aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bajat"
امت بجاج
born.1976
شاعر
اوم پرکاش بجاج
born.1922
نتھن لال بہجت
کتب خانہ انجمن ترقی اردو، اردو بازار، دہلی
ناشر
ادبی دنیا اردو بازار، دہلی
نزارہ باظٰۃ
مصنف
اوما شنکر چترونشی بازل
کتب خانہ حیدری چھتہ بازار، حیدرآباد
دارالتجلید اردو بازار، لاہور
دائرہ پریس چھتہ بازار
جے۔ برت رائے
مدیر
بابو شیو برت لال جی ورمن
مطبع فدائی دکن چھتہ بازار
بہجت باقوی
مطبوء ادریس بازار چاوڑی, دہلی
بوا کو تو دیکھو نہ گہنا نہ پاتابجٹ ہاتھ میں جیسے دھوبن کا کھاتا
کیسا عجیب آیا ہے اس سال کا بجٹمرغی کا جو بجٹ ہے وہی دال کا بجٹ
بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترےانوکھے انوکھے خسارے ترے
اے جان بانوؔ یہ جان لو اببذات خود انتخاب ہو تم
اس قدر صرف الٰہی مرے خون دل کااب محبت کا بجٹ فیل ہوا جاتا ہے
اس کلیکشن میں ہم نے زبیر رضوی کی اُن نظموں کو شامل کیا ہے جو ایک سلسلے کا حصہ ہیں اور جن کی ابتدا "پرانی بات ہے" کے مصرعے سے ہوتی ہے۔
बाट باٹ
رک : ٹھاٹ باٹ جس کا یہ جزو دوم ہے
سنسکرت
बात بات
لفظ، بول، کلمہ، فقرہ، جملہ، گفتگو، قول
बात को بات کو
کہنے کو، برائے نام
क्या बात کیا بات
ممکن نہیں ، ناممکن ہے ، کیا مجال.
بضعۃ الرسول
علامہ سید ذیشان حیدر جوادی
اسلامیات
بذات خود
جمیل انصاری
شاعری
الشیخ خالد النقشبندی
نقشبندیہ
غزل کی بابت
وینس کیسری
شاعری تنقید
یادوں کی برات
جوش ملیح آبادی
خود نوشت
بات سے بات
واصف علی واصف
اخلاقیات
پارلیمنٹ سے بازار حسن تک
ظہیر احمد بابر
سیاسی
آگرہ بازار
حبیب تنویر
ڈرامہ
بات
شجاع خاور
غزل
کوئی کوئی بات
جواد شیخ
مجموعہ
بازار حسن
پریم چند
معاشرتی
آج بازار میں پابہ جولاں چلو
عزیز حامد مدنی
تنقید
بڑی شرم کی بات
عصمت چغتائی
کہانیاں/ افسانے
اس بازار میں
شورش کاشمیری
سماجی مسائل
حیرت نگاہ شوق کی پسپائیوں میں ہےجلوہ بذات خود ہی تماشائیوں میں ہے
خسارے پر خسارے کا بجٹ تیار ہوتا ہےمعیشت کی ترقی کا مگر پرچار ہوتا ہے
پھر بجٹ اس نے گرایا ہے ہتھوڑے کی طرحوہ حکومت کو بھی لوہے کی دکاں سمجھا تھا
کافی تھا یوں تو رنگ تماشا بذات خودجو بچ رہا وہ کام تماشائی سے ہوا
ہے بجا حلقۂ ازدواج میں مشہور ہوں میںتیرا بیرا ترا دھوبی تیرا مزدور ہوں میں
بجٹ جب سارے لگ جائیں وزارت کی ہی کرسی پرتو اس طرز معیشت کو گرانی کون کہتا ہے
بجٹ اس کا خسارے کا اور اپنا بھی خسارے میںحکومت بھی ہماری ہم جماتی ہوتی جاتی ہے
تاجر اس نظام کو کیسے بدلے گا؟وہ تو بجٹ کی تمام مراعات سمیٹ کر
بجٹ کی کئی سختیاں اور بھی ہیں''ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں''
ذات قائم تھی بذات اور صفت تھی معدومکن نہ تھا معرکۂ انجمن آرائی تھا
لیکن بھلا ہو بچوں اس سال کے بجٹ کاجس نے ہمارے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا
وہی بھٹکے ہوئے ہیں راستے سےبذات خود جو اک رہبر رہے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books