Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

آغا حجو شرف

1812 - 1887

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

آغا حجو شرف کے اشعار

1.7K
Favorite

باعتبار

شاخ گل جھوم کے گل زار میں سیدھی جو ہوئی

پھر گیا آنکھ میں نقشہ تری انگڑائی کا

عشق ہو جائے گا میری داستان عشق سے

رات بھر جاگا کرو گے اس کہانی کے لئے

لکھا ہے جو تقدیر میں ہوگا وہی اے دل

شرمندہ نہ کرنا مجھے تو دست دعا کا

بے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیا

غیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے

کبھی جو یار کو دیکھا تو خواب میں دیکھا

مری مراد بھی آئی تو مستعار آئی

موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے

پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا

کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو

منگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں

دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو

اک نمکداں میں نمک پیس کے بھر لیتے ہیں

رگڑی ہیں ایڑیاں تو ہوئی ہے یہ مستجاب

کس عاجزی سے کی ہے دعا کچھ نہ پوچھئے

قریب مرگ ہوں للہ آئینہ رکھ دو

گلے سے میرے لپٹ جاؤ پھر نکھر لینا

دنیا جو نہ میں چند نفس کے لیے لیتا

جنت کا علاقہ مری جاگیر میں آتا

کیا خدا ہیں جو بلائیں تو وہ آ ہی نہ سکیں

ہم یہ کہتے ہیں کہ آ جائیں تو جا ہی نہ سکیں

نہیں کرتے وہ باتیں عالم رویا میں بھی ہم سے

خوشی کے خواب بھی دیکھیں تو بے تعبیر ہوتے ہیں

دکھا دیتے ہو تم دل کو تو بڑھ جاتا ہے دل میرا

خوشی ہوتا ہوں ایسا میں کہ ہنس دیتا ہوں رقت میں

عشق بازوں کی کہیں دنیا میں شنوائی نہیں

ان غریبوں کی قیامت میں سماعت ہو تو ہو

آمد آمد ہے ترے شہر میں کس وحشی کی

بند رہنے کی جو تاکید ہے بازاروں کو

جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا

یار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھا

تو نہیں ملتی تو ہم بھی تجھ کو ملنے کے نہیں

تفرقہ آپس میں اے عمر رواں اچھا نہیں

دل میں آمد آمد اس پردہ نشیں کی جب سنی

دم کو جلدی جلدی میں نے جسم سے باہر کیا

کیا بجھائے گا مرے دل کی لگی وہ شعلہ رو

دوڑتا ہے جو لگا کے آگ پانی کے لئے

خلوت سرائے یار میں پہنچے گا کیا کوئی

وہ بند و بست ہے کہ ہوا کا گزر نہیں

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

آدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئی

تیز کب تک ہوگی کب تک باڑھ رکھی جائے گی

اب تو اے قاتل تری شمشیر آدھی رہ گئی

دو وقت نکلنے لگی لیلیٰ کی سواری

دلچسپ ہوا قیس کے رہنے سے بن ایسا

ہمیشہ شیفتہ رکھتے ہیں اپنے حسن قدرت کا

خود اس کی روح ہو جاتے ہیں جس کا تن بناتے ہیں

Recitation

بولیے