aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vaada-e-naa-mo'tabar"
ادھر بھی تشنہ لبی مستقل نہیں جاتییہاں بھی نشۂ نا معتبر ہے چارہ گرو
وہ ابنارمل نہیں تھاصرف اس کو نارمل بننے کی حسرت تھیکئی خانوں میں اس کی زندگی بٹنے لگی تھیوہ اپنی کوشش نا معتبر سے تنگ آ کرنیم جاں ہو کرایک خانے میں پنہ لینے لگا تھابنی آماج گاہ تیر نفرت شخصیت اس کیاسے بھی خود سے نفرت ہو چکی تھیمگر اس نفرت مانوس کی تکرار سے اس نےدرشت و نا موافق زندگی سے صلح کر لی تھییہی تھا کیسۂ اخلاق اس کاغریبی نے شرافت چھین لی تھیاور اس کی شخصیت کے پیرہن میںگہر باروں کے بدلے سنگ ریزے جڑ دیے تھےوہ ابنارمل نہیں تھامگر اب اس میں خود کو نارمل کرنے کا یارا بھی نہیں تھااسے اب یہ گوارا بھی نہیں تھاگلی کوچوں کی ساری گندگی کاتیرگی کاوہ اب حق دار وارث بن چکا تھا
وہی قسمیں شب نا معتبر کیوہی رسمیں ہیں شہر سنگ دل کیوہی دیوار بے روزن کہ جس کوزبانیں دن ڈھلے تک چاٹتی ہیں
میرے دل کو یقیں تھاکسی نے سچ کہا ہےکہ رشتے مر نہیں سکتےہمارے درمیاں جب رابطے نا معتبر ٹھہریںتو رشتے کام آتے ہیںیہ ٹوٹے رابطوں کو جوڑ دیتے ہیںمرے دل کو یقیں تھامگر ان چند برسوں میںکچھ ایسے اجنبی موسم مرے اندر اتر آئےسمے کے ساتھ اب مجھ کویقیں ہونے لگا ہےکہ ایسا بھی تو ہوتا ہےہمارے درمیاں جب رابطے نا معتبر ٹھہریںتو رشتے سر پٹک کے مر بھی جاتے ہیں
کوئی بتائے کہاں شہر آرزو ہوگاکہ جس مقام پہ دامن کے چاک سلتے ہیںنئی حیات نئی صبح و شام ملتے ہیںاداس اداس ہیں راتیں اداس اداس ہیں دنکٹے گی راہ کوئی داستاں سناتے چلوحکایت بت لالہ و شاں سناتے چلوکسی کی زود پشیماں نگاہیوں کا طلسمکسی خراب نگاہ کرم کا ذکر کرووفائے وعدہ و قول و قسم کا ذکر کروہر ایک آبلہ پا اور سر جنوں پیشہدلوں کے کعبے میں پتھر سجائے پھرتا ہےافق افق پہ نگاہیں جمائے پھرتا ہےاداس ہم سفرو سوئے دل بھی ایک نظراچھل رہا ہے بڑی دیر سے لہو اپنایہیں کہیں نہ ملے شہر آرزو اپنا
نشاط عمر کو امید پر نثار نہ کروصال صبح قیامت کا انتظار نہ کرریاض خلد کی باتوں کا اعتبار نہ کرفریب وعدۂ فردا مٹا بھی جا سلمیٰبہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ
وہ وعدہ آپ کاوعدہنہ اب تک ہو سکا پورازمیں بدلی زماں بدلامگر وہ وعدۂ فرداابھی تک اک معمہ ہےاگرچہ یہ حقیقت ہے کہرنگ خسروی بدلاجہان خود فراموشیکے بادل چھٹ گئے سارےشفق پھوٹی کرن پھوٹی دھنک ابھریمگر سورج جو نکلا صبح دم توخود اپنی تیرہ بختی پرپشیماں اورمگر وہ وعدۂ فرداابھی تک اک معمہ ہےخبر ہو آپ کو شاید کہظلمت کے شکنجے میںصداقتصبح کی دہلیز پرگھٹ گھٹ کےمرتی ہے سحر خواب پریشاں ہےوہ وعدہ آپ کاوعدہنہ جانے کبحدیث دل بنے گا اورمیزان صداقت میںتلے گا روبرو سب کے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو توسکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائےتری مسرت پیہم تمام ہو