بے ثباتیٔ دنیا پر شاعری

زندگی کی بے ثباتی کا موضوع شاعروں کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ یہی وہ واحد سچ ہےجس سے انکار کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ گزرتا ہوا ہرلمحہ ہمیں بے ثباتی کے اسی احساس سے بھرتا ہے ۔ زندگی کی تمام چمک دمک فنا پذیری کی طرف رواں دواں ہے ۔ یہ شاعری پڑھئے اوراس احساس کو تازہ کیجئے ۔

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

ندا فاضلی

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

breathe here softly as with fragility here all is fraught

in this workshop of the world where wares of glass are wrought

breathe here softly as with fragility here all is fraught

in this workshop of the world where wares of glass are wrought

میر تقی میر

کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات

کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

میر تقی میر

سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی

کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے

اصغر گونڈوی

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے

انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

سیماب اکبرآبادی

بے ثباتی زمانے کی ناچار

کرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے

محمد رفیع سودا

بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی

ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ہیں

عیش دہلوی

متعلقہ موضوعات