورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھےچاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھےہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکامگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائےہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملیانہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائےبہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کاکہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیںبہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کاکہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیںبہت دنوں سے جوانی کے خواب ویراں ہیںبہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میںنگار زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈھتی ہےچلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سےکہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیںہمارا راز ہمارا نہیں سبھی کا ہےچلو کہ سارے زمانے کو رازداں کر لیںچلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیںکہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہےجسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئےہمیں حیات کے اس پیرہن سے نفرت ہےکہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیاتو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گیہر ایک موج ہوا رخ بدل کے جھپٹے گیہر ایک شاخ رگ سنگ ہوتی جائے گیاٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہہ دیںکہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہےہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیںہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہےکہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرےاب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گییہ کھیت جاگ پڑے اٹھ کھڑی ہوئیں فصلیںاب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گییہ سر زمین ہے گوتم کی اور نانک کیاس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھیہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لئےہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھیکہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہےتو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیںجنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سےزمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیںگذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیںگذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیںتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دےخضر کا پیغام کیا ہے یہ پيام کائناتاے کہ تجھ کو کھا گیا سرمايہ دار حيلہ گرشاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری براتدست دولت آفريں کو مزد یوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشيشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نباتنسل قومیت کلیسا سلطنت تہذیب رنگخواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکراتکٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیےسکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیاتمکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دارانتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور ماتاٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہےمشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہےہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبولغنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلکنغمۂ بيداریٔ جمہور ہے سامان عیشقصۂ خواب آور اسکندر و جم کب تلکآفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہواآسمان ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلکتوڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمامدوریٔ جنت سے روتی چشم آدم کب تلکباغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہارزخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلککرمک ناداں طواف شمع سے آزاد ہواپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہودنیائے اسلام
اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جواس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکیاسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جواس سے پہلے مری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی
مگر یہ سطریں بڑی عجب ہیںکہیں توازن بگڑ گیا ہےیا کوئی سیون ادھڑ گئی ہے:''فرار ہوں میں کئی دنوں سےجو گھپ اندھیرے کی تیر جیسی سرنگ اک کان سےشروع ہو کے دوسرے کان تک گئی ہے،میں اس نلی میں چھپا ہوا ہوں،تم آ کے تنکے سے مجھ کو باہر نکال لینا
''خواب لے لو خواب۔۔۔۔''صبح ہوتے چوک میں جا کر لگاتا ہوں صداخواب اصلی ہیں کہ نقلی؟''یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کرخواب داں کوئی نہ ہو!
مگر میں آج بہت دور جانے والا ہوںبس اور چند نفس کو تمہارے پاس ہوں میںتمہیں جو پا کے خوشی ہے تم اس خوشی پہ نہ جاؤتمہیں یہ علم نہیں کس قدر اداس ہوں میںکیا تم کو خبر اس دنیا کی کیا تم کو پتہ اس دنیا کامعصوم دلوں کو دکھ دینا شیوہ ہے اس دنیا کاغم اپنا نہیں غم اس کا ہے کل جانے تمہارا کیا ہوگاپروان چڑھو گی تم کیسے جینے کا سہارا کیا ہوگاآؤ کہ ترستی بانہوں میں اک بار تو تم کو بھر لوں میںکل تم جو بڑی ہو جاؤ گی جب تم کو شعور آ جائے گاکتنے ہی سوالوں کا دھارا احساس سے ٹکرا جائے گاسوچو گی کہ دنیا طبقوں میں تقسیم ہے کیوں یہ پھیر ہے کیاانسان کا انساں بیری ہے یہ ظلم ہے کیا اندھیر ہے کیایہ نسل ہے کیا یہ ذات ہے کیا یہ نفرت کی تعلیم ہے کیوںدولت تو بہت ہے ملکوں میں دولت کی مگر تقسیم ہے کیوںتاریخ بتائے گی تم کو انساں سے کہاں پر بھول ہوئیسرمائے کے ہاتھوں لوگوں کی کس طرح محبت دھول ہوئیصدیوں سے برابر محنت کش حالات سے لڑتے آئے ہیںچھائی ہے جو اب تک دھرتی پر اس رات سے لڑتے آئے ہیںدنیا سے ابھی تک مٹ نہ سکا پر راج اجارہ داری کاغربت ہے وہی افلاس وہی رونا ہے وہی بیکاری کامحنت کی ابھی تک قدر نہیں محنت کا ابھی تک مول نہیںڈھونڈے نہیں ملتیں وہ آنکھیں جو آنکھیں ہو کشکول نہیںسوچا تھا کہ کل اس دھرتی پر اک رنگ نیا چھا جائے گاانسان ہزار برسوں کی محنت کا ثمر پا جائے گاجینے کا برابر حق سب کو جب ملتا وہ پل آ نہ سکاجس کل کی خاطر جیتے جی مرتے رہے وہ کل آ نہ سکالیکن یہ لڑائی ختم نہیں یہ جنگ نہ ہوگی بند کبھیسو زخم بھی کھا کر میداں سے ہٹتے نہیں جرأت مند کبھی
اپنے اندر ذرا جھانک میرے وطنتو دراوڑ ہے یا آریہ نسل ہے
عزت کی بہت سی قسمیں ہیںگھونگھٹ تھپڑ گندمعزت کے تابوت میں قید کی میخیں ٹھونکی گئی ہیںگھر سے لے کر فٹ پاتھ تک ہمارا نہیںعزت ہمارے گزارے کی بات ہےعزت کے نیزے سے ہمیں داغا جاتا ہےعزت کی کنی ہماری زبان سے شروع ہوتی ہےکوئی رات ہمارا نمک چکھ لےتو ایک زندگی ہمیں بے ذائقہ روٹی کہا جاتا ہےیہ کیسا بازار ہےکہ رنگ ساز ہی پھیکا پڑا ہےخلا کی ہتھیلی پہ پتنگیں مر رہی ہیںمیں قید میں بچے جنتی ہوںجائز اولاد کے لئے زمین کھلنڈری ہونی چاہئےتم ڈر میں بچے جنتی ہو اسی لئے آج تمہاری کوئی نسل نہیںتم جسم کے ایک بند سے پکاری جاتی ہوتمہاری حیثیت میں تو چال رکھ دی گئی ہےایک خوب صورت چالچھوٹی مسکراہٹ تمہارے لبوں پہ تراش دی گئی ہےتم صدیوں سے نہیں روئیںکیا ماں ایسی ہوتی ہےتمہارے بچے پھیکے کیوں پڑے ہیں
یہ وطن تیری مری نسل کی جاگیر نہیںسینکڑوں نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے اسے
وہ کیسا شعبدہ گر تھاجو مصنوعی ستاروںاور نقلی سورجوں کیاک جھلک دکھلا کےمیرے سادہ دل لوگوںکی آنکھوں کے دیئےہونٹوں کے جگنولے گیااور اب یہ عالم ہےکہ میرے شہر کاہر اک مکاںاک غار کی مانندمحروم نوا ہےاور ہنستا بولتا ہر شخصاک دیوار گریہ ہے
زمیں نے کیا اسی کارن اناج اگلا تھاکہ نسل آدم و حوا بلک بلک کے مرے
وہ بچھڑا ہے تو یاد آیاوہ اکثر مجھ سے کہتا تھامحبت وہ نہیں ہے جو یہ نسل نو سمجھتی ہےیہ پہروں فون پر باتیںیہ آئے دن ملاقاتیںاگر یہ سب محبت ہےتو تف ایسی محبت پرمحبت تو محبت ہےوصال و وصل کی خواہش سے بالاترکہا کرتامحبت قرب کی خواہش پہ آئے تو سمجھ لیناہوس نے سر اٹھایا ہےہوس کیا ہےفقط جسموں کی پامالی فقط تذلیل روحوں کیکہا کرتا محبت اور ہوتی ہےہوس کچھ اور ہوتی ہےسو جب بھی قرب کی خواہش پہ آ جائے محبت توسنو پھر دیر مت کرنا وہیں رستہ بدل لیناوہ بچھڑا ہے تو یاد آیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books