aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "iqliim"
اسلام کی تعلیم فراموش ہوئی کیوںانسان کی تعظیم فراموش ہوئی کیوںافراد کی تنظیم فراموش ہوئی کیوںخلاص کی اقلیم فراموش ہوئی کیوں
بارہا دیکھا ہے تو نے آسماں کا انقلابکھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستاں کا انقلابمغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبرانقلاب ہند ہے سارے جہاں کا انقلابکر رہا ہے قصر آزادی کی بنیاد استوارفطرت طفل و زن و پیر و جواں کا انقلابصبر والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پرہو گیا فرسودہ شمشیر و سناں کا انقلاب
جو سدا حسن کی اقلیم میں ممتاز رہےدل کے آئینے میں اتری ہے وہ تصویر اب کے
اے فلسفہ گو،کہاں وہ رویائے آسمانی؟کہاں یہ نمرود کی خدائی!تو جال بنتا رہا ہے، جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کےہم اس یقیں سے' ہم اس عمل سے' ہم اس محبت سے'آج مایوس ہو چکے ہیں!کوئی یہ کس سے کہے کہ آخرگواہ کس عدل بے بہا کے تھے عہد تاتار کے خرابے؟عجم، وہ مرز طلسم و رنگ و خیال و نغمہعرب، وہ اقلیم شیر و شہد و شراب و خرمافقط نواسنج تھے در و بام کے زیاں کے،جو ان پہ گزری تھیاس سے بد تر دنوں کے ہم صید ناتواں ہیں!کوئی یہ کس سے کہے:در و بام،آہن و چوب و سنگ و سیماں کےحسن پیوند کا فسوں تھےبکھر گیا وہ فسوں تو کیا غم؟اور ایسے پیوند سے امید وفا کسے تھی!
طفلی میں آرزو تھی کسی دل میں ہم بھی ہوںاک روز سوز و ساز کی محفل میں ہم بھی ہوںدل ہو اسیر گیسوئے عنبر سرشت میںالجھے انہیں حسین سلاسل میں ہم بھی ہوںچھیڑا ہے ساز حضرت سعدیؔ نے جس جگہاس بوستاں کے شوخ عنادل میں ہم بھی ہوںگائیں ترانے دوش ثریا پہ رکھ کے سرتاروں سے چھیڑ ہو مہ کامل میں ہم بھی ہوںآزاد ہو کے کشمکش علم سے کبھیآشفتگان عشق کی منزل میں ہم بھی ہوںدیوانہ وار ہم بھی پھریں کوہ و دشت میںدلدادگان شعلۂ محمل میں ہم بھی ہوںدل کو ہو شاہزادیٔ مقصد کی دھن لگیحیراں سراغ جادۂ منزل میں ہم بھی ہوںصحرا ہو، خار زار ہو، وادی ہو، آگ ہواک دن انہیں مہیب منازل میں ہم بھی ہوںدریائے حشر خیز کی موجوں کو چیر کرکشتی سمیت دامن ساحل میں ہم بھی ہوںاک لشکر عظیم ہو مصروف کارزارلشکر کے پیش پیش مقابل میں ہم بھی ہوںچمکے ہمارے ہاتھ میں بھی تیغ آب دارہنگام جنگ نرغۂ باطل میں ہم بھی ہوںقدموں پہ جن کے تاج ہیں اقلیم دہر کےان چند کشتگان غم دل میں ہم بھی ہوں
