تعلی پر اشعار

اپنے بعض تخلیقی لمحوں

میں شاعرانا کی اس سرشاری میں جی رہا ہوتا ہے جہاں صرف اپنی ذات ہی مرکزہوتی ہے ۔ وہ اسی کے حوالے سے سوچتا ہے اوراسی کا اظہارکرتا ہے ۔ تعلی کے اشعاراسی کیفیت کے زایدہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی فنکاری ، زبان وبیان پرقدرت ، اپنی وجودی قوت اورعظمت کا اظہارکرتا ہے ۔ ہم نےتعلی کےکچھ اشعارکا انتخاب کیا ہے آپ انہیں پڑھئے اوراس کیفیت کا حصہ بنئے ۔

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

احمد فراز

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

مرزا غالب

ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے

شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

مرزا غالب

آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو

جب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے فراقؔ کو دیکھا ہے

فراق گورکھپوری

تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے

ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

ابراہیم اشکؔ

کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے

یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی

احمد فراز

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

میر تقی میر

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

شاد عظیم آبادی

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں

جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا

فراق گورکھپوری

اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ

دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

کلیم عاجز

یادگار زمانہ ہیں ہم لوگ

سن رکھو تم فسانہ ہیں ہم لوگ

منتظر لکھنوی

مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں

وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

کلیم عاجز

اور ہوتے ہیں جو محفل میں خموش آتے ہیں

آندھیاں آتی ہیں جب حضرت جوشؔ آتے ہیں

جوشؔ ملسیانی

میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ

میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

بیخود دہلوی

نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے

کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

بیخود دہلوی

میرؔ کا طرز اپنایا سب نے لیکن یہ انداز کہاں

اعظمیؔ صاحب آپ کی غزلیں سن سن کر سب حیراں ہیں

خلیل الرحمن اعظمی

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے