بے ثباتی پر اشعار

زندگی کی بے ثباتی کا

موضوع شاعروں کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ یہی وہ واحد سچ ہےجس سے انکار کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ گزرتا ہوا ہرلمحہ ہمیں بے ثباتی کے اسی احساس سے بھرتا ہے ۔ زندگی کی تمام چمک دمک فنا پذیری کی طرف رواں دواں ہے ۔ یہ شاعری پڑھئے اوراس احساس کو تازہ کیجئے ۔

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

ندا فاضلی

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

تشریح

اسی مضمون کو انہیں پیکروں کے ساتھ دیوان اوّل میں ایک جگہ اور لکھا ہے؎

ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں

یہ کارگاہ ساری دکان شیشہ گر ہے

لیکن ’’لے سانس بھی آہستہ۔۔۔‘‘ بہت بہتر شعر ہے، کیونکہ اس میں ’’سانس‘‘ کا لفظ شیشہ گری سے خاص مناسبت رکھتا ہے۔ (پگھلے ہوئے شیشے کو نلکی کے سرے پر رکھ کر پھونکتے ہیں اور اس طرح اسے مختلف شکلیں دیتے ہیں۔) زور کی ہوا چلے تو شیشے کی چیزیں گر کر یا آپس میں ٹکرا کر ٹوٹ جاتی ہیں، اور آفاق کی کارگاہ شیشہ گری میں ایسے نازک کام ہوتے ہیں کہ تیز سانس بھی ان کے لئے زور کی ہوا کا حکم رکھتی ہے۔ ’’ہردم قدم کو اپنے‘‘ میں لفظ ’’دم‘‘ کے ذریعہ سانس کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ’’دم قدم‘‘ میں بھی ایک لطف ہے، لیکن یہ دونوں چیزیں ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘ کے برابر بلاغت کی حامل نہیں ہیں۔ شعر کا مفہوم یہ ہے کہ صاحب نظر کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کی رنگا رنگی اور پیچ در پیچ نزاکت کو دیکھ کر حیرت میں آ جاتا ہے۔ ہر چیز انتظام سے چل رہی ہے، کہیں کوئی انتشار نہیں، معلوم ہوتا ہے کوئی بہت ہی نازک اور پیچیدہ کارخانہ ہے۔ صاحب نظر کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر زور کی سانس بھی لی تو یہ سب درہم برہم ہوجائے گا۔ یا شاید یہ سب کچھ ایک خواب ہے، جو ذرا سے اشارے پر برہم اور منتشر ہوسکتا ہے۔ اقبال کا مندرجہ ذیل شعر میر کے شعر زیر بحث سے براہ راست مستعار معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اقبال کا شعر غیر ضروری وضاحت اور خطابیہ انداز بیان کے باعث ناکام ٹھہرتا ہے؎

زندگی کی رہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل

یہ سمجھ لے کوئی مینا خانہ باردوش ہے

(بانگ درا۔ حصہ سوم)

اقبال کے شعر پر قائم چاند پوری کے ایک شعر کا بھی پرتو نظر آتا ہے۔ ممکن ہے قائم نے بھی میر سے استفادہ کیا ہو، قائم؎

یہ دہر ہے کار گاہ مینا

جو پاؤں رکھے سویاں تو ڈر کر

میر کے شعرِ زیر بحث اور قائم کے مندرجہ بالا شعر پر میں نے ’’شعر غیر شعر اور نثر‘‘ میں بھی کچھ اظہار خیال کیا ہے۔ قائم نے ایک اور جگہ میرسے ملتا جلتا مضمون باندھا ہے؎

غافل قدم کو رکھیو اپنے سنبھال کر یاں

ہر سنگ رہگذر کا دکان شیشہ گر ہے

یہاں قائم کا خطابیہ لہجہ شعر کے زور میں مخل ہے اور مصرع ثانی کا انکشافی انداز بھی لفظ ’’غافل‘‘ کو سنبھالنے کے لئے ناکافی ہے۔

نثار احمد فاروقی نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اگر اس شعر کو تصوف پر محمول کیا جائے تو اس میں ’’پاس انفاس‘‘ اور ’’ہوش دردم‘‘ کے اشارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ نکتہ دورازکار معلوم ہوتا ہے کیوں کہ پاس انفاس اور ہوش دردم صوفیانہ افکار و اعمال ہیں، ان کے حوالے سے آفاق کے کاموں کا نازک ہونا نہیں ثابت ہوتا۔