مشاعرے میں جو شاعر بلائے جاتے ہیںبڑے سلیقے سے بودم بنائے جاتے ہیںوصول ہوتے ہیں پہلے یہ نامہ و پیغامکہ اے شہنشہ اقلیم حافظؔ و خیامؔہماری بزم ادب کا ہے جشن سالانہجلی ہے شمع سخن رقص میں ہے پروانہگھٹا جو شعروں کی چاروں طرف سے آئی ہےوہ فلم کے بھی ستارے سمیٹ لائی ہےگزشتہ سال سنا جس نے آپ کو یہ کہانہ شعلے میں یہ کرشمہ، نہ برق میں ادااور اب کے سال بھی خود دیکھ لیں گے یہ سرکارکہ گونجتے ہیں عقیدت سے کوچہ و بازارروانہ کر دیں کرائے کی گر ضرورت ہے''وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے''ہمارے شہر میں اردو ادب کا دنگل ہےیہ شہر شعر کا اور شاعروں کا جنگل ہےاب اس پہ شاعر شیریں نوا کو ہے یہ گماںکہ میرے شعلے سے روشن ہوئی ہے شمع بیاںادھر سے منتظم اک سوچ اور بچار میں ہےاسے خبر ہے کہ شاعر کس انتظار میں ہےبلانے کے لیے اصرار بھی وہ کرتا ہےکرایہ لے کہ نہ پھر آئے اس سے ڈرتا ہےبنا کے لکھتا ہے دعوت کا اس طرح مکتوبمشاعرے میں دیا جائے گا جو ہے مطلوبغرض بلاتے ہیں وہ شاعروں کو حیلے سےپیام آتے ہیں احباب کے وسیلے سےجو شعر سننے کو اپنے گھروں سے آتے ہیںوہ سب بٹیر لڑانے کا لطف اٹھاتے ہیںوہ جانتے ہیں کہ شاعر ہے ایک مرغ عجیباگر گلا ہے تو شاعر، نہیں گلا تو ادیبیہ سوچتا ہے چلو قسمت آزما دیکھیںسلوک ہوتا ہے اوروں کے ساتھ کیا دیکھیںبہت سے اور بھی شاعر وہاں پر آئیں گےچلو کہ مرگ رقیباں کا لطف اٹھائیں گےہیں کچھ پلے ہوئے شاعر کچھ ان میں خود رو ہیںپرانے گھاگ ہیں کچھ ان میں شاعر نو ہیںوہ دیدنی ہے اگر ہو کچھ ان میں ہنگامہکہ اس اکھاڑے کا ہر پہلواں ہے علامہستاتے رہتے ہیں شاعر کو ایسے اندیشےیہاں تلک کہ نکل آئیں رشتے اور ریشےتعلقات سے آخر کو ہو کے وہ مجبورمشاعرے کو چلا جیسے کام پر مزدورکسی سے قرض لیا اور کسی کی منت کیغرض کہ شاعر آتش نوا نے رحلت کیپھنسا ہے اس لیے پھندے میں شاعر سادہکہ منتظم بھی تھے ہشیار یہ بھی آمادہوہ آ گیا ہے اٹھا کر ہزار دشواریچلے جلو میں اسے لے کے اس کے درباریکسی کے ہاتھ میں پان اور کسی کے ہاتھ میں ہارہر اک یہ کہتا ہے زحمت بہت ہوئی سرکارمشاعرے میں قدم رنجہ آپ فرمائیںتو اہل ذوق نشستوں میں آ کے بھر جائیںتڑپ رہے تھے جو سننے کے واسطے اشعارمشاعرے کے لیے ان کے پاس ہیں درکارٹکٹ خرید کے جو اہل ذوق آئے ہیںوہ آخری صفوں میں خود بخود سمائے ہیںمعززین جو ذوق ادب سے خالی ہیںریزرو ان کے لیے اگلی صف کرا لی ہیںیہ اس لیے کہ نظر میں وہ آپ کی بھی رہیںجو شعر وہ نہ سمجھ پائیں آپ وہ نہ پڑھیںمشاعرے میں خواتین بنتی ہیں سوئیٹرسنبھل کے بیٹھے ہیں شاعر کی تاک میں ہوٹرپڑھا مشاعرہ شاعر نے اہتمام کے ساتھغزل سنائی ترنم کی دھوم دھام کے ساتھکسی نے واہ کہا اور کسی نے ہوٹ کیامشاعرے کو یہ سمجھا کہ میں نے لوٹ لیااسی پہ پھولا ہوا ہے واہ واہ ہوئیتمام رات کٹی نیند بھی تباہ ہوئییہ محفل آ ہی گئی روز و شب کی سرحد پرجناب صدر بھی اب سو چکے ہیں مسند پرجو سامعین ہیں ان پر بھی نیند طاری ہےسواری اس کو ملی جس پہ فضل باری ہےجو منتظم تھے ستاروں کے ساتھ ڈوب گئےگئے وہ شاعروں سے چھپ کے اور خوب گئےنمود صبح سے جب منتشر ہوئی محفلاکیلا رہ گیا شاعر غریب شہر و خجلمشاعرہ بہ جز انداز ہاؤ ہو کیا ہے''تمہارے شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے''
