Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hilal Fareed's Photo'

ہلال فرید

1959 | لندن, برطانیہ

میڈیکل ڈاکٹر/ لندن میں مقیم

میڈیکل ڈاکٹر/ لندن میں مقیم

ہلال فرید کے اشعار

966
Favorite

باعتبار

مری داستاں بھی عجیب ہے وہ قدم قدم مرے ساتھ تھا

جسے راز دل نہ بتا سکا جسے داغ دل نہ دکھا سکا

ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا

سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا

پانی پہ بنتے عکس کی مانند ہوں مگر

آنکھوں میں کوئی بھر لے تو مٹتا نہیں ہوں میں

اس اجنبی سے واسطہ ضرور تھا کوئی

وہ جب کبھی ملا تو بس مرا لگا مجھے

آج نہ ہم سے پوچھئے کیسا کمال ہو گیا

ہجر کے خوف میں رہے اور وصال ہو گیا

جام عشق پی چکے زندگی بھی جی چکے

اب ہلالؔ گھر چلو اب تو شام ہو گئی

اپنے دکھ میں رونا دھونا آپ ہی آیا

غیر کے دکھ میں خود کو دکھانا عشق میں سیکھا

نہ ہی بجلیاں نہ ہی بارشیں نہ ہی دشمنوں کی وہ سازشیں

بھلا کیا سبب ہے بتا ذرا جو تو آج بھی نہیں آ سکا

جب وقت پڑا تھا تو جو کچھ ہم نے کیا تھا

سمجھے تھے وہی یار ہمارا بھی کرے گا

آج پھر دب گئیں درد کی سسکیاں

آج پھر گونجتا قہقہہ رہ گیا

باہر جو نہیں تھا تو کوئی بات نہیں تھی

احساس ندامت مگر اندر بھی نہیں تھا

پہلے بھی جہاں پر بچھڑے تھے وہی منزل تھی اس بار مگر

وہ بھی بے لوث نہیں لوٹا ہم بھی بے تاب نہیں آئے

اس عقل کی ماری نگری میں کبھی پانی آگ نہیں بنتا

یہاں عشق بھی لوگ نہیں کرتے یہاں کوئی کمال نہیں ہوتا

جواب اس سوال کا بھی دے ذرا مجھے

اڑا کے لائی ہے یہاں پہ کیوں ہوا مجھے

Recitation

بولیے