aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tarz"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوک دشنامچھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرز ملامتاس عشق نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دلہر داغ ہے اس دل میں بجز داغ ندامت
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارکاک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاشہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتےجمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میںبندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
مجھے زندگی سے عزیز ترفقط ایک تیری ہی ذات تھیتری ہر نگاہ مرے لیےسبب سکون حیات تھیمری داستان وفا کبھیتری شرح حسن صفات تھیمگر اب تو رنگ ہی اور ہےنہ وہ طرز ہے نہ وہ طور ہےیہ ستم بھی قابل غور ہےتجھے اپنے حسن کا واسطہمجھے بھول جا مجھے بھول جاقسم اضطراب حیات کیمجھے خامشی میں قرار ہےمرے صحن گلشن عشق میںنہ خزاں ہے اب نہ بہار ہےیہی دل تھا رونق انجمنیہی دل چراغ مزار ہےمجھے اب سکون دگر نہ دےمجھے اب نوید سحر نہ دےمجھے اب فریب نظر نہ دےنہ ہو وہم عشق میں مبتلامجھے بھول جا مجھے بھول جا
آواز میں یہ رس یہ لطافت یہ اضطرارجیسے سبک مہین رواں ریشمی پھوارلہجے میں یہ کھٹک ہے کہ ہے نیشتر کی دھاراور گر رہا ہے دھار سے شبنم کا آبشارچہکی جو تو چمن میں ہوائیں مہک گئیںگل برگ تر سے اوس کی بوندیں ٹپک گئیں
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنازندگی تلخ سہی زہر سہی سم ہی سہیدرد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہیلیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھظلم کی چھاؤں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑجلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہرہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کے گروہبھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیںتیرہ و تار مکاں مفلس و بیمار مکیںنوع انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضادامن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فسادہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلاب عظیمنت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیملہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماںاور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواںیہ فلک بوس ملیں دل کش و سیمیں بازاریہ غلاظت پہ جھپٹتے ہوئے بھوکے ناداردور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطارسرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گل زاردر و دیوار پہ انوار کا سیلاب رواںجیسے اک شاعر مدہوش کے خوابوں کا جہاںیہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دےکون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دےاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
میں جب بھی تیرے فراق کا نوحہ لکھ کے لاؤںسخن شناسوں کو میرا طرز عمل نہ بھائےتری محبت کا درد ہو جس غزل میں شاملکسی کو ایسی غزل نہ بھائےجواب آئےکہ جانے والوں کو یاد کرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےمیں تیری یادوں کو گوندھ کر اپنی حسرتوں میںتراشتا ہوں اگر ترا دل نواز پیکروہ لوگ دیتے ہیں مجھ کو بت پرستی کا طعنہجڑے ہیں جن کے دلوں میں پتھروہی صنم گرکریں نصیحت بتوں پہ مرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےمیں ذکر کرتا ہوں جب وصل کی رتوں کاتو شہر کے سارے پارسا مجھ کو ٹوکتے ہیںخلاف اخلاق جن کے نزدیک ہے محبتوفاؤں سے مجھ کو روکتے ہیںکچوکتے ہیںکہ اپنی عزت پہ نام دھرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےاگر کبھی میں جدائیوں کا سبب بتاؤںتو میری نظموں سے خوف کھانے لگیں جریدےسماج پر احتجاج کرنے کا حق جو مانگوںکوئی یہ کہہ کر زبان سی دےلکھو قصیدےکہ خود کو یوں بے لگام کرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےاسی لیے تو حبیب میرےیہ میری غزلیں یہ میری نظمیںجو میں نے تجھ سے بچھڑ کے لکھیںانہیں کوئی چھاپتا نہیں ہے
