aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sham-e-aah"
اجنبی شہر بے نمک چہرےکسے ہم راز دل کیا جائے
کس طرح چھوڑ دوں اس شہر کو اے موج نسیمیہیں جینا ہے مجھے اور یہیں مرنا ہے مجھے
بکھری ہوئی تھیں چار سو پھولوں کی پتیاںگلشن سنور سنور گیا باد صدا کے بعد
سن تو در خیال پہ فردا کی دستکیںخود کا حصار توڑ کے جاتی رتوں کو دیکھ
اک پل میں ہی بتلا گئیں دم توڑتی کرنیںوہ راز جو اے شامؔ نہ پایا مجھے دن بھر
کچھ تو کہتی ہے سر شام سمندر کی ہواکبھی ساحل کی خنک ریت پہ جائیں تو سہی
آئی تو جیسے ہونے لگا مطلع غزلبیٹھی تو جیسے نظم کی تکمیل ہو گئی
رحمتیں زحمتیں بن جاتی ہیں اکثر اے آہؔہو نہ یہ سیل بلا کالی گھٹا سے ڈریے
ہمارے بعد بھی رونق نہ آئی اس گھر پرچراغ ایک ہوا کو کئی بجھانے تھے
لئے اک نافۂ آہو پھرے ہو در بدر تم آہؔتمہیں اس کا سراپا اپنے اندر دیکھ لینا تھا
اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہے
تجھے خبر نہیں تعمیر نو کے پاگل پنچھتیں گریں تو پرندوں کے آشیانے گئے
تمام ذرے بکھر کر سمیٹ لیں گے مجھےیہ جانتا ہوں سر کہسار کیا ہوگا
ہر گوشے میں بکھرے ہوئے سناٹوں کے ڈر سےویرانیاں گھبرا کے نکل آئی ہیں گھر سے
ردائے خاک طلب دور تک بچھا بھی دےبرہنہ راہ کو پیراہن صدا بھی دے
لگ گئی ہے چپ سی اب ذہن ہنر خاموش ہےرابطہ جس دن سے ٹوٹا ہے لب اظہار سے
سنتا ہوگا صدائیں اس دل کیشام تنہائی میں وہ جب ہوگا
سب اپنے اپنے افق پر چمک کے تھوڑی دیرمجھے تو دامن شام و سحر کی گرد ہوئے
آہ بھی حرف دعا ہو جیسےاک دکھی دل کی صدا ہو جیسے
شام غم افسردہ و حیراں تھے ہملوگ سمجھے بے سر و ساماں تھے ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books