جائےتری حیات تجھے تلخ جام ہو جائےغموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیراہجوم یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائےوفور درد سے سیماب ہوکے رہ جائےترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائےغرور حسن سراپا نیاز ہو تیراطویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسےتری نگاہ کسی غم گسار کو ترسےخزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسےکوئی جبیں نہ ترے سنگ آستاں پہ جھکےکہ جنس عجز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرےفریب وعدۂ فردا پہ اعتماد کرےخدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئےوہ دل کہ تیرے لیے بے قرار اب بھی ہےوہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے
نہایت صاف گوئی سے مجھے اس نے بتایا ہےمجھے آواز مت دیناکبھی پر نور صبحوں میںکبھی رنگین شاموں میںکبھی خوابیدہ خوابوں میںمجھے آواز مت دیناکہ صوت و حرف کے جتنے تعلق تم سے قائم تھےوہ سب نا معتبر ٹھہرےمحبت کی جنوں خیزی تو بس اک عارضی شے تھیقبائے شوق کے سب رنگ کچے تھےسو میں نے اب دوپٹے کے کسی پہلو سےکوئی بھی گرہ باقی نہیں رکھیکوئی خواہش کوئی چاہت کوئی حسرت نہیں رکھیجو کوئی کانچ کا ٹکڑاکسی وعدے کا بوسیدہ تیقنیا کوئی امید کا اک پلتمہارے پاس ہےتو لوٹا دومجھے اب یاد آیا ہےکہ آخر کو یہ ہونا تھایہی آخر میں ہونا ہے
یہ شفق فام زرد رو افرادسالہا سال سے اسیر حیاتزندہ رہنے کی کچھ خوشی ہے انہیںنہ ہی مرنے کا کچھ ذرا بھی ملالیہ وہ جاں دار ہیں کہ جن کے لئےلفظ آسودگی بہشت خیالکتنے بوسیدہ خال و خد ان کےجسم بس ہڈیوں کا ڈھانچہ ہےروح ورثے میں جو ملی ان کوایک نا معتبر اثاثہ ہےکیا کیا ہم نے اتنی صدیوں میںکیا؟ ترقی! جو ایک دھوکہ ہےایک مفلس غریب بیچارہکل بھی بھوکا تھا اب بھی بھوکا ہےلوگ اب بھی گزشتہ کی ماننددفن ہیں اپنی خواہشوں کے تلےیہ ترقی ہے ایک کذب محضاتنی صدیوں میں ہم نہیں بدلے
دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیںنگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیںنہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیںخدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار ''نہیں''ہمیشہ وعدے کیے اب کے مل ہی جا آ کرحیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیںدکھائی اپنی محبت کو چیر کر سینہمگر نمود مرا شیوہ و شعار نہیںمری بہن مری محبوبہ حب عجب شے ہےجہان خاک نہیں کچھ جو دوست دار نہیں
نہ وہ نشاط تصور کہ لو تم آ ہی گئےنہ زخم دل کی ہے سوزش کوئی جو سہنی ہونہ کوئی وعدہ و پیماں کی شام ہے نہ سحرنہ شوق کی ہے کوئی داستاں جو کہنی ہونہیں جو محمل لیلائے آرزو سر راہتو اب فضا میں فضا کے سوا کچھ اور نہیںنہیں جو موج صبا میں کوئی شمیم پیامتو اب صبا میں صبا کے سوا کچھ اور نہیں
