Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Majid-ul-Baqri's Photo'

ماجد الباقری

1928 - 1995

ماجد الباقری کے اشعار

322
Favorite

باعتبار

بیس برس سے اک تارے پر من کی جوت جگاتا ہوں

دیوالی کی رات کو تو بھی کوئی دیا جلایا کر

سوکھے پتے سب اکٹھے ہو گئے ہیں

راستے میں ایک دیوار آ گئی ہے

ہونٹ کی سرخی جھانک اٹھتی ہے شیشے کے پیمانوں سے

مٹی کے برتن میں پانی پی کر پیاس بجھایا کر

لوہے اور پتھر کی ساری تصویریں مٹ جائیں گی

کاغذ کے پردے پر ہم نے سب کے روپ جمائے ہیں

بات کرنا ہے کرو سامنے اتراؤ نہیں

جو نہیں جانتے اس بات کو سمجھاؤ نہیں

قریب دیکھ کے اس کو یہ بات کس سے کہوں

خیال دل میں جو آیا گناہ جیسا تھا

مجھی سے پوچھ رہا تھا مرا پتا کوئی

بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

ماجدؔ نے بیراگ لیا ہے کوئی ایسی بات نہیں

ادھر ادھر کی باتیں کر کے لوگوں کو سمجھایا کر

انسان میں کیا بھرا ہوا ہے

ہونٹوں سے دماغ تک سلے ہیں

اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے

سائکلیں ٹکرا جاتی ہیں اکثر موٹر سے

Recitation

بولیے