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہےعشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہےطائر زیر دام کے نالے تو سن چکے ہو تمیہ بھی سنو کہ نالہ طائر بام اور ہےآتی تھی کوہ سے صدا راز حیات ہے سکوںکہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہےجذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کااس کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہےموت ہے عیش جاوداں ذوق طلب اگر نہ ہوگردش آدمی ہے اور گردش جام اور ہےشمع سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا سازغم کدۂ نمود میں شرط دوام اور ہےبادہ ہے نيم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھیرہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسیا ابھی
لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑیئےیہ تجارت ہے خلاف آدمیت چھوڑیئےاس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑیئےروز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑیئے
آپ کو بند غلامی سے چھڑانا ہے ہمیںخود محبت کو بھی آزاد بنانا ہے ہمیںاک نئی طرز پہ دنیا کو سجانا ہے ہمیں
اب جو چاہو وہ کرو رحم و کرم ہو کہ ستماب نہیں طرز تغافل کا مرے عشق کو غمشوق سے میری تمناؤں کی بربادی ہوکچھ بھی ہو تم مرے احساس کی شہزادی ہو
شاعری کی دو صنفیں ہیں نظم و غزلاردو میں ان کی شہرت ہے بچو اٹلنظم پابند ہے نظم آزاد بھییہ کبھی نثر ہے اور معرا کبھینظم پابند میں وزن ہوگا میاںاور آزاد میں بھی ہے اس کا نشاںنظم پابند کا طرز ہے جو لطیفاس میں پاؤ گے تم قافیہ و ردیفنثری نظموں میں بس نثر ہی نثر ہےوزن اور قافیہ ہے نہ ہی بحر ہےوزن اور قافیے جن کو مشکل ہوئےنثری نظمیں عموماً وہ کہتے لگےوزن نظم معرا میں ہے دوستواس کو تم بے ردیف و قوافی کہومثنوی ہو قصیدہ ہو یا مرثیہنظم کا ملتا ہے بچو ہم کو پتانظم میں سلسلہ ہے خیالات کاایک دریا سا ہے دیکھو جذبات کاوہ مخمس ہو یا ہو مسدس کوئییہ بھی اک شکل ہے نظم پابند کیوہ غزل ہو کہ ہو نظم بچو سنودونوں یکساں ہیں شہرت میں بس جان لوجوشؔ کی نظمیں مشہور ہیں ہر جگہہیں غزل کے جگرؔ واقعی بادشہنظم میں جو کہانی کہی جائے گیشوق سے اے میاں وہ سنی جائے گینظمیں سیماب و اقبال نے بھی لکھیںجو نہایت ہی مشہور ثابت ہوئیںکرتا ہوں بچوں کے واسطے میں دعانظمیں بچوں کی لکھتا ہوں حافظؔ سدا
گئے برسوں اک حاصل کیا!فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میںکیک کے زینے پہ چڑھتی ہےذرا سی پھونک پر ہم راہیوں کے ساتھ بجھتی ہےدھواں چکرا کے روشن دان سے باہر نکلتا ہےچھری کی دھار سے کتنے برس کاٹوں!ہوا کا آشنا چہرہ مری آنکھوں میں رہتا ہےگئے لمحوں کو دہراتی ہوا طرز محبت ہےوہ آئے تو نئے لمحوں کی رسی تھام کر چل دوںکہیں اندر رکی پھونکیں لبوں تک آئیںتو یہ بتیاں گل ہوںابھی کل کے دریچے کھل نہیں پائےمناظر دھند میں ہیںآنسوؤں سے دھل نہیں پائے
چمن میں لائی ہے پھولوں کی آرزو تجھ کوملا کہاں سے یہ احساس رنگ و بو تجھ کوتری طرح کوئی سرگشتۂ جمال نہیںگلوں میں محو ہے کانٹوں کا کچھ خیال نہیںخزاں کا خوف نہ ہے باغباں کا ڈر تجھ کومآل کار کا بھی کچھ خطر نہیں تجھ کوخوش اعتقاد و خوش آہنگ خوش نوا بلبلجگر کے داغ کو پر نور کر دیا کس نےتجھے اس آگ سے معمور کر دیا کس نےیہ دل یہ درد یہ سودا کہاں سے لائی ہےکہاں کی تو نے یہ طرز فغاں اڑائی ہے
اے آب رود گنگا اف ری تری صفائییہ تیرا حسن دلکش یہ طرز و دلربائیتیری تجلیاں ہیں جلوہ فروش معنیتنویر میں ہے تیری اک شان کبریائیجمنا تری سہیلی گو ساتھ کی ہے کھیلیاس میں مگر کہاں ہے تیری سی جاں فزائیبے لوث تیرا دامن ہے داغ معصیت سےموزوں ہے تیرے قد پر ملبوس پارسائیدل بند ہم ہیں تیرے لخت جگر ہیں تیرےنخل مراد ہے تو اور ہم ثمر ہیں تیرے
اپنے بھارت سے غریبی کو مٹانا ہے ہمیںاپنی محنت سے نئے دور کو لانا ہے ہمیںدیش میں ناج کا انبار لگانا ہے ہمیںکارخانوں میں ہر اک چیز بنانا ہے ہمیںساز محنت پہ نئے طرز سے گائیں ہولیدوستو آؤ چلو ایسی منائیں ہولی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books