پا بہ گل رات ڈھلے گی نہ سحر آئے گیکوئی سورج کسی مشرق سے نہ نکلے گا کبھیریزہ ریزہ ہوئے مہتاب زمانے گزرےبجھ گئے وعدۂ موہوم کے سارے جگنواب کوئی برق ہی چمکے گی نہ ابر آئے گاچار سو گھور اندھیرا ہے گھنا جنگل ہےتو کہاں جائے گی پھنکارتے سناٹے میںسرحد یاد گزشتہ سے پرے کچھ بھی نہیںدیکھ اصرار نہ کر مان بھی لے لوٹ بھی جامیں تری راہ کا پتھر سہی یہ بات تو سنآگے کھائی ہے اگر راہ کا پتھر ہٹ جائے
کیوں نہ اپنی ہستیٔ ناشاد کا شکوا کروںرنج و غم گھیرے ہوں جب مجھ کو تو میں بھی کیا کروںمیری قسمت میں لکھی ہے خار صحرا کی خلشکس توقع پر تمنائے گل رعنا کروںصبر کا پھل لوگ کہتے ہیں ملے گا ایک دنآہ کب تک انتظار وعدۂ فردا کروںکون کرتا ہے مداوا خاطر ناشاد کااپنی محرومی کا کس کے سامنے چرچا کروںدل کے داغوں کو سمجھ لوں کس طرح گلہائے ترغم سے کیسے ساز و سامان خوشی پیدا کروںگردش دوراں سے کہہ دو اس پہ میں راضی نہیںچند ساعت مسکرا کر عمر بھر رویا کروںمیں ازل سے درمیان رنج و راحت ہوں اسیرغم کو اپناؤں کہ راحت کو کروں تو کیا کروںایک مدت سے پریشاں خاطر ناشاد ہےسوچتا ہوں پارہ ہائے دل کو پھر یکجا کروںایک حالت پر کبھی رہتا نہیں مجھ کو قرارہر سکوں کے بعد یہ ہے آرزو تڑپا کروںوہ سکون مستقل ہے یہ ہے پیہم اضطرابزندگانی کا گلہ یا موت کا شکوا کروں
مرا دل گرو مری جاں گروچلا آ کہ ہے مرا در کھلاتو مرا نصیب ہے راہرویہ ہوا یہ برق یہ رعد و ابر یہ تیرگیرہ انتظار کی نارسیمرے جان و دل پہ ہیں لو بتومرے میہماں مرے راہرواے گریز پا تو سراب دشت خلا نہ بنوہ نوا نہ بن جو فریب راہ گزار ہووہ فسون ارض و سما نہ بنجسے دل گرفتوں سے عار ہوجو تجھے بلاتی ہے پے بہ پےوہ صدا جلاجل جاں کی ہےوہ صدا مرور زماں کی ہےکسے اس صدا سے فرار ہومرا دل گرو مری جاں گروتری کن مکن تری رو مرومجھے بار جاںکہ میں حرف جس کا بیاں ہے تومیں وہ جسم جس کی رواں ہے توتو کلام ہے میں تری زباںتو وہ شمع ہے کہ میں جس کی لوکسی نقش کار کا اک نفسکئی صورتیں جو سدا سے تشنۂ رنگ تھیںہوئیں وصل معنی سے بارورکسی بت تراش کی اک نگہکئی سنگ اذیت یاس و مرگسے بچ گئےہوئے سمت راہ سے با خبرچلا آ کہ میری ندا میں بھیوہی رویت ازلی کہ ہےجسے یاد غایت رنگ و بوجسے یاد راز مے و سبوجسے یاد وعدۂ تار و پوچلا آ کہ میری ندا میں بھیاسی کشف ذات کی آرزو
بڑا پر ہول رستہ تھابدن کے جوہر خفتہ میں کوئی قوت لاہوت مدغم تھیکسی غول بیابانی کی گردش میرے دست و پا کی محرم تھیدہان جاں سے خارج ہونے والی بھاپ میں تھے سالمات درد روشنگزر گاہوں کے سب نا معتبر پتھرخلا میں اڑنے والی پست مٹی کے سیہ ذرےپہاڑ اور آئنے سائے کرے پیڑوں کے پتےپانیوں کی گول لہریںرات کی لا علم چیزیںشش جہت کے سب عناصر زور سے پیچھے ہٹے تھےاور میں آگے ہزاروں کوس آگے بڑھ گیا تھااک عجب رفتار میری آگ میں تھیکس قدر پر ہول رستہ تھاپڑاؤ کے لیے کتنے جزیرے درمیاں آئےزمیں مڑ مڑ کے آئی اور اک اک کر کے ساتوں آسماں آئےمسلسل چل رہا تھا میںہوا میں ڈھل رہا تھا میںمساموں سے شعاع بے نہایت پھوٹی پڑتی تھیابد کا اک جڑاؤ تاج میرے سر پہ رکھا تھابڑا پر ہول رستہ تھاکوئی برق شباہت آرزو بردار میری آگ میں تھیاک عجب رفتار میری آگ میں تھی
