احسان پر شاعری

احسان کرنا ،احسان کرکے اس کا بدلہ چاہنا ،احسان فراموش ہوجانا ، احسان کے پردے میں تکلیف پہنچانا یہ سارے تجربے روز مرہ کے انسانی تجربے ہیں ۔ ہم ان سے گزرتے بھی ہیں اور اپنی عام زندگی میں ان کا گہرا احساس بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن شاعری ان تمام تجربوں کی جس گہری سطح سے ہمیں روشناس کراتی ہے اس سے زندگی کا ایک نیا شعور حاصل ہوتا ۔ عشق و عاشقی کے بیانیے میں احسان کی اور بھی کئی مزے دار صورتیں سامنے آئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے

چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری

جلیل مانک پوری

ہم سے یہ بار لطف اٹھایا نہ جائے گا

احساں یہ کیجئے کہ یہ احساں نہ کیجئے

حفیظ جالندھری

یہ ہے کہ جھکاتا ہے مخالف کی بھی گردن

سن لو کہ کوئی شے نہیں احسان سے بہتر

اکبر الہ آبادی

جس نے کچھ احساں کیا اک بوجھ سر پر رکھ دیا

سر سے تنکا کیا اتارا سر پہ چھپر رکھ دیا

anyone who did a favour placed a burden on my head

removed a straw from over me, and placed a mountain instead

جلالؔ لکھنوی

اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابر رواں اور

جب آگ ہو نم خوردہ تو اٹھتا ہے دھواں اور

حمایت علی شاعر

سر پہ احسان رہا بے سر و سامانی کا

خار صحرا سے نہ الجھا کبھی دامن اپنا

ظہیرؔ دہلوی

متعلقہ موضوعات