aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",LMp"
ایل ۔ایم سائولے
مصنف
نور کی موجیں لیمپ سے جاریتیزی تھی ہر جمپ سے جاری
رات کو اکثر ہوتا ہے پروانے آ کرٹیبل لیمپ کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں
اور بیدیؔ کا افسانہلوپ سے کیا حاصل ہوگا
مکان لیپ کے ٹھلیا جو کوری رکھوائیجلا چراغ کو کوڑی وہ جلد جھنکائی
یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سےروشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا
پان ہندوستانی تہذیب کا ایک اہم حصہ رہا ہے ۔ اس کے کھانے اور کھلانے سے سماجی زندگی میں میل جول اور یگانگت کی قدریں وابستہ ہیں لیکن شاعروں نے پان کو اور بھی کئی جہتوں سے برتا ہے ۔ پان کی لالی اور اس کی سرخی ایک سطح پر عاشق کے خون کا استعارہ بھی ہے ۔ معشوق کا منھ جو پان سے لال رہتا ہے وہ دراصل عاشق کے خون سے رنگین ہے ۔ شاعرانہ تخیل کے پیدا کئے ہوئے ان مضامین کا لطف لیجئے ۔
عشق کی کہانی میں شکوہ شکایتوں کی اپنی ایک جگہ اور اپنا ایک لطف ہے ۔ اس موقع پر عاشق کاکمال یہ ہوتا ہے کہ وہ معشوق کے ظلم وجفا اور اس کی بے اعتنائی کا شکوہ اس طور پر کرتا ہے کہ معشوق مدعا بھی پا جائے اور عاشق بدنام بھی نہ ہو ۔ عشق کی کہانی کا یہ دلچسپ حصہ ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔
چراغ اور اس کی روشنی کو شاعری میں ایک مثبت قدر کے طور پر دیکھا گیا ہے ۔ چراغ اپنی ناتوانی اور بجھ جانے کے قوی امکان کے باوجود اندھیرے کے خلاف ایک محاذ کھولے رہتا ہے اور روشنی لٹاتا رہتا ہے ۔ چراغ کے اور بھی کئی استعاراتی پہلو ہیں جو اور زیادہ دلچسپ ہیں ۔ ہمارا یہ ایک چھوٹا سا انتخاب پڑھئے ۔
lamplamp
دِیا
impimp
انکھوا
umpump
عوام: شمالی امریکا خصوصاً : امپائر خصوصاً بیس بال کا۔.
rear lamprear lamp
برط خصوصاً : گاڑی کی پچھلی،عموماً سرخ روشنی۔.
لیمپ جلانے والے
صدیق عالم
افسانہ
برہانپور
معین الدین ندوی
خارزار حیات
لیمپ جلاتے اور بجھا کے پھر سے جلاتےیا وہ مجھے گم کرتا ہے یا ڈھونڈ رہا ہے
اس کی پھرتی اور اس کی لپ چھپ کاکیا تماشا ہوا اہا ہاہا
شکل ملنے لگ گئی ہپی سے بر خوردار کیجس کے لپ پر ہر گھڑی ڈسکو ترانہ چاہئے
سو چکا سارا محلہ اور گلی کے موڑ پربجھ چکا ہے لیمپ بھی
صرفایک لیمپ
جیسے تووقت اک لوپ ہے
زندگی اپنی نمائش گاہ مصنوعات ہےچار دن بجلی کے لیمپ اور پھر اندھیری رات ہے
ساری رات گلی کے خالی نکڑ پرتیز ہوائیں لیمپ ہلاتی رہتی ہیں
ہر امر میں دنیا کے موجود جدھر دیکھوآدم کو کیا حیراں شیطان کی لپ جھپ نے
The story took a turn from here. One day, Satyavan went out to collect woods in the forest. A worried Savitri could not have seen him going alone. She accompanied him like a loving caretaker. Completely unaware of what was foretold about his lifespan, Satyavan enjoyed his zestful spirit with...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books