aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kham-ruu.ii"
میں کتاب غم ہستی کی ہوں تحریر کوئیالجھی الجھی سی ہو پیچیدہ سی تفسیر کوئیمیں کہ اک جبر مسلسل میں پسا جاتا ہوںدھندلی دھندلی سی عبارت میں بنا جاتا ہوںجبر ایسا ہے کہ لمحوں کی خطائیں جیسےبن گئیں صدیوں کی وہ ساری سزائیں جیسےجبر کی حد بھی مقرر نہیں میری خاطریعنی میں سادہ مزاج اور وہ ظالم شاطرپوچھتا بھی نہیں مجھ سے کہ ترا صبر ہے کیوںاور وضاحت بھی نہیں اس کی کہ یہ جبر ہے کیوںپہلے خوشبو مری گم گشتہ سی راہوں کی ملےپھر سزا جو بھی ملے کردہ گناہوں کی ملےمیں وہ تحریر ہوں پڑھتا نہیں جس کو کوئیاور پڑھ لے تو سمجھتا نہیں جس کو کوئیرسم خط اجنبی جس کا وہ عبارت ہوں میںجس کی بنیاد ہے خستہ وہ عمارت ہوں میںمکڑیوں نے مرے اطراف بنے ہیں جالےیہ ہیں جالے مرے سمجھے ہوئے دیکھے بھالےچاندنی میری ہے اور نہ ہی ستارے میرےمیری کشتی ہے نہ دھارے نہ کنارے میرےمیرے ماتھے پہ تبسم کی شکن بھی ہوگیاس کے پیچھے کئی رشتوں کی تھکن بھی ہوگیمیں پہنچ جاؤں گا اک روز زمیں کے نیچےخاک ہی ہوگی پھر اس خاک نشیں کے نیچےگرد جم جائے گی اک روز مری تربت پرپھر تو میں رو بھی نہ پاؤں گا تری حرکت پرذہن ماؤف ہے اور دل ابھی شق ہے میراتجھ پہ اے عمر رواں تھوڑا تو حق ہے میرااے مری روح کے مالک یہ مقدر کر دےمیں غم زیست کا مارا مجھے پتھر کر دےیا حساب کم و بیش آج برابر کر دےیا مری روح مرے جسم سے باہر کر دے
مرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے تو میں نے یہ سوچامرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہےمگر یہ جان کر میں کتنا خوش ہوں کتنا آسودہکہ میری روح میرا ذہناور افکار و احساسات ہیںمحفوظ کیڑوں سےمجھے ان کا خیال آتا ہےجن کی روح کو اور ذہن کوچاٹا ہے کیڑوں نےچھپانا چاہتے ہیں جو لباس فاخرہ میں ان گنت کیڑےدبانا چاہتے ہیں عطر کی خوشبو سے جو باطن کی بدبو میںجنہیں کیڑوں نے کیڑا کر دیا ہےلیکننظر آتے ہیں جو اب بھی ہمیں انسان کی صورتکہ ہیں کچھ اور دنان کے لباس ان کے بدنمحفوظ کیڑوں سےوہ دن نزدیک ہے جب ان پر زہریلی دوا چھڑکیں گےنسل نو کے دانشور
بچے کھیل رہے ہیں اپناشوریکار کا کھیل پراناراگ یگ کہے دھوپ جہاںپیلی ہے تو کبھی دھانیبہتا پانیروئیدہ الجھاؤخس و خاشاک دھتورا ناگ پھنیاور وہیں چمپا کی شاخ بھیسرتابی سے پھولے پھلےآہن تیز کڑی دھوپوں کااور بھی کچھ پگھلےتپتا خون ہے پی جائے گاسوم امرت کا یہ گھونٹلو چلتی رہیقطرہ قطرہ پسینہ کب کا سوکھ چکاتازہ دلی کے ہلکورے آنکھوں میں مگراب بھی باقیدھول بھری پگڈنڈی بلکھاتی مڑتی ہےرقص کناں ہے بگولے میں اک برگ سرخکوہستانی سلوں کے بیچ چمکتا پانیاک جھاڑی سے اڑانیں بھرتیبالا بالا پروں کی جھلملدوسری جھاڑی میں روپوشاتنی سی اک بات اسی سےسونا سونا دل کا افقرنگ بھرا نیرنگ بھراجل میں ڈوبے عکس اڑےتتلی کے پروں سےوہ جل تھانرموہیہلچل سے جو باز رہادل تو نہ تھاکب اس کی تھاہ میں جھلکا ہوادمکی دمکی ہن برساتی دھند کا اک پوربتتلی کے پروں سے اڑ پایا