شمس الرحمن فاروقی

میر تقی میر

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے

انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

سیماب اکبرآبادی

کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات

کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

تشریح

یہ شعر اس قدر مشہور ہے کہ اس پر اظہار خیال شاید غیر ضروری معلوم ہو۔ لیکن درحقیقت اس میں کئی باتیں توجہ طلب ہیں۔ پہلا مصرع عام طور پر یوں مشہور ہے۔

"کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات"

لیکن یہ صحیح شکل وہی ہے جو درج متن ہے۔ ’’کتنا‘‘ کا لفظ مقدم ہونے سے مصرع میں زور بڑھ گیا ہے۔ شعر کا مفہوم اتنا واضح نہیں جتنا بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے۔ پہلے مصرع میں جو سوال ہے (گل کا ثبات کتنا ہے؟) اس کا مخاطب کوئی نہیں، وہ کلی تو ہرگز نہیں جس نے اسے ’’سن کر‘‘ جواب دیا ہے، بلکہ محض تبسم کیا ہے۔ ممکن ہے یہ سوال محض ایک خودکلامی ہو، اور اس کے جواب کی توقع پوچھنے والے کو نہ ہو۔ ممکن ہے یہ سوال نہ ہو بلکہ اظہار حیرت ہو کہ گل کا ثبات کتنا (یعنی کس قدر زیادہ، یا کس قدر کم) ہے! لیکن جواب پھول کی طرف سے نہیں آتا، ایک کلی ضرور مسکراتی ہے، لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ جواباً مسکرائی ہے۔ (یعنی اس کی مسکراہٹ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پھول کی زندگی بس اتنی ہے کہ کلی مسکرا کر پھول بن جائے، جتنا وقفہ کلی کو مسکرا کر پھول بننے میں لگتا ہے، اتنا ہی وقفہ پھول کو مرجھانے میں لگتا ہے۔) یا طنزاً مسکرائی ہے ۔ (یعنی اس کی مسکراہٹ زبان حال سے کہتی ہے کہ تم احمق ہو جو ایسا سوال پوچھتے ہو۔) یا شاید کلی اس لئے مسکرائی ہے کہ ’’گل کا ثبات کتنا ہے‘‘ کہنے والے شخص کا خود کچھ بھروسا نہیں، خود اس کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں، اور وہ اس فکر میں مبتلا ہے کہ گل کا ثبات کتنا ہے! یہ سوال پوری طرح نہیں ہوتا کہ کلی کیوں (جواباً یا طنزاً) مسکرائی ہے؟ ردعمل تو پھول کی طرف سے ہونا چاہئے تھا، لیکن پھول خاموش رہتا ہے۔غالباً اس وجہ سے کہ پھول کو یارائے گویائی نہیں۔ کِھل جانے کے بعد اس کی دل جمعی ختم ہوجاتی ہے۔ یا شاید اس وجہ سے کہ پھول کا وجود صرف اسی وقت تک ہے جب تک وہ کلی کی شکل میں ہے، کیوں کہ جب تک کلی ہے، پھول کا وجود برقرار ہے۔ کلی کھل کر پھول بنی تو اس کے وجود کو زوال آگیا، کیونکہ پھول بننے کے بعد مرجھانا لازم ہے۔ کلی کے مسکرانے میں ایک طرح کا الم ناک وقار (tragic dignity) بھی ہے، کیوں کہ مسکرانا اس کے لئے فنا کی تمہید ہے لیکن پھر بھی وہ مسکرانے سے باز نہیں آتی، کیونکہ اسے اپنی زندگی کے منصب سے عہدہ بر آ ہونا ہے۔ یہ نکتہ بھی دلچسپ ہے کہ پھول کے کان فرض کئے جاتے ہیں، لیکن وہ نہیں سنتا، کلی سنتی ہے اور تبسم کرتی ہے۔ شاید پھول کے کان محض مصنوعی ہیں، اور کیوں نہ ہوں، جب اس کا وجود ہی مشتبہ ہے۔ کلی شاید یہ کہہ رہی ہے کہ جب ہم کو ہی ثبات نہیں (ادھر مسکرائے ادھر ہوا ہوئے) تو پھول کو ثبات کہاں سے ہوگا۔

شمس الرحمن فاروقی

میر تقی میر

سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی

کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے

اصغر گونڈوی

بے ثباتی زمانے کی ناچار

کرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے

محمد رفیع سودا

بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی

ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ہیں

عیش دہلوی
بولیے