زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
EXPLANATION #1
چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:
ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ
اب عناصر میں اعتدال کہاں
انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔
شفق سوپوری
-
موضوعات : زندگیاور 2 مزید
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں مرزا غالب بڑھاپے اور کمزوری کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی تب تک قائم رہتی ہے جب تک عناصرِ اربعہ میں اعتدال ہو، لیکن اب چونکہ یہ توازن بگڑ چکا ہے، اس لیے تمام حواس اور طاقتیں جواب دے گئی ہیں۔
کون تحلیل ہوا ہے مجھ میں
منتشر کیوں ہیں عناصر میرے
موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے
روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا
-
موضوع : موت
میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا
مری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھا
ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں
شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر اس شعر میں کائنات کی صورتوں کو ایک طرح کا فریبِ نظر اور تماشہ قرار دیتے ہیں۔ چار عناصر—خاک، آب، ہوا اور آگ—آپس میں مل کر نت نئی شکلیں بناتے اور بدلتے رہتے ہیں، اسی کو شاعر نے “شعبدے” کہا ہے۔ احساس یہ ہے کہ جو کچھ ہمیں ٹھوس حقیقت لگتا ہے وہ دراصل مسلسل تغیر کی جادوگری ہے۔
اب عناصر میں توازن ڈھونڈنے جائیں کہاں
ہم جسے ہم راز سمجھے پاسباں نکلا ترا
عناصر کی کوئی ترتیب قائم رہ نہیں سکتی
تغیر غیر فانی ہے تغیر جاودانی ہے
ہر روح پس پردۂ ترتیب عناصر
ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہے
ایک ہستی مری عناصر چار
ہر طرف سے گھری سی رہتی ہے
اختلاط اپنے عناصر میں نہیں
جو ہے میرے جسم میں بیگانہ ہے
عناصر کی گھنی زنجیر ہے
سو یہ ہستی کی اک تعبیر ہے
زمیں نئی تھی عناصر کی خو بدلتی تھی
ہوا سے پہلے جزیرے پہ دھوپ چلتی تھی