aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parinda"
فریدہ خانم
born.1935
شاعر
پروندر شوخ
born.1964
فریدہ عالم فہمی
born.1962
فریدہ حفیظ
مصنف
اننت پرساد پانڈا
فریدہ انیس
فریدہ زین
فریدہ زرین
فریدہ رحمت اللہ
مولانا پایندہ محمد
فریدہ تبسم
فریدہ لا کھانی
فریدہ چودھری
فریدہ خان
فریدہ راج
مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگاپرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہاب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
اگر سونے کے پنجڑے میں بھی رہتا ہے تو قیدی ہےپرندہ تو وہی ہوتا ہے جو آزاد رہتا ہے
اک پرندہ ابھی اڑان میں ہےتیر ہر شخص کی کمان میں ہے
میں بھی تو اس باغ کا ایک پرندہ ہوںمیری ہی آواز میں مجھ کو گانے دے
شاعری لفظ کو چھوڑکراس کے ارد گرد پھیلے ہوئے امکانات کواستعمال میں لاتی ہے۔ پرندہ اوراس طرح کے دوسرے لفظوں کے حوالے سے کی گئی شاعری کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ پرندہ شاعری میں صرف پرندہ ہی نہیں رہتا بلکہ آزادی، بلندی اورپروازکی ایک علامت بن جاتا ہے ۔ پرندےاور کئی سطحوں پرزندگی میں حوصلے کی علامت بن کرسامنےآئے ہیں ۔ پرندوں کا رخصت ہوجانا زندگی کی معصومیت کے خاتمے اور شہری زندگی کے عذاب کا اشارہ بھی ہے ۔ نئی غزل میں یہ موضوع کثرت سے برتا گیا ہے ۔
परिन्दा پَرِنْدا
ماہی گیروں کی کشتی، جو سیر و تفریح کی کشتی سے کسی قدر بڑی ہوتی ہے، پن سوآ
परिंदा پَرِنْدَہ
اڑنے والا (جانور)، پرند، طائر، پنکھی
فارسی
परीदा پَرِیدَہ
اُڑا ہوا، غائب، منتشر، بکھرا ہوا
कारिंदा کارِنْدَہ
منشی، منیجر، کارکن، مختار
پرندہ پکڑنے والی گاڑی
غیاث احمد گدّی
افسانہ
دکھ لال پرندہ ہے
علی محمد فرشی
ماہیہ
طلسمی پرندہ
مقبول عامر
افسانہ / کہانی
سنہری پرندہ
رحمانی جویریہ تبسم
ادب اطفال
ہارا ہوا پرندہ
مظہر الزمان خان
منڈیر پر بیٹھا پرندہ
نسیم ابن صمد
فکشن تنقید
احمد صغیر
پرنده پكڑنے والی گاڑی
پرندہ ہے کہ اڑتا جا رہا ہے
دیدار بستوی
مجموعہ
جھیل آکاش پرندہ
منیر سیفی
نظم
وہ اور پرندہ
مری روح کا پرندہ
ف۔ س۔ اعجاز
پیڑتلاش کرتا پرندہ
نسیم بن آسی
سرخ آبی پرندہ
اشرف یعقوبی
رنگیلا پرندہ
دھن گوپال مکرجی
اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہےپرندہ شام کے پل پر بہت خاموش بیٹھا ہے
پھنستا نہیں پرندہ ہے بھی اسی فضا میںتنگ آ گیا ہوں دل کو یوں دام کرتے کرتے
کھلی ہواؤں میں اڑنا تو اس کی فطرت ہےپرندہ کیوں کسی شاخ شجر کا ہو جائے
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھاسوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
اک عشق نام کا جو پرندہ خلا میں تھااترا جو شہر میں تو دکانوں میں بٹ گیا
اداسی کا پرندہچپ کے جنگل میں
زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیاکٹا کے پر کو پرندہ اڑان سے بھی گیا
پرندہ جانب دانہ ہمیشہ اڑ کے آتا ہےپرندے کی طرف اڑ کر کبھی دانہ نہیں آتا
وقت بھی ایک پرندہ ہےاڑتا رہتا ہے
میں تری قید کو تسلیم تو کرتا ہوں مگریہ مرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں
پیڑ کے نیچے شکاری جال پھیلائے ہوئےاور پرندہ شاخ پر بیٹھا ڈرا سہما ہوا
آندھی نے ان رتوں کو بھی بے کار کر دیاجن کا کبھی ہما سا پرندہ نصیب تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books