aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "isti.aara"
محبت کی ایک نظماگر کبھی میری یاد آئےتو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میںکسی ستارے کو دیکھ لینااگر وہ نخل فلک سے اڑ کرتمہارے قدموں میں آ گرےتو یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کااگر نہ آئےمگر یہ ممکن ہی کس طرح ہےکہ تم کسی پر نگاہ ڈالوتو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹےوہ اپنی ہستی نہ بھول جائےاگر کبھی میری یاد آئےگریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنامیں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گامجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنامیں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گااگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کوتو اپنے قدموں میں دیکھ لینا میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گاکہیں پہ روشن چراغ دیکھوتو جان لینا کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوںتم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینامیں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گاکسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہرک کے تم کو صدائیں دوں گاسمندروں کے سفر پہ نکلوتو اس جزیرے پہ بھی اترنا
اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیںکہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئےوہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتااس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھیکاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئیتم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیاسیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولومیں سمجھ گئی اب اس کی آنکھیںکیٹسؔ کی آنکھیں ہوئی جاتی ہیںمیں جو سوہنی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھیاپنا نام لیلیٰ بتا چکی تھیمیں نے کہالیلیٰ مجمع کی باتیں میرے سامنے مت دہرایا کروتنہائی بھی کوئی چیز ہوتی ہےشیکسپئیر کے ڈراموں سے چن چن کر اس نے ٹھمکے لگائےمجھے تنہا دیکھ کرسارتر فرائڈؔ کے کمرے میں چلا گیاوہ اپنی تھیوری سے گر گر پڑتامیں سمجھ گئی اس کی کتاب کتنی ہےلیکن بہر حال سارتر تھااور کل کو مجمع میں بھی ملنا تھامیں نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا تو بولااتنے سارے سارتروں سے مل کر تمہیں کیا کرنا ہےاگر زیادہ ضد کرتی ہو تو اپنے وارث شاہؔہیر سیال کے کمروں میں چلے چلتے ہیںسارتر سے استعارہ ملتے ہیمیں نے ایک تنقیدی نشست رکھیمیں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھاسو پہلے آدھے فرائڈؔ کو بلایاپھر آدھے راںؔ بو کو بلایاآدھی آدھی بات پوچھنی شروع کیجان ڈنؔ کیا کر رہا ہےسیکنڈ ہینڈ شاعروں سے نجات چاہتا ہےچوروں سے سخت نالاں ہےدانتےؔ اس وقت کہاں ہےوہ جہنم سے بھی فرار ہو چکا ہےاس کو شبہ تھاوہ خواجہ سراؤں سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتااپنے پس منظر میںایک کتا مسلسل بھونکنے کے لیے چھوڑ گیا ہےاس کتے کی خصلت کیا ہےبیاترؔچے کی یاد میں بھونک رہا ہےتمہارا تصور کیا کہتا ہےسارتروں کی تصور کے لحاظ سےاب اس کا رخ گوئٹےؔ کے گھر کی طرف ہو گیا ہے