میری پلکوں کو مت دیکھوان کا اٹھنا ان کا جھپکنا جسم کا نا محسوس عمل ہےمیری آنکھوں کو مت دیکھوان کی اوٹ میں شام غریباں ان کی آڑ میں دشت ازل ہےمیرے چہرے کو مت دیکھواس میں کوئی وعدۂ فردا اس میں کوئی آج نہ کل ہےاب اس دریا تک مت آؤ جس کی لہریں ٹوٹ چکی ہیںاس سینے سے لو نہ لگاؤ جس کی نبضیں چھوٹ چکی ہیںاب میرے قاتل کو چاہومیرا قاتل مرہم مرہم دریا دریا ساحل ساحلقاضئ شہر کا ماتھا چوموجس کے قلم میں زہر ہلاہل جس کے سخن میں لحن ہلاہلاب اس رقص کی دھن پہ ناچوجس کی گیت پہ لٹ گیا قاضی جس کی لے پر بک گیا قاتل
حسن کو بد گمان رہنے دےراز دل راز دان رہنے دےنگۂ نیم کش کی عمر درازنوبت اک درمیان رہنے دےحسرت عنفوان راز و نیازروح پر حکمران رہنے دےعشق کی کائنات ہے حرماںآرزو کا زیان رہنے دےنقش نا کندہ کے تصور کایہ مٹا سا نشان رہنے دےقسمت عشق تو ہے قسمت عشقبارے منت کی شان رہنے دےنا سزا واریوں کا کیا کہنابس انہیں مہربان رہنے دےہاں مجھے خود ہے اعتراف شکستاب مرا امتحان رہنے دےوعدۂ شوق تھا فریب آمیزبس اسے رائیگان رہنے دےدوست کس کس کا تھا دل بے دوستیہ زبوں داستان رہنے دےہدئیے کیا کیا دئے تھے کس کس کوشرح یہ قصہ خوان رہنے دےمیرے تحت الشعور کی دنیاتہہ نشیں اور نہان رہنے دےرہی کن گل رخوں سے شیفتگیاب یہ شیوہ بیان رہنے دےبھول پھولوں کی پیار شاہیں کاسوانگ یہ گل فشان رہنے دےہے جہاں گرد اور حجاز پرستلاابالی جوان رہنے دےغایت عاشقی ہوس کاریہے بجا میری جان رہنے دےشوق تھا شوق تا غبار گماںمٹ چکا وہ جہان رہنے دے
وہ باد سرد کی بے مہر تیزی ہےکہ خون دل بھی اب کچھ منجمد معلوم ہوتا ہےنہ وہ شوریدگی باقی نہ اب وہ شور گریہ ہےمرے داغ جگر سے وہ تراوش بھی نہیں ہوتیمری رعنائیاں مجھ سے گریزاں ہیںوہ میری فطرت معصوم وہ میری جگر سوزیوہ میری درد مندی وہ خموشی وہ کم آمیزیوہ اشکوں کی دلآویزیہر اک شے مائل پرواز ہو جیسےمجھے اس کا بہت غم ہےابھی تک اس زوال دلبری کا دل کو ماتم ہےمیں حیراں ہوں کہ کیا یزداں بھی کوئی طفل مکتب ہےکہ جو یوں کھیل کر پر نوچ لیتا ہے پتنگوں کےوہ کیسی صورتیں ہوں گی جو زیر خاک پنہاں ہیںمگر وہ لوگ جو مٹنے سے پہلے ماند پڑ جائیںوہ جن کی گفتگو بھی ایک سرگوشی سی بن جائےوہ افسردہ پشیماں مضمحل مایوس آئے جوفراموشی کی منزل کی طرف چپکے سے بڑھتے ہیںبھلا ان کی تلافی وعدۂ رنگیں سے کیا ہوگیخدائے دو جہاں ہے تو بھی کتنا شوخ و بے پروا
وادیٔ مجنون میںآبروئے خون میںروئے سرشار و حسیںمنظر شب کے قریںمیں تمہیں ترتیب دوںقرب کی ترغیب دوںعکس کی تعریف میںرسم کی تحریف میںایک افسانہ کہوںصبح تک جلتا رہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books