تہذیب و تمدن کا روایات کا مرکزاقلیم وفا قبلۂ اقدار ہے دلی
وقت کی گود میں سوکھے بچےچار سو گھومتے لاغر رانجھےنئے چنگیز نئے نادر شاہآہن ہو شربا کے شب دیزکاہن مکتب نخشب کےفسوں کار بگولے ہیں کہسرسام کے سر چشمے ہیںگونجتے شہ پر آسیب کے خونی پنجےآدم شائق فطرت کے لیےقفل ابجد بھی ہیںزنجیریں بھیروپ کی نگری میں بہروپ کے تاجر آئےدور دیسوں کے فسوں کارزر کاغذ راحت کے لیےچار سو کشتوں کے پشتے بھی لگے ہیں دیکھوکس قدر خون بہا باقی ہےآنکھیں پتھرائی ہیں ماؤں کیغلامان رسوم امواجاپنی اقلیم کی معراجکہاں بیٹھے ہیںذرے ذرے سے نکلتے ہیں اندھیرے بچھو
درد کا نام پتہ مت پوچھودرد اک خیمۂ افلاکاس اقلیم پہ ہے سایہ کناںتم اسے قطب شمالی کہہ لوتم جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھوبرف ہی برف ہےاور رات ہی راتہم وہ موجود کہ جن میں شایدزندگی بننے کے آثار ابھی باقی تھےحشرات ایسے کہ جن کو شایدروشنی اور حرارت کی ضرورت تھی ابھیاس اندھیرے میں کہو برف پہ رینگیں کیسےکوئی بتلاؤ کہ اس رات کے آزار سے نکلیں کیسےرات ایسی کہ جو ڈھلتی ہی نہیںبرف ایسی کہ پگھلتی ہی نہیں
خداوندا!تری اقلیم میں رہتے ہوئے اک عمر گزری ہےمگر اب تک طریق بندگی مجھ کو نہیں آیامرے جذبوں نے اب تک جذب کے معنی نہیں سیکھےابھی تک خواہشوں کے پاس دل کو رہن رکھا ہےابھی تک نیم شب کی ساعتوں کی برکتیں مجھ پر نہیں اتریںمری آنکھوں میں تیری روشنی کے خد و خال اب تک نہیں ابھرےمری آنکھیں ابھی تک بے بصر ہیںاور ستم یہ ہےبصیرت کے دریچے وا نہیں ہوتےخدائے لم یزلتجھ کو زوال آدمیت کی قسممجھ سے مری یہ بے بسی لے لےتجھے تو یہ خبر ہےاس جبین شوق میں سجدے تڑپتے ہیںمگر میں راندۂ درگاہ جب سجدے میں جاتا ہوںتو اپنی توجہصحن کے محفوظ کونے میں رکھی جوتیوں میں چھوڑ آتا ہوں
وہ طرب زار دل قصر غمرات بھر جاگتی آگہی یعنیاقلیم جاںمشینوں کے کھنڈرات میں کھو گئےوہ جو آہنگ عالم تھاخوابوں کا مسکن تھا اور حرف و معنی کی تطہیر تھااپنی بیداریوں کی سزا کاٹنے کے لیےسنگ و آہن میں ڈھالا گیا
