Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہندوستان پر اشعار

سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔ

قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا

ہند کی سرزمین پر، اے فراقؔ، دنیا کی مختلف قوموں کے قافلے آئے۔

وہ قافلے یہاں بسते چلے گئے اور یوں ہندوستاں کی صورت بنتی گئی۔

اس شعر میں ہندوستان کو ایک ایسی سرزمین کے طور پر دکھایا گیا ہے جہاں مختلف قومیں آتی رہیں اور یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ “قافلے” ہجرت اور آمدورفت کی مسلسل لہر کا استعارہ ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اسی میل جول اور بسنے کے عمل سے ہندوستاں کی مشترک شناخت تشکیل پاتی گئی۔

فراق گورکھپوری

کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافراں

ہندوستاں میں آئے ہیں ہندوستان کے تھے

جون ایلیا

الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں

ہزاروں بت ہیں یاں ہندوستان ہے

حیدر علی آتش
  • موضوعات : بت
    اور 1 مزید

جو یہ ہندوستاں نہیں ہوتا

تو یہ اردو زباں نہیں ہوتی

عبد السلام بنگلوری

جذبات بھی ہندو ہوتے ہیں چاہت بھی مسلماں ہوتی ہے

دنیا کا اشارہ تھا لیکن سمجھا نہ اشارا، دل ہی تو ہے

ساحر لدھیانوی
بولیے