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
ایک مدت ہوئی سوچتے سوچتےتم سے کہنا ہے کچھ پر میں کیسے کہوںآرزو ہے مجھے ایسے الفاظ کیجو کسی نے کسی سے کہے ہی نہ ہوںسوچتا ہوں کہ موج صبا کے سبک پاؤں میں کوئی پازیب ہی ڈال دوںچاہتا ہوں کہ ان تتلیوں کے پروں میں دھنک باندھ دوںسرمئی شام کے گیسوؤں میں بندھی بارشیں کھول دوں خوشبوئیں گھول دوںپھول کے سرخ ہونٹوں پہ افشاں رکھوںخواب کی مانگ میں نور سندور کی کہکشاں کھینچ دوںاک تخیل کی بے ربطیوں کو تسلسل کی زنجیر دوںخواب کو جسم دوں جسم کو اسم دوںکوئی تعبیر دوں ایک تصویر دوں اور تصویر کو روبرو رکھ کے اک حرف توقیر دوںکیا کہوں یہ کہوں یوں کہوں پر میں کیسے کہوںجتنے الفاظ ہیں سب کہے جا چکے سب سنے جا چکےتشنہ اظہار کو معتبر سا کوئی اب سہارا ملےاک کنایہ ملے اک اشارہ ملےخوبصورت انوکھی علامت ملے ان کہا ان سنا استعارہ ملےآرزو ہے مجھے ایسے الفاظ کی جستجو ہے مجھے ایسے الفاظ کیجن سے پتھر کو پانی کیا جا سکےخواب کو اک حقیقت کیا جا سکےایک زندہ کہانی کیا جا سکےسرحد جاودانی کیا جا سکے
تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماںجنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماںاے ماں تو خوشبو کا نایاب استعارہ ہےاے ماں تو عود میں عنبر میں تو گلاب میں ماںخود اپنی ممتا میں ہی نور کا سمندر ہےنہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماںوہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میںتھی پہلے صرف سوال اب ہے ہر جواب میں ماںمرے سوالوں کے سارے جواب لے آئیچلی گئی تھی مگر لوٹی پھر سے خواب میں ماںمیں جب بھی ذبح ہوئی زندگی کے خنجر سےدکھی ہے خوابوں میں اک دشت اضطراب میں ماںگنوا کے جسم وہ فرصت سے آئی میرے پاسسسک سسک کے سنایا تھی کس عذاب میں ماںمیں ماں کی زندہ نگاہوں کو خود میں جیتی ہوںہر انقلاب میں ہر دم ہر آب و تاب میں ماںمرے عروج کا وہ سلسلہ انعام و سزامرے زوال میں ہر زندہ انقلاب میں ماںتجھے لبھانے کو میں سترنگی بنی تھی ماںیہ جا چھپی ہے تو کس پردۂ غیاب میں ماںبندھی ہیں آنکھیں مری اب بھی موت کے پل سےہے ہر سکوت میں خاموش اضطراب میں ماںامڈ رہے ہیں ہر اک پل سے موت کے ٹھٹھےوہ جا رہی ہے مری پنجۂ عقاب میں ماںوہ جسم ہار گئی موت سے مگر مجھ میںوہ جی کے گویا ہے پھر موت سے جواب میں ماں
اب ان کے سارے سفر میں صبح یقین کوئینہ شام صد اعتبار کوئینہ ان کی اپنی زمین کوئی نہ آسماں پر کوئی ستارہنہ کوئی موسم نہ کوئی خوشبو کا استعارہنہ روشنی کی لکیر کوئی، نہ ان کا اپنا سفیر کوئی
میں انتظار کروں گیاس وقت کاجب کسی جنگ میں محبت جدا نہ ہوگیجب محبت کا دائرہ لا محدود ہو جائے گاجب محبتجسم کی محتاجنہیں رہے گیجب تم مجھےاپنا استعارہ بنا دو گےاور میں خود کو تمہاری تشبیہ بنا لوں گی