بستان وفا دہر میں آباد ہے ہم سےدن رات زمانے کو خدا یاد ہے ہم سےتاریخ جنوں خون سے کی ہم نے نگارشآفاق ہیں ہر مسند ارشاد ہے ہم سےروشن کیا ظلمات میں قندیل ہنر کوصحرا میں چمن نور کا آباد ہے ہم سےہم جنت پرویز کے ہیں حسن تفاخرشیریں کی طلب تیشۂ فرہاد ہے ہم سےسانچے میں غم و درد کے انسان کو ڈھالاشہکار جہاں ساز بھی ایجاد ہے ہم سےخوابیدہ شبستاں میں اذاں ہم نے پکاریایمان سرا دہر کا آباد ہے ہم سےہم شہر تفلسف میں ہیں تدریس کی تنویرشمشیر بکف بازو فولاد ہے ہم سےتعمیر کیا تیشہ فن سے چمن دہرتنقید حق آثار بھی ایجاد ہے ہم سےمعمار یقیں ساز ہیں درویش کے آدابباقی ابھی تعلیم خداداد ہے ہم سےاخلاص کے موتی سے بھرا دامن اغیاراقلیم جہاں میں عدل و راد ہے ہم سےایوان زر و سیم میں محشر ہوا برپاخائف ہمہ تن لشکر شداد ہے ہم سےماحول زمانہ ہے المناک و جگر دوزقائم ولے کچھ رحمت جواد ہے ہم سےسر بازیٔ پیہم سے ہے گلزار مرتبسر چشمۂ انوار کی بنیاد ہے ہم سےہم احسن تقویم کے ہیں بولتی تفسیررنگین دل گیتی کی روداد ہے ہم سےبخشی ہے غلاموں کو بھی احرار کی جرأتدنیا کا گرفتار بھی آزاد ہے ہم سےہم مٹ گئے دنیا سے تو دنیا نہیں ہوگیہر ذرہ ہے روشن تو جہاں شاد ہے ہم سےالحاد کی ظلمت سے زمانے کو نکالااسلاف کی محفل ابھی آباد ہے ہم سےسر مستیٔ کردار سے رخشندہ ہے آفاقمحفوظ ابھی مخزن اجداد ہے ہم سےتہذیب و تمدن کا سبق ہم نے پڑھایاہر حسن جہاں ساز کی ایجاد ہے ہم سےببیاکؔ کہاں گوش بر آواز زمانہکچھ ملت معصوم کی فریاد ہے ہم سے
پیٹھوں پہ ہوائے شمسی مارتی ہے درے۔۔۔دوری حرکت میں آتے ہیں ساکت کرےافکار کا ورطہ بین النجم خلاؤں میںآواز مہیب سے گھومتا ہےسورج کے درخشاں باطن میںتاریکی کا پر ہول ہیولیٰ کودتا ہےشب کی اقلیم کے ہیکل پرکالا بادل اپنا بجلی کا سہ شناخہ لہراتا ہے
اے دوست مرے پاس نہیں لعل و جواہرتو دیکھ کہ کس درجہ ہے سادہ مری پوشاکلیکن مجھے قدرت نے عطا کی ہے فقیریاس بات کا شاہد ہے مرا دامن صد چاکہر چند کہ کم مایہ ہوں دنیا کی نظر میںاقلیم سخن میں ہے مری بیٹھی ہوئی دھاکہر رنگ زمانہ سے ہوں اس عمر میں واقفرفتار زمانہ ہے مری بستۂ فتراکدنیا کو سمجھتا ہوں میں بازیچۂ اطفالجھکتے ہیں مری عزت و تعظیم کو افلاکہیں شمس و قمر میرے ہی فرمان کے تابعحاوی ہے زمانے پہ مری فطرت بے باکلا ریب میں سلطان ہوں قسمت کے جہاں کاہر چند کہ قسمت کا فسانہ ہے المناکبجلی کی حرارت ہے مری موج نفس میںمیں پھونک کے اک لمحہ میں رکھ دوں خس و خاشاکبرتاؤ زمانے کا مرے ساتھ برا ہےمت پوچھ کہ کیوں آنکھ مری رہتی ہے نمناکمیں چاہوں تو تقدیر زمانہ کو بدل دوںچاہوں تو بدل سکتا ہوں میں قسمت لولاک
خوف ابھی جڑا نہ تھا سلسلۂ کلام سےحرف ابھی بجھے نہ تھے دہشت کم خرام سےسنگ ملال کے لیے دل آستاں ہوا نہ تھااقلیم خواب میں کہیں کوئی زیاں ہوا نہ تھانکہت ابر و باد کی مستی میں ڈولتے تھے گھرصاف دکھائی دیتے تھےاس کی گلی کے سب شجرگرد مثال دستکیں در پہ ابھی جمی نہ تھیںرنگ فراق و وصل کی پرتیں ابھی کھلی نہ تھیںایسے میں تھی کسے خبرجب ساعت ماہتاب ہویوں بھی تو ہے کہ اور ہی نقشۂ خاک و آب ہو
