aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saakh"
ساقی فاروقی
1936 - 2018
شاعر
ساقی امروہوی
1925 - 2005
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
1864 - 1916
سخی لکھنوی
1813 - 1876
عبدالغفور ساقی
مصنف
نین سکھ
born.1750
سید نظیر حسن سخا دہلوی
died.1933
سبودھ لال ساقی
عبدالحمید ساقی
رسول ساقی
born.1968
قمر ساقی
born.1982
بھگوان کھلنانی ساقی
born.1922
محمد احمد ساقی
born.1955
ساقی جاوید
یعقوب ساقی
ہمارا خون بھی سچ مچ کا صحنے پر بہا ہوگاہے آخر زندگی خون از بن ناخن بر آور تر
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کیدل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
مجھے اداس نہ کر ورنہ ساکھ ٹوٹے گینہیں ہے تجربہ مجھ کو ملال کرنے کا
دروازوں کی ساکھ بچانے کی خاطردیواروں کے کان بنانے والا تھا
محبت ہم سے اس کو ہو گئی تو ٹھیک ورنہہم اپنی ساکھ رکھنے کو اداکاری کریں گے
ممتاز اوررجحان ساز جدید شاعر ۔ لندن مقیم تھے
آج کے شراب پینے والے ساقی کو کیا جانیں ، انہیں کیا پتا ساقی کے دم سے میخانے کی رونق کیسی ہوتی تھی اور کیوں مے خواروں کے لئے ساقی کی آنکھیں شراب سے بھرے ہوئے جاموں سے زیادہ لذت انگیزیز اور نشہ آور ہوتی تھیں ۔ اب تو ساقی بار کے بیرے میں تبدیل ہوگیا ہے ۔مگر کلاسیکی شاعری میں ساقی کا ایک وسیع پس منظر ہوتا تھا۔ ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو ساقی کے دلچسپ کردار سے متعارف کرائے گا ۔
عام زندگی میں سچ اور جھوٹ کی کیا منطق ہے ،سچ بولنا کتنا مشکل ہوتا ہے اور اس کے کیا خسارے ہوتے ہیں ،جھوٹ بظاہر کتنا طاقت ور اوراثر انداز ہوتا ہے ان سب باتوں کو شاعری میں کثرت سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں جھوٹ، سچ اور ان کے ارد گرد پھیلے ہوئے معاملات کی کتھا پڑھئے۔
sakesake
خاطِر
सकीسکی
could
सकाسَکا
साठساٹھ
سنسکرت
تین بیسی کے مساوی عدد (نیز اس کی قیمت)، جو ہندسوں میں 60 (چھ اور صفر) سے ظاہر کیا جاتا ہے، اِکسٹھ سے پہلے اور انسٹھ کے بعد کی گنتی
شاخ نبات
شاخ زریں
جیمس جارج فریزر
تہذیبی وثقافتی تاریخ
پریشان ہونا چھوڑ دیں
ڈیل گارنیگی
اردو ساخت کے بنیادی عناصر
نصیر احمد خاں
زبان
صحت ہمدرد کے ساتھ بیماریاں اور علاج
مآثر عالمگیری
محمد ساقی مستعد خاں
تاریخ
تاریخ کے ساتھ کھلواڑ
غالب سے معذرت کے ساتھ
احمد جمال پاشا
مزاحیہ
محمد حسین آزاد کی تنقید نگاری
محمد خالد اقبال صدیقی
تنقید
ہدایت نامہ شاعر
مضامین
آپ بیتی پاپ بیتی
سوانح حیات
سہ لسانی مصدر نامہ
حفیظ الرحمن واصف
دنیا بھر کے غم تھے
شیام سخا شیام
غزل
ہم ساتھ تھے
حمیدہ سالم
مقالات/مضامین
مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف
محمد منظور نعمانی
May 1985
مال ہے پاس نہ ہم چرب زباں ہیں محسنؔشہر میں کس طرح پھر ساکھ بنائیں اپنی
مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھدو گھڑی کھیل لیے گردش ایام کے ساتھ
سادہ رکھنے سے صدا دیتا ہے قرطاس مجھےلفظ لکھ دوں تو مری ساکھ گرا جاتا ہے
نہ ساتھ ساتھ سہی اتنی دور بھی تو نہ جااجاڑ مت مرے قرب و جوار کم سے کم
غضب ہے اس کو کوئی شادماں نہ دیکھ سکازمیں نہ دیکھ سکی آسماں نہ دیکھ سکا
کب پھول کھلے کب شاخ جھکیکب ہوا بسنتی تن گیلا
تمام جسم کو گر مملکت کہا جائےتو بات سب کی سمجھ میں یہ صاف آ جائے
دل کی جو ساکھ تھی جذبات کے خطے میں رہیدرد مشہور مگر سارے زمانے میں ہوا
بدن کی ساکھ تو پوشاک سے نہیں بنتیکہانی حرف ہوس ناک سے نہیں بنتی
بڑھ گیا جب جنون وحشت میںساکھ الفت کی ہم گنوا بیٹھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books