عناصر شاعری پر شعر

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

تشریح

چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:

ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ

اب عناصر میں اعتدال کہاں

انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔

شفق سوپوری

چکبست برج نرائن

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب

وہ عناصر میں اعتدال کہاں

مرزا غالب

موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے

روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا

خورشید رضوی

کون تحلیل ہوا ہے مجھ میں

منتشر کیوں ہیں عناصر میرے

وکاس شرما راز

ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں

شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ

میر تقی میر

ایک ہستی مری عناصر چار

ہر طرف سے گھری سی رہتی ہے

غلام مرتضی راہی

عناصر کی کوئی ترتیب قائم رہ نہیں سکتی

تغیر غیر فانی ہے تغیر جاودانی ہے

متین نیازی

اب عناصر میں توازن ڈھونڈنے جائیں کہاں

ہم جسے ہم راز سمجھے پاسباں نکلا ترا

امین راحت چغتائی

ہر روح پس پردۂ ترتیب عناصر

ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہے

جمنا پرشاد راہیؔ

اختلاط اپنے عناصر میں نہیں

جو ہے میرے جسم میں بیگانہ ہے

منیرؔ  شکوہ آبادی

میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا

مری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھا

اسامہ ذاکر

عناصر کی گھنی زنجیر ہے

سو یہ ہستی کی اک تعبیر ہے

خالد مبشر

زمیں نئی تھی عناصر کی خو بدلتی تھی

ہوا سے پہلے جزیرے پہ دھوپ چلتی تھی

بلال احمد