Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سیاسی پر اشعار

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

احمد فراز

ایسا گلشن کی سیاست نے کیا ہے پابند

ہم اسیران قفس آہ بھی کرنے کے نہیں

ظفر احمد صدیقی

نئی لاشیں بچھانے کے لیے ہی

گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں

راجیش ریڈی

تمھارے ساتھ تعلق تو دوستانہ تھا

تم اس میں رنگ سیاست کہاں سے لے آئے

اعتبار ساجد

ملے گی سیٹ الیکشن میں آپ کو اک دن

اگر یہ چمچہ گری کامیاب ہو جائے

رؤف رحیم

جب شیخ و برہمن سے ہوا دل مایوس

شیطان نے نیتاؤں کو تیار کیا

ماچس لکھنوی

ہے بجٹ گھاٹے میں جرمانے ضروری ہیں یہاں

اس لیے سرکار میری لوٹ کر کھانے کو ہے

رؤف رحیم

دستخط تو مجھے بھی آتا ہے

کاش میں بھی وزیر ہو جاؤں

علامہ پاکٹ مار

کیوں جھجکتی ہو مجھ کو ملنے سے

میں کوئی سابقہ وزیر نہیں

علامہ پاکٹ مار

ضرورت بھوکی جنتا کو فقط راشن کی ہے لیکن

دیا کرتے ہیں بھاشن ہی سر بازار مرغی کے

جوہر سیوانی

تو ہر طرح کے سبھی کام لے غلاموں سے

غلام گر نہیں ملتے غلام پیدا کر

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

کیک بسکٹ کھائیں گے الو کے پٹھے رات دن

اور شریفوں کے لیے آٹا گراں ہو جائے گا

حسین میر کاشمیری

ہیں ہمارے جتنے لیڈر سبھی بھٹے چور کیوں ہیں

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

واحد انصاری برہانپوری

غریبی کیا مٹائیں گے غریبوں کو مٹا دیں گے

کیا کرتے ہیں کالے دھن کا خود بیوپار مرغی کے

جوہر سیوانی

جو مذہبی تھے مسائل وہ اب سیاسی ہیں

یہیں تو دال میں کالا ہے کیا کیا جائے

رؤف رحیم

پریشانی بد امنی اور مہنگائی کی حالت میں

حکومت چل تو سکتی ہے گرہستی چل نہیں سکتی

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

کہا نیتا نے بھوک ہڑتال کر کے دوسرے ہی دن

اب اس سے آگے میری فاقہ مستی چل نہیں سکتی

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

زندگی ہو مری نیتاؤں کی صورت یا رب

ہو فقط اپنی غرض سے ہی محبت یا رب

اسرار جامعی

خاتون رہنما سے جو شادی ہوئی مری

جمہوریت کا حسن مرے گھر میں آ گیا

بدر منیر

نیتا ہے دل کا چاہے تو دل سے نکال دے

لیکن ہمارے گھپلوں کی فرد سزا نہ مانگ

ٹی این راز

کچھ بھی پیتے نہیں یہ قوم کی یخنی کے سوا

ناشتہ ملت بیضا کا کیا کرتے ہیں

امیر الاسلام ہاشمی

کوئی اچھی وزارت گر کسی ممبر کو مل جائے

تو باقی کے وزیروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے

بدر منیر

جو عارضی ہی سہی چند راحتیں لے کر

ضمیر بیچ دیں ایسے عوام پیدا کر

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

لگائیں گے وہ آگ اب بھاشنوں سے

جنہیں جادو بیانی دی گئی ہے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

اک بڑے اخبار نے چھاپی خبر یہ اس طرح

ایک قومی رہنما کا پیر بھاری ہو گیا

ضیاء الحق قاسمی

شانتی والوں سے جب کرسی چھنی

سب کے سب ہڑبونگ ہلا بن گئے

محمد یوسف پاپا

حالات بدل سکتے ہیں منانؔ کسی وقت

بن جائیں گے اب صاحب دستار تماشہ

منان قدیر منان

کیا کرتے ہیں وعدے تو ہزاروں ووٹ سے پہلے

مگر لگتے ہیں کرنے بعد میں انکار مرغی کے

جوہر سیوانی

ووٹ لیتے ہو بھول جاتے ہو

دیکھو غداریاں نہیں اچھی

رؤف رحیم

معدوم اگر کرنی ہے اندر کی سیاہی

سوچوں سے کرپشن کی یہ طاعون نکالو

بدر منیر

عظمت ملک اس سیاست کے

ہاتھ نیلام ہو رہی ہے اب

دشینت کمار

بات منوانی ہے ارباب حکومت سے اگر

نت نئے ڈھونگ رچا دھوم مچا مائی ڈیئر

واحد انصاری برہانپوری

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یے بازی گر کھلا

مرزا غالب
بولیے