Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

حسرتؔ عظیم آبادی

1727 - 1795 | پٹنہ, انڈیا

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر

حسرتؔ عظیم آبادی کے اشعار

625
Favorite

باعتبار

عشق میں خواب کا خیال کسے

نہ لگی آنکھ جب سے آنکھ لگی

برا نہ مانے تو اک بات پوچھتا ہوں میں

کسی کا دل کبھی تجھ سے بھی خوش ہوا ہرگز

حق ادا کرنا محبت کا بہت دشوار ہے

حال بلبل کا سنا دیکھا ہے پروانے کو ہم

بھر کے نظر یار نہ دیکھا کبھی

جب گیا آنکھ ہی بھر کر گیا

زلف کلمونہی کو پیارے اتنا بھی سر مت چڑھا

بے محابا منہ پہ تیرے پاؤں کرتی ہے دراز

کھیلیں آپس میں پری چہرہ جہاں زلفیں کھول

کون پوچھے ہے وہاں حال پریشاں میرا

مے کشی میں رکھتے ہیں ہم مشرب درد شراب

جام مے چلتا جہاں دیکھا وہاں پر جم گئے

مت ہلاک اتنا کرو مجھ کو ملامت کر کر

نیک نامو تمہیں کیا مجھ سے ہے بد نام سے کام

ماخوذ ہوگے شیخ ریا کار روز حشر

پڑھتے ہو تم عذاب کی آیات بے طرح

رہے ہے نقش میرے چشم و دل پر یوں تری صورت

مصور کی نظر میں جس طرح تصویر پھرتی ہے

محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے

میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا

میں حسرتؔ مجتہد ہوں بت پرستی کی طریقت کا

نہ پوچھو مجھ کو کیسا کفر ہے اسلام کیا ہوگا

نا خلف بسکہ اٹھی عشق و جنوں کی اولاد

کوئی آباد کن خانۂ زنجیر نہیں

تا ابد خالی رہے یارب دلوں میں اس کی جا

جو کوئی لاوے مرے گھر اس کے آنے کی خبر

اس جہاں میں صفت عشق سے موصوف ہیں ہم

نہ کرو عیب ہمارے ہنر ذاتی کا

کافر عشق ہوں اے شیخ پہ زنہار نہیں

تیری تسبیح کو نسبت مری زنار کے ساتھ

اٹھوں دہشت سے تا محفل سے اس کی

عتاب اس کا ہے ہر اک ہم نشیں پر

ہم نہ جانیں کس طرف کعبہ ہے اور کیدھر ہے دیر

ایک رہتی ہے یہی اس در پہ جانے کی خبر

سجدہ گاہ برہمن اور شیخ ہیں دیر و حرم

مے پرستوں کے لیے بنیاد مے خانے ہوئے

دنیا کا و دیں کا ہم کو کیا ہوش

مست آئے و بے خبر گئے ہم

گل کبھو ہم کو دکھاتی ہے کبھی سرو و سمن

اپنے گل رو بن ہمیں کیا کیا کھجاتی ہے بہار

زاہدا کس حسن گندم گوں پہ ہے تیری نگاہ

آج تو میری نظر میں گونۂ آدم لگا

سوگند ہے حسرت مجھے اعجاز سخن کی

یہ سحر ہیں جادو ہیں نہ اشعار ہیں تیرے

عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا

نپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہوا

ساقیا پیہم پلا دے مجھ کو مالا مال جام

آیا ہوں یاں میں عذاب ہوشیاری کھینچ کر

نبھے تھی آن انہوں کی ہمیشہ عشق میں خوب

تمہارے دور میں میری گدا ہوئیں آنکھیں

Recitation

بولیے