اے مشیں زادمدت ہوئیدشت بے ماجرا کی خموشی میںکہنے کو کچھ بھی نہیںبس یہی عرض ہےاس خطا کار کوہفت اقلیم کےبا ہنر خوش زباںجینیاتی رفوگر سے جلدی ملا دےکہ میں اپنی بوسیدہ یادوں کی چادر مرمت کراؤںاور اپنے قدیمی محلے کےاک نیم تاریک سے قہوہ خانے میںپھر اگلے وقتوں کے قصے سناؤں
غزل صداؤں کا ایک جنگلترس رہا ہےبلند و بالا گھنیرے برگد کی شاخ در شاخسنسناہٹ کے زمزموں کو کہ در حقیقتبلند و بالا گھنیرے برگد کی انفرادی تناوری کوفنا کی دیمک نگل گئی ہےغزل جو اردو ادب کے بر صغیر پر تھینئے تقاضوں نئے سلیقوں کا اک ہمالہ صفت سراپاوہ اپنی چوٹی سے منقطع ہےکہ اب وہ چوٹی نہیں رہی ہےغزل کی اس آبرو کے بدلےبس اب تو یادوں کی خلوتوں میںسلگتی سوچوں میں سانس لیتےچند اک فسانےمتاع احباب رہ گئے ہیںوہ چند برسوں کی اک رفاقتجو رسم و رہ کےاٹوٹ سنگم میں ڈھل چکی تھیبس ایک لمحے کی تند کروٹ نے چھین لی ہےحریم دلکرب گاہ اظہار بن گئی ہےلبوں پہ اب مہر خامشی ہےکسے سنائیں وہ دل کی دھڑکنجسے جوابوں کا التفات شعور انگیزبے محابا جھنجھوڑ کراس کی فکریاتی عمیق پرتوں میں سوئی سوئی سیروح احساس کو جگائےجنوں کو مہمیز غم دکھائےپرند تخئیل کو اڑائےخلا کی اقلیم کا مسافرجہاں وہ اٹھ کر چلا گیا ہےوہاں خلا کا سوال کیا ہےخلا تو اب اس کے پیچھے پیچھے ہی رہ گیا ہےجہاں ہم ایسے فقیر تحلیل ہو کے راہیؔوجود بھی اپنا کھو چکے ہیںبہت مکافات بے وجودی کو رو چکے ہیں
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
وہ ہیئت داں وہ عالم ناف شب میں چھت پہ جاتا تھارصد کا رشتہ سیاروں سے رکھتا تھا نبھاتا تھااسے خواہش تھی شہرت کی نہ کوئی حرص دولت تھیبڑے سے قطر کی اک دوربین اس کی ضرورت تھیمری ماں کی تمناؤں کا قاتل تھا وہ قلامہمری ماں میری محبوبہ قیامت کی حسینہ تھیستم یہ ہے یہ کہنے سے جھجکتا تھا وہ فہامہتھا بے حد اشتعال انگیز بد قسمت او علامہخلف اس کے خذف اور بے نہایت نا خلف نکلےہم اس کے سارے بیٹے انتہائی بے شرف نکلےمیں اس عالم ترین دہر کی فکرت کا منکر تھامیں فسطائی تھا جاہل تھا اور منطق کا ماہر تھاپر اب میری یہ شہرت ہے کہ میں بس اک شرابی ہوںمیں اپنے دودمان علم کی خانہ خرابی ہوںسگان خوک زاد برزن و بازار بےمغزیمری جانب اب اپنے تھوبڑے شاہانہ کرتے ہیںزنا زادے مری عزت بھی گستاخانہ کرتے ہیںکمینے شرم بھی اب مجھ سے بے شرمانہ کرتے تھے
آہ یہ وقت کا عذاب الیموقت خلاق بے شعور قدیم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books