میں انتظار مسلسل کا استعارہ نہیںتری نگاہ میں تحریر ہونا چاہتا ہوںجو فاصلوں نے اکٹھا کئے ہیں غم ان پربلک بلک کے ترے ساتھ رونا چاہتا ہوں
کوئی شام آ رہی ہے:کوئی خوش نما ستارہ جو فلک پہ ہنس رہا ہے کسی مہ جبیں کی صورتجو نظر کو ڈس رہا ہےوہی ایک استعارہتری یاد رہ گزر پر مرا ہم سفر بنا ہےوہی اک ضیا سلامتسر شام تیرگی میںمرے کام آ رہی ہےمرے راستے کے آگےکسی رات کا گزر ہےکہیں وہم سر بہ سر ہےکہیں خوف کا اثر ہےکہیں سرسراہٹیں ہیںکہیں جھنجھناہٹیں ہیںنہیں دشت ہو میں آہونہیں جنگلوں میں جگنو
وہ کون ہے جو اداس راتوں کی چاندنی ہیںکئی دعائیں لبوں پہ لے کرملول ہو کربھلا کے ساری تھکان دن کییہ سوچتی ہےکہ میں نہ جانے ہزار میلوں پرے جو بیٹھا ہوںکس طرح ہوںوہ کون ہے جو اداس راتوں کے رت جگے میںدعاؤں کی مشعلیں جلانے کھڑی ہوئی ہےدعائیں جس کی مرے لئے ہیںمیں ان دعاؤں کے زیر سایہزمین سے آسمان کی جانب یوں محو پرواز ہوں کہ جیسےبشر گزیدہ خدا سے ملنے کو جا رہا ہوپھر ایک لمحے کو میرے اندر سے اتنی آوازیں گونجتی ہیںمیں ان سے برسوں سے آشنا ہوںیہ ہاتھ جو کہ بلند ہو کر لرز رہے ہیںیہ ہاتھ میرے لیے تحفظ کا استعارہیہ ہاتھ میرے لیے جہاں کیہزار خوشبو سے بالاتر ہیںیہی تو ہیں وہ جنہوں نے مجھ کوقدم اٹھانا قدم بڑھانا سکھا دیا ہے
خواب اک پرندہ ہےآنکھ کے قفس میں یہجب تلک مقید ہےعکس بن کے زندہ ہےخواب اک پرندہ ہےخواب اک پرندہ ہےزرد موسموں میں بھیخوش گوار یادوں کوتازہ کار رکھتا ہےآنے والے موسم کےگیت گنگناتا ہےشاخ شاخ پر مہکےپھول چن کے لاتا ہےاور پھر ہوا کے دوشخوشبوؤں کا ساتھی ہےخواب اک پرندہ ہےخواب اک پرندہ ہےزیست کے سمندر میںخواہشیں جزیرہ ہیںاور اس جزیرے میںخوف کا اندھیرا ہےاور اس اندھیرے میںخواب سا پرندہ ہےصبح کا ستارہ ہےدن کا استعارہ ہے
سبو ٹوٹےمحبت کی نمازوں میںوضو ٹوٹےدعا روئیدعا کے آسمانوں پرکئی چشمان و لب روئےکبھی کوئی سبب رونے کا نکلا ہےمگر ہم بے سبب روئےزمینوں اور زمانوں کی عجبرنجو گردش میںہوا کے آستانے پرجھکائے سر پشیماں بے زباںتنہائیوں کے قافلے اترےوہی ہم تھےمجسم بندگی زخمی تماشے کے نشانے پرکبھی سہمے ہوئے خواہش کیرتیلی فضاؤں میںتمہیں دیکھا تمہیں چاہاکبھی موسم فراموشی کے نرغے میںاداسی کی فصیلوں پراذان خود کلامی دیتمہارے فاصلوں کو اپنی محرومی کی خلوت میںبٹھایا بام و در کواجنبیت کے ستاروں سے سجایاوہی ہم تھےہماری بات کے رقص جنوں میںکھو دیا تم کووہی تم تھےوداع لمحۂ تعجیل کی خاطرتھکے ٹوٹے ہوئے آ کر لپٹ جانےکی خواہش میںبکھرتے اپنی آنکھوں کے مقدس موتیوں میںلمحۂ آخر گزر جانے کی دھن میںعمر بھر خود سے گریزاں رہ گئےہم تم حجاب نا شناسائی کےمجرم بن گئےہر فاصلہ کتنے ادھورے فاصلوں کااستعارہ ہےسمندر دیکھ تیری آستینوں میںفغاں کرتا کنارہ ہےملاقاتیں، نہیں پھر بھی ملاقاتیںملاقاتوں کی کچھ امید باقی رہ نہ جائےاشک کا اک آخری قطرہ بھییوں ہی بہہ نہ جائے
