حسرتؔ عظیم آبادی کے اشعار
عشق میں خواب کا خیال کسے
نہ لگی آنکھ جب سے آنکھ لگی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
برا نہ مانے تو اک بات پوچھتا ہوں میں
کسی کا دل کبھی تجھ سے بھی خوش ہوا ہرگز
حق ادا کرنا محبت کا بہت دشوار ہے
حال بلبل کا سنا دیکھا ہے پروانے کو ہم
بھر کے نظر یار نہ دیکھا کبھی
جب گیا آنکھ ہی بھر کر گیا
زلف کلمونہی کو پیارے اتنا بھی سر مت چڑھا
بے محابا منہ پہ تیرے پاؤں کرتی ہے دراز
کھیلیں آپس میں پری چہرہ جہاں زلفیں کھول
کون پوچھے ہے وہاں حال پریشاں میرا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مے کشی میں رکھتے ہیں ہم مشرب درد شراب
جام مے چلتا جہاں دیکھا وہاں پر جم گئے
مت ہلاک اتنا کرو مجھ کو ملامت کر کر
نیک نامو تمہیں کیا مجھ سے ہے بد نام سے کام
ماخوذ ہوگے شیخ ریا کار روز حشر
پڑھتے ہو تم عذاب کی آیات بے طرح
رہے ہے نقش میرے چشم و دل پر یوں تری صورت
مصور کی نظر میں جس طرح تصویر پھرتی ہے
محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے
میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا
-
موضوع : جستجو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں حسرتؔ مجتہد ہوں بت پرستی کی طریقت کا
نہ پوچھو مجھ کو کیسا کفر ہے اسلام کیا ہوگا
نا خلف بسکہ اٹھی عشق و جنوں کی اولاد
کوئی آباد کن خانۂ زنجیر نہیں
تا ابد خالی رہے یارب دلوں میں اس کی جا
جو کوئی لاوے مرے گھر اس کے آنے کی خبر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس جہاں میں صفت عشق سے موصوف ہیں ہم
نہ کرو عیب ہمارے ہنر ذاتی کا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کافر عشق ہوں اے شیخ پہ زنہار نہیں
تیری تسبیح کو نسبت مری زنار کے ساتھ
اٹھوں دہشت سے تا محفل سے اس کی
عتاب اس کا ہے ہر اک ہم نشیں پر
ہم نہ جانیں کس طرف کعبہ ہے اور کیدھر ہے دیر
ایک رہتی ہے یہی اس در پہ جانے کی خبر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سجدہ گاہ برہمن اور شیخ ہیں دیر و حرم
مے پرستوں کے لیے بنیاد مے خانے ہوئے
دنیا کا و دیں کا ہم کو کیا ہوش
مست آئے و بے خبر گئے ہم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
گل کبھو ہم کو دکھاتی ہے کبھی سرو و سمن
اپنے گل رو بن ہمیں کیا کیا کھجاتی ہے بہار
زاہدا کس حسن گندم گوں پہ ہے تیری نگاہ
آج تو میری نظر میں گونۂ آدم لگا
سوگند ہے حسرت مجھے اعجاز سخن کی
یہ سحر ہیں جادو ہیں نہ اشعار ہیں تیرے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا
نپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہوا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ساقیا پیہم پلا دے مجھ کو مالا مال جام
آیا ہوں یاں میں عذاب ہوشیاری کھینچ کر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نبھے تھی آن انہوں کی ہمیشہ عشق میں خوب
تمہارے دور میں میری گدا ہوئیں آنکھیں