aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kaafir"
کیفی اعظمی
1918 - 2002
شاعر
شارق کیفی
born.1961
کفیل آزر امروہوی
born.1940
کبیر
1440 - 1518
جگجیت کافر
born.1979
شاہد کبیر
1932 - 2001
عالم نظامی
born.1984
دتا تریہ کیفی
1866 - 1955
فرانز کافکا
1883 - 1924
مصنف
کیفی وجدانی
born.1932
کنہیا لال کپور
1910 - 1980
کیفی حیدرآبادی
1880 - 1920
کبیر اجمل
1967 - 2020
حنیف کیفی
1934 - 2021
چندر بھان کیفی دہلوی
1878/79 - 1941
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں
جو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا
خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتااسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "محبوب سے باتیں کرنا" اصطلاح میں غزل شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں بحر، قافیہ اور ردیف کی رعایت کی گئی ہو۔اور غزل کا ہر شعر اپنی جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع اور آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور۔
قافیہ اور ردیف غزل کے بنیادی رکن ہیں لیکن غزل ردیف کے بغیر بھی کہی جا سکتی ہے، ایسی غزلو کو غیر مردف کہا جاتا ہے؛ یہاں آپ کے لئے ایسی ہی چنندہ غزلیں جمع کی گئی ہیں، پڑھئے اور لطف اندوز ہوئیے
काफ़ीरکافِیر
काफ़िरکافِر
عربی
خدا کو نہ ماننے والا شخص، منکرِ خدا، بے دین، ملحد، و جود خداوندی سے انکار کرنے والا
काफ़ीکافی
کفایت کرنے والا، بقدرِ ضرورت، جس سے کام نکل جائے
क़ाफ़ीقافی
پیچھے چلنے والا.
کافر بھی ہوئے، سجدہ بھی کیا
وہاب اشرفی
افسانہ
دل کے کافر
بت کافر
عارف مارہروی
اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم
نظم تنقید
علم عروض و قافیہ و تاریخ گوئی
سید حسن کاظم عروض
تاریخ گوئی
پریم چند کے منتخب افسانے
پریم چند
کافکا کہانیاں
افسانہ / کہانی
علم قافیہ
ممتاز الرشید منہاس
زبان
کافکا کے افسانے
آئینہ عروض و قافیہ
کنہیا لال ماتھر طالب
علم عروض / عروض
پر اسرار مقدمہ
ناول
یاد کی رہ گزر
شوکت کیفی
خود نوشت
قافلۂ حجاز
نسیم حجازی
تین ترقی پسند شاعر : سردار، مجروح، کیفی
علی احمد فاطمی
تنقید
معروضات عروض و قافیہ
عارف حسن خان
دیگر
نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیںاس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھیکچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔکافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں
کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافربت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوںکیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلیاس گلی میں جائیے تو لڑکھڑاتے جائیے
ہم کو پھنسنا تھا قفس میں کیا گلہ صیاد کابس ترستے ہی رہے ہیں آب اور دانے کو ہم
ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میںکافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
نیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتابکیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوز
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books