Asima Tahir's Photo'

عاصمہ طاہر

1990 | لاہور, پاکستان

پاکستانی کی نوجوان شاعرات میں نمایاں

پاکستانی کی نوجوان شاعرات میں نمایاں

686
Favorite

باعتبار

مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان

جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں

ہم نے جب حال دل ان سے اپنا کہا

وہ بھی قصہ کسی کا سنانے لگے

خواب کا انتظار ختم ہوا

آنکھ کو نیند سے جگاتے ہیں

نہیں وہ اتنا بھی پاگل نہیں تھا

جو مر جاتا مری وابستگی میں

چبھ رہی ہے اندھیری رات مجھے

ہر ستارہ بجھائے بیٹھی ہوں

شام کھلتی ہے تیرے آنے سے

لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے

آئنے پر تو ہے بھروسا مجھے

اس سے کیوں منہ چھپائے بیٹھی ہوں

خوشبو جیسی رات نے میرا

اپنے جیسا حال کیا تھا

ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر

عشق دریا میں بس اتر دیکھوں

مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر

گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات

شہزادی کے کانوں میں جو بات کہی تھی اک تو نے

بعد ترے وہ بات ترے ہی افسانوں میں گونجتی ہے

بام و در پر اترنے والی دھوپ

سبز رنگ ملال رکھتی ہے