سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔ
قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا
ہند کی سرزمین پر، اے فراقؔ، دنیا کی مختلف قوموں کے قافلے آئے۔
وہ قافلے یہاں بسते چلے گئے اور یوں ہندوستاں کی صورت بنتی گئی۔
اس شعر میں ہندوستان کو ایک ایسی سرزمین کے طور پر دکھایا گیا ہے جہاں مختلف قومیں آتی رہیں اور یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ “قافلے” ہجرت اور آمدورفت کی مسلسل لہر کا استعارہ ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اسی میل جول اور بسنے کے عمل سے ہندوستاں کی مشترک شناخت تشکیل پاتی گئی۔
کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافراں
ہندوستاں میں آئے ہیں ہندوستان کے تھے
الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں
ہزاروں بت ہیں یاں ہندوستان ہے
-
موضوعات : بتاور 1 مزید
جو یہ ہندوستاں نہیں ہوتا
تو یہ اردو زباں نہیں ہوتی
-
موضوع : اردو
جذبات بھی ہندو ہوتے ہیں چاہت بھی مسلماں ہوتی ہے
دنیا کا اشارہ تھا لیکن سمجھا نہ اشارا، دل ہی تو ہے
-
موضوع : دنیا