ہے دسہرا یادگا عظمت ہندوستاںہندوؤں کی اک قدیمی فتح و نصرت کا نشاںاک مٹی سی یہ نشانی دولت و اقبال کییاد دلواتی ہے ان ایام فرخ فال کیجب کہ تھی ہم میں بھی ایسے زور و طاقت کی نمودہیچ تھی دیوان روئیں تن کی جس سے ہست و بودجب اکیلے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ہم بہر نبرداور کر دیتے تھے اپنے دشمنوں کو گرد گرددل میں ہمت ہاتھ میں اپنے فقط شور الاماںباندھ کر وہ پل سمندر کو کیا ہم نے عبورجس کو حیراں دیکھ کر ہیں آج بھی اہل شعورفوج راون لا تعد تھی ریگ صحرا کی طرحاور امنڈ آئی تھی وقت جنگ دریا کی طرحراون خونخوار اور وہ کوہ پیکر اس کے دیوجن کی خوں خواری کا تھا سارے زمانے میں غریوقلعہ وہ لنکا کا جو نا قابل التسخیر تھاجس پہ نازاں اپنے دل میں راون بے پیر تھاتھے طلائی برج جس کے اور مرصع بام و درجن کی چوٹی پر نہ پہنچے کوئی مرغ تیز پرسودۂ لعل و زمرد تھی وہاں کی خاک بھیاک طلسم ایسا کہ قاصر تھا جہاں اور اک بھیہم نے ایسے دشمنوں پر فتح پائی تھی کبھیاپنے حصے میں بھی یہ معجز نمائی تھی کبھیآج وہ دن ہے کہ ہم اس یاد کو تازہ کریںروئے زیبائے عروس فتح پر غازہ کریںمل کے گائیں رام کے گن دل میں ہو جوش سرورقلب صافی مخزن وحدت ہو سینہ رشک طوریہ دسہرا عشرۂ عشرت ہے اپنے واسطےخالق کونین کی نعمت ہے اپنے واسطے
سمندر خان اک پشتو کا شاعرجا رہا تھا گاؤں سے دور ایک ویرانے میںیک دم اک جھپاکا سا ہوااور ذہن کے پردے پہ اک دھندلا ہیولیٰ بننے اور مٹنے لگاپر شومیٔ قسمت قلم ہی جیب میں تھا اور نہ کاغذ کا کوئی پرزہسمندر خان رک کر اور اک پتھر پہ ٹک کر میچ کر آنکھوں کودنیا اور ما فیہا سے بیگانہ ہوا
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیرگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلییہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹافضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئیدھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کےسیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئییہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس کاکہ بوئے درد میں ہر سانس ہے بسائی ہوئیخنک اداس فضاؤں کی آنکھوں میں آنسوترے فراق کی یہ ٹیس ہے اٹھائی ہوئیسکوت نیم شبی گہرا ہوتا جاتا ہےرگیں ہیں سینۂ ہستی کی تلملائی ہوئیہے آج ساز نوا ہائے خونچکاں اے دوستحیات تیری جدائی کی چوٹ کھائی ہوئیمری ان آنکھوں سے اب نیند پردہ کرتی ہےجو تیرے پنجۂ رنگیں کی تھیں جگائی ہوئیسرشک پالے ہوئے تیرے نرم دامن کےنشاط تیرے تبسم سے جگمگائی ہوئیلٹک وہ گیسوؤں کی جیسے پیچ و تاب کمندلچک بھوؤں کی وہ جیسے کماں جھکائی ہوئیسحر کا جیسے تبسم دمک وہ ماتھے کیکرن سہاگ کی بندی کی لہلہائی ہوئیوہ انکھڑیوں کا فسوں روپ کی وہ دیوئیتوہ سینہ روح نمو جس میں کنمنائی ہوئیوہ سیج سانس کی خوشبو کو جس پہ نیند آئےوہ قد گلاب کی اک شاخ لہلہائی ہوئیوہ جھلملاتے ستارے ترے پسینے کےجبین شام جوانی تھی جگمگائی ہوئیہو جیسے بت کدہ آذر کا بول اٹھنے کووہ کوئی بات سی گویا لبوں تک آئی ہوئیوہ دھج وہ دلبری وہ کام روپ آنکھوں کاسجل اداؤں میں وہ راگنی رچائی ہوئیہو خواب گاہ میں شعلوں کی کروٹیں دم صبحوہ بھیرویں تری بیداریوں کی گائی ہوئیوہ مسکراتی ہوئی لطف دید کی صبحیںتری