aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHuun-e-rag-e-bismil"
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
مصنف
ادارۂ رنگ و نور، الہ آباد
ناشر
بیرم خان خان خانان
شاعر
دفتر چراغ راہ، کراچی
رنگ ادب پبلیکیشنز، کراچی
انتشارات در راہ حق قم
مدیر
مکتبہ نشان راہ، نئی دہلی
مکتبہ چراغ راہ، کراچی
مکتبہ چراغ راہ، لاہور
مکتبہ راہ اسلام، دیوبند، یو۔ پی۔
عبدالرحیم خان خاناں میموریل سوسائٹی، نئی دہلی
مشعل راہ پبلیکیشنز، بجنور یوپی
ابن انشا
1927 - 1978
بدر عالم خاں اعظمی
اے۔ قدیر خان
طرب انگیز ہیں رنگینیاں فصل بہاری کیمگر بلبل انہیں خون رگ بسمل سمجھتے ہیں
ہزاروں بار سینچا ہے اسے خون رگ جاں سےتعجب ہے مرے گلشن کی ویرانی نہیں جاتی
غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھیہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھی
عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیںروح کی مدہوش بے داری کا ساماں ہو گئیں
وداع کرتا ہے دل سطوت رگ جاں کوخبر کرو مرے خوابوں کے شب سلیماں کو
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
فلم اور ادب میں ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے ،اگر بات ہندوستانی فلموں کی ہو تو ان میں استعمال ہونے والی زبان، ڈائلوگز ، اسکرین رائٹنگ اور نغموں میں اردو کا ہمیشہ سے بول بالا رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔ آج اس کلیکشن میں ہم نے راجہ مہدی علی خان کے کچھ مشہورنغموں کو شامل کیا ہے ۔ پڑھئے اور کلاسیکل گانوں کا لطف لیجئے۔
یوں تو بظاہر اپنے آپ کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔
سازرگ جاں
میکش کشمیری
ساز رگ جاں
کرشن مراری
مجموعہ
قریب رگ جاں
نفیسہ خان
نثر
ترجمۂ مان کتوہل و رسالۂ راگ درپن
کپلا واتسیاین
مجموعۂ قانون راگ
محمد وزیر
نامعلوم مصنف
نظم
رگ سنگ
شاعری
نوحۂ بسمل
غزل
مجموعہ گلشن راگ جدید
لالہ جنگلی مل
004
مصباح الحق
Aug 1970رگ سنگ
رگ ظرافت
خان ضیاء
رگ مینا
رضا ہمدانی
بدر اورنگ آبادی
خون بے گناہ
دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہےدشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہے
آزاد کي رگ سخت ہے مانند رگ سنگ محکوم کي رگ نرم ہے مانند رگ تاک
تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہےنا شناسا ہے تو پھر محرم پنہاں کیوں ہے
وہ دل میں اور قریب رگ گلو بھی ملےذرا سا لطف مگر ہم سے روبرو بھی ملے
پھر کوئی خلش نزد رگ جاں تو نہیں ہےپھر دل میں وہی نشتر مژگاں تو نہیں ہے
حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہےاک جہاں ذوق نمو میں گم ہے
دل بھی اوروں کو قریب رگ جاں چاہتا ہےتو بھی پہلے کی طرح مجھ کو کہاں چاہتا ہے
ان کی نظروں کا وہ پیوست رگ جاں ہونادل جگر دونوں کا شرمندۂ احساں ہونا
رنگ الفت کا جمانا نہیں مشکل کوئیدیکھ لے کاش مرا خون رگ دل کوئی
غم کی شیریں تلخیاں جینے کا ساماں ہو گئیںبجلیاں خون رگ جان گلستاں ہو گئیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books