Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Haseebul Hasan's Photo'

حسیب الحسن

1995 | خوشاب, پاکستان

حسیب الحسن کے اشعار

494
Favorite

باعتبار

حضور آپ تکلف میں کیوں پڑے ہوئے ہیں

مرے ہوؤں کے جنم دن نہیں مناتا کوئی

لاکھ میٹھے ہوں ترے شہر کے چشمے لیکن

ہم ترے شہر کو خوش آب نہیں کہہ سکتے

قسم ہے تیرے تغافل کی تجھ سے پہلے مجھے

نہیں پتہ تھا کہ احساس کمتری کیا ہے

تمہارے حسن کا صدقہ اترنا لازمی ہے

سو یوں کرو کسی بچے کو ماتھا چومنے دو

اس کے معیار پر خدا لائے

اس نظر تک تو آ گئے ہیں ہم

پاگل کیا ہے عشق نے آدھا جو رہ گیا

اب آدھے سر کے درد کا پورا مریض ہوں

میں کئی کام تو دانستہ غلط کرتا تھا

تاکہ وہ نقص نکالے کہ نہیں ایسے کر

تجھے پتہ تھا میں تیرے بغیر کچھ بھی نہیں

ذرا ترس بھی نہ آیا تجھے بچھڑتے ہوئے

ہمارے دل سے نکلتے ہوؤں کو سات سلام

وہ اس لیے کہ وہ اس حبس میں مکین رہے

تمہارے جانے کے بعد ہم نے سکون ڈھونڈا کچھ اس طرح سے

بچھڑنے والوں کے پاؤں پڑنا انہیں جدائی سے باز رکھنا

ہمارے بعد کوئی سر پرست مل نہ سکا

یتیم خانے میں رکھا گیا محبت کو

پہلے بھی میرے گاؤں میں گھائل ہیں تین شخص

آزار آگہی کا میں چوتھا مریض ہوں

ہم ایسے لوگ ضائع ہو رہے ہیں

خدا چپ چاپ دیکھے جا رہا ہے

میں بہت سوچ کے بچھڑا تھا محرم میں حسیبؔ

میں نے اس شخص کو رونے کی سہولت دی تھی

ستارے دیکھنے والے ہمیں بتاتے ہیں

ہمارے ہونٹ تمہاری جبیں کو ترسیں گے

اسے بتانا پرندے اسے بلاتے ہیں

اسے بتانا کہ شاعر اداس ہے اس کا

ہماری خیر ہے لیکن بس اک گزارش ہے

ہمارے بعد کسی سے بھی یوں نہیں کرنا

تیرے خوابوں کے پیچھے بھاگی تھیں

میری آنکھوں میں پڑ گئے چھالے

تمہاری آنکھوں پہ نظم کہنے سے پہلے ہم نے بھگوئی آنکھیں

سنا ہوا تھا زمین نم ہو تو اچھی ہوتی ہے کاشتکاری

ہمی پریم چند کی کہانیوں کے لوگ ہیں

وہ لوگ جن کی عمر کو ادھار نے نگل لیا

اب اس کی مرضی مسافر کہے کہ گرد پا

میں اس کے ساتھ مسلسل سفر میں رہتا ہوں

شاہزادی کی مرضی ہے لیکن

مجھ سے اچھا غلام کوئی نہیں

زمانے بھر کی دعائیں مرے لئے تھیں مگر

میں چاہتا ہی نہیں تھا کہ صبر آ جائے

ابھی سے سوچ لو پھر واپسی نہیں ہوگی

طلسم بڑھتا ہی جائے گا دن بہ دن اس کا

یہ ساتھ گاؤں میں ایک چھوٹا سا کام ہے بس

مری اداسی اداس مت ہو میں آ رہا ہوں

پچھلے جنم کا کوئی تعلق تھا اس کے ساتھ

دیکھے بغیر مجھ کو خد و خال یاد تھے

ہماری وحشت کسی پرانے کھنڈر کے آسیب کی امانت

ہماری غزلیں ہماری دیوی کی ایک ترچھی نظر کا صدقہ

نہ میرے پاس تسلی نہ اس کے پاس آنسو

خدا کے سامنے بے بس کھڑے ہیں ہم دونوں

خدا کے بعد اسے مجھ پہ مان تھا کیونکہ

خدا کے بعد اسے میں ہی پیار کرتا تھا

داد کب پاتے ہیں اس میرؔ کی دیوانی سے

زنگ آلود تخیل سے کھرونچے ہوئے شعر

خوف اس درجہ مسلط تھا ترے بعد حسنؔ

دل دھڑکتا تھا تو ہم خود سے لپٹ جاتے تھے

ہمارے آنسو کسی ٹھکانے تو لگ رہے ہیں

فرات کے بد نصیب پانی کا کیا بنے گا

تمہارا حسن یہ کھلتا ہے جیسے دھیرے سے

ہمارے شعر بھی ایسے ہی دیر پا ہوں گے

Recitation

بولیے