aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ba-ra.ng-e-abr-e-ravaa.n"
زمیں پر چاند آنا چاہتا ہےاتر کر کشتی آب رواں سے
برنگ ابر رواں فصل نوجوانی ہےچھلکنے والا ہے ساغر پلا بھی جا سلمیٰ
دل پژمردہ کو ہم رنگ ابر و باد کر دے گاوہ جب بھی آئے گا اس شہر کو برباد کر دے گا
خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقصہر دو عالم کو ترا رکھتا ہے بے آرام رقص
اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابر رواں اورجب آگ ہو نم خوردہ تو اٹھتا ہے دھواں اور
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
دوستی کا جذبہ ایک بہت پاک اور شفاف جذبہ ہے ۔ اس سے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے ، سمجھنے اور ایک دوسرے کیلئے جینے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ شاعروں نے اس اہم انسانی جذبے اور رشتے کو بہت پھیلاؤ کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ دوستی پر کی جانے والی اس شاعری کے اور بھی کئی ڈائمینشن ہیں ۔ دوستی کب اور کن صورتوں میں دشمنی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ؟ ہم سب اگرچہ اپنی عام زندگی میں ان حالتوں سے گزرتے ہیں لیکن شعوری طور پر نہ انہیں جان پاتے ہیں اور نہ سمجھ پاتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور ان انجانی صورتوں سے واقفیت حاصل کیجئے ۔
اس انتخاب میں سارہ شگفتہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی پانچ نظموں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زندگی کی ناہمواریاں، انسانی نفسیات اور مختلف النوع جذبات و احساسات انفرادیت سے اجتماعیت میں ڈھلتے نظر آتے ہیں اور جو ہر پڑھنے والے کے ذہن پر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں
ابر رواں کی بازگشت
سردار پنچھی
غزل
ابررواں
اویناش امن
مجموعہ
بہ رنگ دگر
سید جعفر امیر
دیدۂ آب رواں
خالد بشیر احمد
سر آب رواں
سید انجم جعفری
لوح آب رواں
فاروق ارگلی
آب رواں
محمد مصطفیٰ اشرفی
آب رواں
ظفر اقبال
محسن خالد محسن
علم عروض / عروض
رنگ و بو
ناظم گونڈوی
اشک چکاں سے عصر رواں تک
نشور واحدی
آب روان کبیر
مشرف عالم ذوقی
افسانہ تنقید
سید شمیم رجز
آب وتاب رنگ و نور
قمر وارثی
رنگ و آب
سید محمود حسن قیصر امروہی
آنکھوں میں مری ابر رواں اور طرح کےدل میں بھی کئی دشت تپاں اور طرح کے
برنگ نکہت گل ہے چمن میں آشیاں اپناکسی کے راز داں ہم ہیں نہ کوئی رازداں اپنا
بہ رنگ نغمہ بکھر جانا چاہتے ہیں ہمکسی کے دل میں اتر جانا چاہتے ہیں ہم
خزاں برنگ بہاراں ہے دیکھیے کیا ہوسکوں کے بھیس میں طوفاں ہے دیکھیے کیا ہو
وہ برنگ اعتبار آنکھوں میں ہےایک تسکیں اک قرار آنکھوں میں ہے
جو برنگ سحر دکھائی دیااس کا حسن نظر دکھائی دیا
کس دن برنگ زخم نیا گل کھلا نہیںکس شب بہ فیض اشک چراغاں ہوا نہیں
اشکوں سے برنگ آب ہم نےدریا کو لکھا سراب ہم نے
بہ رنگ خواب میں بکھرا رہوں گاترے انکار جب چنتا رہوں گا
خزاں کے بے کیف منظروں کا برنگ خوشبو جواب رکھناکسی کی یاد کا اپنے دل میں کوئی مہکتا گلاب رکھنا
بہ رنگ سبزہ انہی ساحلوں پہ جم جائیںرواں ہوئے تھے جہاں سے وہیں پہ تھم جائیں
برنگ بوے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتےکہ ہمراہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے
خس بدن میں برنگ شرار آئے کوئیچمک اٹھوں میں غم آب دار آئے کوئی
بہ رنگ جونؔ ہی نکھری گھٹن آہستہ آہستہنظر آنے لگا بام سخن آہستہ آہستہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books