چپکے چپکے رات کو تشریف جب لاتا ہے چاندہر طرف دھرتی پہ کیسا نور برساتا ہے چاندپہلے دن کے چاند کو سب لوگ کہتے ہیں ہلالچودھویں تاریخ ہو تو بدر کہلاتا ہے چاندپر سکوں ماحول تارے کہکشاں ٹھنڈی ہوارات کی محفل میں اکثر رقص فرماتا ہے چاندجب گھٹا گھنگھور آتی ہے کبھی برسات میںاوڑھ کر سپنوں کی چادر شب میں سو جاتا ہے چاندکہتی ہے بچہ کو میرا چاند کہتے پیار سےاستعارہ پیار میں اک ماں کے بن جاتا ہے چاندہر گھڑی بیتاب ہیں ماما کے درشن کے لیےچھوٹے بچوں کے دلوں کو خوب بہلاتا ہے چاندتم کو بھی بچپن میں اے ابرارؔ کتنا پیار تھاجس طرح دانشؔ میاں کو آج کل بھاتا تھا چاند
محبت خواب گل ہےشاخ دل کی سونی پلکوں پرلرزتا خواب گلجو نخل جاں کے زرد روگرتے ہوئے پتوں کیسانسوں میں مہکتا ہےمحبت زندگی کے سبز افق پردور تک پھیلی ہوئی خوشبو کی لو ہےجو کبھی دل کے دریچوں میںاتر کر مسکراتی ہےتو ہر سو روشنی سی پھیل جاتی ہےمحبت رمز ہستی ہےیہ ایسا بھید ہے جو کتنے برسوںبلکہ عمروں کیمسلسل بے ریا کاوش پہ کھلتا ہےتو گویا یوں محبتزندگی کا استعارہ ہےکہ جس کا ہر بیاں الفاظ کی چھباور لہجوں کا کھنک سےماورا ہو کر بھیدنیائے معافی اپنی خاموشی میں رکھتا ہےمحبت خواب گل بھی ہےمحبت رمز ہستی بھی
سنو تم لکھ کے دے دو ناکہانی میں کہاں سچ ہےکہاں پہ رک کے تم نے غالباً کچھ جھوٹ لکھنا ہےکہاں ایسا کوئی اک موڑ آنا ہےجہاں چالان ممکن ہےکہاں وہ بیش قیمت ساسنہری چھوٹا سا ڈبہ جو اپنی دھڑکنوں سے اپنے ہونے کی گواہی دے رہا ہےٹوٹ جانا ہےکہاں قاری کو سمجھانا ہےدکھ کے اس الاؤ میں جھلستی سی کہانی روک دینا ہی ضروری ہےسفر میں رک کے سب کو الوداع کہنے کا لمحہ لازمی ہےکہاں تاریخ لکھ کے اس قلم کو جیب میں رکھنا ضروری ہو گیا ہےسنو تم یہ بتاؤ ناتمہاری طلسماتی سی کہانی میں کوئی کردار تو ہوگاجو ذمے دار ہوگاکہاں پر مرکزی کردار نے دکھ درد سینے میں چھپانا ہےفلک کو بد گماں کر کےزمیں کو آسماں ہوتا دکھانا ہےندامت اور ملامت ساتھ رکھنی ہےہر اک ساعت کے سارے دکھ اٹھانے ہیںنبھانے ہیںبتانا ہےمحبت زندگی کا استعارہ ہےمحبت رات کا پہلا ستارہ ہےیادکھ کا آخری کوئی کنارہ ہے
تو کہ شہکار صناع ہر اولیںتو بیاں میں نہیں دسترس میں نہیںحسن کافر ترا آنکھ توبہ شکنداؤ پر لگ گئے جان و ایمان بھیتو دلیل سحر شمع بحر و برراہ ایمان بھی رنگ وجدان بھیتیری آنکھوں میں دیر و حرم قید ہےجام گلفام کیا جام جم قید ہےگاہے رنگ غلاف حرم ہو گئیںگاہے رنگ حنا دم بہ دم ہو گئیںگاہے کتنوں کو بھٹکا دیا راہ سےگاہے یہ منزلوں کا علم ہو گئیںتیری پلکیں جھکیں چاند ڈھلنے لگےشام ہونے لگی زخم جلنے لگےساحرہ پھر ترا سحر ہونے لگالوگ گرنے لگے ہوش اڑنے لگےتیرا رخسار ہے چاندنی کی حیادودھ میں جیسے سندور گھلنے لگاتیرے رخسار رنگ شفق ہو گئےیعنی یہ شاعری کے افق ہو گئےکس کو تشبیہ دوں استعارہ کروںلب کو لب کے لیے ہی گوارا کروںہونٹ کیا آیتیں ہیں یہ قرآن کیجان ہیں جان جاں یہ تری جان کیان سے چھو لیں تو الفاظ خوشبو بنیںقہقہے نور بن جائیں جادو بنیںشبنمی پنکھڑی پنکھڑی ہیں فقطاور کیا میں کہوں زندگی ہیں فقطسوچتا ہوں تو کچھ سوچا جاتا نہیںحسن تیرا تو اب دیکھا جاتا نہیںیعنی جاوید اخترؔ نے سچ ہی کہاحسن جاناں کی تعریف ممکن نہیںحسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں
خلا کی مشکلات اپنی جگہ قائم تھیں اور دنیااجڑتی بھربھری بنجر زمینوں کی نشانی تھیستارے سرخ تھے اور چاند سورج پر اندھیروں کا بسیرا تھادرختوں پر پرندوں کی جگہ ویرانیوں کے گھونسلے ہوتےزمیں کی کوکھ میں بس تھور تھا اور خار اگتے تھےہوا کو سانس لینے میں بہت دشواریاں ہوتیںتو پھر اس نور والے نے کوئی لوح انارہ بھیج دی شایداندھیرے روشنی پہ کس طرح ایمان لے آئےبلائیں کس طرح پریوں کی صورت میں چلی آئیںیہ کس نورل ثویبا کی خدا تخلیق کر بیٹھایہ نرمی دلبری شرم و حیا تخلیق کر بیٹھاوہ نورل وہ ثویبا جس کی خاطر آسماں سے رنگ اترے تھےوہ جس کے دم سے دنیا پر نزاکت کا وجود آیاخدائے خلق نے نورل سے پہلے ہی ہوس تخلیق کر دی تھینزاکت تک ہوس کی دسترس تخلیق کر دی تھیہزاروں سال گزرے ہیں مگر فطرت نہیں بدلینگاہیں اب بھی بھوکی ہیں کہ جیسے کھا ہی جائیں گیہوس زادوں نے کیسے نور سے منہ پر ملی کالکہر اک رشتہ ضرورت کے مطابق کس لئے بدلاہوس زادو بدن خورو ذرا سی شرم فرماؤوہ نورل وہ ثویبا روشنی کا استعارہ تھیکبھی حوا کبھی مریم کبھی لوح انارہ تھیوہ عورت تھی
جان ہندوستان تھا نہروجیسے اس کی زباں میں تھا جادووہ وجاہت وہ شان تھی اس میںواقعی آن بان تھی اس میںامن عالم کا وہ پیامی تھاالغرض دوستی کا حامی تھاہند کے آسماں کا تارا تھاہم کو اس نے بہت سنوارا تھاروح پرور رخ و جمال اس کاروشنی ارتقا خیال اس کالمس گل سے رہا معطر بھیلعل بھی وہ تھا اور جواہر بھیعلم و حکمت سے پیار کرتا تھاعقل وہ اختیار کرتا تھالب پہ جے ہند اس کے نعرہ تھالینا آزادی صرف منشا تھانور افزا ہیں یوں کرم اس کےنقش میں ہر طرف قدم اس کےہر نفس احترام کرتے ہیںہم اسے سب سلام کرتے ہیںرنگ اس نے دیا فسانے کوروشنی دے گیا زمانے کووہ کہ بچوں کو سب سے پیارا تھاوہ محبت کا استعارہ تھا
استعارہاداس راتوں کی تیرگی میںاگر کوئی نغمہ ریز طائرخود اپنی مرضی سے راہ بھولا ہوا پرندہکہ جس کا ننھا سا دلمحبت کے سارے جذبوں سے آشنا ہوکہ جس کے پر دکھ چکے ہوں لیکنوہ اڑ رہا ہونئی فضاؤں کو ڈھونڈھتا ہومیں اس کو آواز دے رہا ہوںوہی تو ہے میرا استعارہمیں چاہتا ہوں کہ ساتھ میرےوہ گیت گائےنئی رتوں کے محبتوں کےزمیں کو خوش رنگ کرنے والیتمام گل ریز ساعتوں کے
آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیںاپنی گلو گیر آواز میں کہہ رہی ہیں،درختوں کی چنگھاڑنیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کااونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہےیہ اس ظلم کا استعارہ ہےجو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے ابلا ہےآندھیوں میں تھا اک شور کرب و بلااور میں نے سنا کربلا۔۔۔کربلارات کے سہم سے، ان کہے وہم سےبند آنکھوں میں وحشت زدہ خواب اتراصبح اخبار کی سرخیاں بن گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books