Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پریشان دلوں کی شاعری

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

فرحت احساس

کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاں

اے چاند بتا کس سے تری آنکھ لڑی ہے

ساحر لکھنوی

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں

روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

پروین شاکر

دیکھ لیتے جو مرے دل کی پریشانی کو

آپ بیٹھے ہوئے زلفیں نہ سنوارا کرتے

جلیل مانک پوری

بے نام سے اک خوف سے دل کیوں ہے پریشاں

جب طے ہے کہ کچھ وقت سے پہلے نہیں ہوگا

شہریار

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

چاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہ

مجروح سلطانپوری

پریشاں ہو کے دل ترک تعلق پر ہے آمادہ

محبت میں یہ صورت بھی نہ راس آئی تو کیا ہوگا

عنوان چشتی

جانے کس خواب پریشاں کا ہے چکر سارا

بکھرا بکھرا ہوا رہتا ہے مرا گھر سارا

کوثر مظہری

تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو

ساحر لدھیانوی

خاک میں اس کی جدائی میں پریشان پھروں

جب کہ یہ ملنا بچھڑنا مری مرضی نکلا

ساقی فاروقی

ہم تیرے پاس آ کے پریشان ہیں بہت

ہم تجھ سے دور رہنے کو تیار بھی نہیں

بشیر فاروقی

چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یار

کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر صدیقی

ذہن پر بوجھ رہا، دل بھی پریشان ہوا

ان بڑے لوگوں سے مل کر بڑا نقصان ہوا

طارق قمر

عقل گم ہے دل پریشاں ہے نظر بیتاب ہے

جستجو سے بھی نہیں ملتا سراغ زندگی

فیض لدھیانوی

سنبل کو پریشان کیا باد صبا نے

جب باغ میں باتیں تری زلفوں کی چلائیں

مصحفی غلام ہمدانی

گفتگو کر کے پریشاں ہوں کہ لہجے میں ترے

وہ کھلا پن ہے کہ دیوار ہوا جاتا ہے

شارق کیفی

زندگی میں پہلے اتنی تو پریشانی نہ تھی

تنگ دامانی تھی لیکن چاک دامانی نہ تھی

ملک زادہ منظور احمد

اس چشم سیہ مست پہ گیسو ہیں پریشاں

مے خانے پہ گھنگھور گھٹا کھیل رہی ہے

نظر حیدرآبادی

پھرتے ہیں کئی قیس سے حیران و پریشان

اس عشق کی سرکار میں بہبود نہیں ہے

جوشش عظیم آبادی

سچ بتا عشق مجھے سخت پریشاں ہوں میں

کیوں خفا ہوتا نہیں دوست خطا پر میری

محمد تنویرالزماں

اب میں ہوں اور خواب پریشاں ہے میرے ساتھ

کتنا پڑے گا اور ابھی جاگنا مجھے

برقی اعظمی

دل ہے پریشاں ان کی خاطر

پل بھر کو آرام نہیں ہے

انور تاباں

دل خوش نہ ہوا زلف پریشاں سے نکل کر

پچھتائے ہم اس شام غریباں سے نکل کر

مصحفی غلام ہمدانی

ہم گبرو ہم مسلماں ہم جمع ہم پریشاں

اک سلسلہ بندھا اس زلف دوتا سے دیکھا

مصحفی غلام ہمدانی
بولیے