نظر کی شعاعوں کی گدگدائی ہوئیلگی جو تیرے تصور کے نرم شعلوں سےحیات عشق سے اس آنچ کی تپائی ہوئیہنوز وقت کے کانوں میں چہچہاہٹ ہےوہ چاپ تیرے قدم کی سنی سنائی ہوئیہنوز سینۂ ماضی میں جگمگاہٹ ہےدمکتے روپ کی دیپاولی جلائی ہوئیلہو میں ڈوبی امنگوں کی موت روک ذراحریم دل میں چلی آتی ہے ڈھٹائی ہوئیرہے گی یاد جواں بیوگی محبت کیسہاگ رات کی وہ چوڑیاں بڑھائی ہوئییہ میری پہلی محبت نہ تھی مگر اے دوستابھر گئی ہیں وہ چوٹیں دبی دبائی ہوئیسپردگی و خلوص نہاں کے پردے میںجو تیری نرم نگاہی کی تھیں بٹھائی ہوئیاٹھا چکا ہوں میں پہلے بھی ہجر کے صدمےوہ سانس دکھتی ہوئی آنکھ ڈبڈبائی ہوئییہ حادثہ ہے عجب تجھ کو پا کے کھو دینایہ سانحہ ہے غضب تیری یاد آئی ہوئیعجیب درد سے کوئی پکارتا ہے تجھےگلا رندھا ہوا آواز تھر تھرائی ہوئیکہاں ہے آج تو اے رنگ و نور کی دیویاندھیری ہے مری دنیا لٹی لٹائی ہوئیپہنچ سکے گی بھی تجھ تک مری نوائے فراقجو کائنات کے اشکوں میں ہے نہائی ہوئی
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہےآہ جولاں گاہ عالمگیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دل دادہ ہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزادیدۂ عبرت خراج اشک گلگوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہےآہ اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میںسوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا ہے جبیں گستر فلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیر جہانبانی سے ڈرتا تھا زوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گورشورش بزم طرب کیا عود کی تقریر کیادردمندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیںروح مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیاآہ کیا آئے ریاض دہر میں ہم کیا گئےزندگی کی شاخ سے پھوٹے کھلے مرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوس خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسم یہ خس آتش سوارچاند جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربیکسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنازندگی اقوام کی بھی ہے یوں ہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نےآہ مسلم بھی زمانے سے یوں ہی رخصت ہواآسماں سے ابر آزاری اٹھا برسا گیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادئ گل خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
تیرے میرےدکھ سکھ میںرت کا جادو باقی ہےچھوڑ کے پختہ رنگوں کواور نہیں کچھ خامرات ادھورے جاڑے کیساون کی اک شام
فندک فندک فندک فکدھنک دھنک دھن دھنک دھنکتانت بجی اور نکلا راگروئی بنی صابن کا جھاگکیسی چھنتی جاتی ہےبادل بنتی جاتی ہےکتنا ڈھیر ہوا آہامیں اس ڈھیر پہ کودوں گاکوئی چوٹ نہ آئے گیروئی مگر دب جائے گیاتی روئی اتنا ڈھیرہو گئی بارہ تیرہ سیرلے اب روئی ہو گئی صافبھر لے تکیے اور لحافان سے سب سکھ پاتے ہیںاوڑھتے اور بچھاتے ہیںملتا ہے سب کو آرامواہ رے دھنیے تیرا کامواہ ری دھنکی دھنک دھنکفندک فندک فک فک فک
بانہوں میں سانپ لپیٹےجب تو مجھ سے ملتی ہےتیری سانس میںایک نہ ایکزہر کی لہرکم ہوتی ہے
تیری گفتگو میںایک جستجو ہےجو میرے روبرو ہےمیرا ہو بہ ہو ہےمیرا میںاور تیرا میںدراصل یہی تودونوں کا عدو ہےچلو اس میں کافاصلہ مٹا دیںمگرمیں کی اس انا میں قیدہمارے وجود کویہ فیصلہمنظور کب ہے
بہت خوبصورتخوش نماہنستے مسکراتےگاتے گنگناتےوہ دھڑکتے لمحےجیتے جاگتے لمحےیک بیکایک دنہو گئے روبروپرانی کتاب کےپنے میں دبے ہوئےلیکن یہ کیاتازہ گلابوں سے بھی زیادہمہک رہے تھے یہان سوکھے ہوئے پھولوں سےآ رہی تھیگزرے ہوئے پلوں کیتازہ خوشبو
آ جا ری چڑیاآ جا ری چڑیامنڈیر پر کیوںکرتی ہے چوں چوںآ جا تجھے میںدانہ کھلاؤںروٹی کے بھورےچھت پر بکھیروںلے اپنا کھاجاکھا جا ری چڑیاسن لے ری چڑیاسن لے ری چڑیاکیا ننھے ننھےبچے ہیں تیرےکرتے ہیں چیں چیںاتنے سویرےلے میں نے گیہوںچھت پر بکھیرےیہ دانے دنکےچن لے ری چڑیاسن لے ری چڑیاسن لے ری چڑیاآ پیاری چڑیاآ پیاری چڑیااڑاڑ کے آنامڑ مڑ کے جانابچوں کو اپنےدانہ کھلانالگتا ہے جی کوکیسا سہاناکیا پیارا پیاراہے تیرا گاناگا خوب دن بھرگا پیاری چڑیاآ پیاری چڑیاآ پیاری چڑیااڑ جا ری چڑیااڑ جا ری چڑیاوہ مانو بلیبیٹھی ہے دبکیتجھ کو پکڑ کربس کھا ہی لے گیمٹی کے اوپرجا بیٹھ اونچینیچے نہ آنامڑ جا ری چڑیااڑ جا ری چڑیااڑ جا ری چڑیا
شام کی شرمیلی چپ کوروح میں محسوس کرتےکام میں مصروف ہیں ہم دوپہر سےدل کی آنکھیں دیکھتی ہیں گہری گہری سبز شاخوں کوجو بیٹھی ہیں خموشی سےکئے خم گردنیں اپنیکسی دلہن کی صورتسر پہ اوڑھے آسماں کی سرمئی چنریستارے جس میں ٹانکے جا رہے ہیںہم اپنے اس تصور پر خود ہی مسکا رہے ہیں
وہ درجن بھر مہینوں سےسدا ممتاز لگتا ہےدسمبر کس لئے آخرہمیشہ خاص لگتا ہےبہت سہمی ہوئی صبحیںاداسی سے بھری شامیںدوپہریں روئی روئی سیوہ راتیں کھوئی کھوئی سیگرم دبیز شعلوں کاوہ کم روشن اجالوں کاکبھی گزرے حوالوں کاکبھی مشکل سوالوں کابچھڑ جانے کی مایوسیملن کی آس لگتا ہےدسمبر کس لیے آخرہمیشہ خاص لگتا ہے
تم نےشاید کسی رسالے میںکوئی افسانہ پڑھ لیا ہوگاکھو گئی ہوگی روپ کی رانیعشق نے زہر کھا لیا ہوگا
رات ہی رات میںراستے شہر سے جنگلوں کو مڑےنیند گم ہو گئیخوب صورت حسیں خوب رو لڑکیاںعورتیں بن گئیںبہتے پانی میں ان کو بہایا گیاخواب زادے ہوئے داستانوں میں گمرات ہی رات میںاژدھے نوجوانوں کا دل کھا گئےنیٹی جیٹی پہ سب لاپتہ ہو گئےآن کی آن میںشہر کیسے مٹاخواب کیسے جلا
روئے مہتاب کی ضو فشانی لئےسچ کی پرچھائیاں رقص میں ہیں مگنسوز پنہاں لئے جان عریاں لئےکہکشاں کہکشاں روشنی کے دیےموجزن ضو فگن عرش سے فرش تکعزم کا ہاتھ میں اپنے پرچم لئےچشم بینا اگر ہے تو تم دیکھ لویا کسی بندۂ حق سے تم پوچھ لوقلب روشن اگر ہے تو اے ہم نشیںشب کی تاریکیاں زلف کے پیچ و خمتار ریشم کی صورت نکھر جائیں گےجتنے ناسور ہیں دل کے بھر جائیں گےجھوٹ خود آگ میں اپنی جل جائے گاصورت خاک ہر سو بکھر جائے گا
جسم کا جس روپ کا رس کام کا کسزندگی کی یہ سہانی دھوپ بہلاتی رہی ہے میرے من کوخوب گرماتی رہی ہے آرزوؤں کی پون کواور چمکاتی رہی ہے اپنے پن کودے کے اک نشہ نین کو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books