aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mazbuut"
ٹوکرا سر پر بغل میں پھاوڑا تیوری پہ بلسامنے بیلوں کی جوڑی دوش پر مضبوط ہل
تجھ سے منہ موڑ کے منہ اپنا دکھائیں گے کہاںگھر جو چھوڑیں گے تو پھر چھاؤنی چھائیں گے کہاںبزم اغیار میں آرام یہ پائیں گے کہاںتجھ سے ہم روٹھ کے جائیں بھی تو جائیں گے کہاںتیرے ہاتھوں میں ہے قسمت کا نوشتہ اپناکس قدر تجھ سے بھی مضبوط ہے رشتہ اپنا
آج اندھیرا مری نس نس میں اتر جائے گاآنکھیں بجھ جائیں گی بجھ جائیں گے احساس و شعوراور یہ صدیوں سے جلتا سا سلگتا سا وجوداس سے پہلے کہ سحر ماتھے پہ شبنم چھڑکےاس سے پہلے کہ مری بیٹی کے وہ پھول سے ہاتھگرم رخسار کو ٹھنڈک بخشیںاس سے پہلے کہ مرے بیٹے کا مضبوط بدنتن مفلوج میں شکتی بھر دےاس سے پہلے کہ مری بیوی کے ہونٹمیرے ہونٹوں کی تپش پی جائیںراکھ ہو جائے گا جلتے جلتےاور پھر راکھ بکھر جائے گی
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
جان محمد خانسفر آسان نہیںدھان کے اس خالی بورے میںجان الجھتی ہےپٹ سن کی مضبوط سلاخیں دل میں گڑی ہیںاور آنکھوں کے زرد کٹوروں میںچاند کے سکے چھن چھن گرتے ہیںاور بدن میں رات پھیلتی جاتی ہے۔۔۔آج تمہاری ننگی پیٹھ پرآگ جلائے کونانگارے دہکائے کونجد و جہد کےخونیں پھول کھلائے کونمیرے شعلہ گر پنجوں میں جان نہیںآج سفر آسان نہیںتھوڑی دیر میں یہ پگڈنڈیٹوٹ کے اک گندے تالاب میں گر جائے گیمیں اپنے تابوت کی تنہائی سے لپٹ کرسو جاؤں گاپانی پانی ہو جاؤں گااور تمہیں آگے جانا...۔۔۔اک گہری نیند میں چلتے جانا ہےاور تمہیں اس نظر نہ آنے والے بورے۔۔۔۔۔۔اپنے خالی بورے کی پہچان نہیںجان محمد خانسفر آسان نہیں
بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے!بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟بخارا سمرقند نیندوں میں مدہوشاک نیلگوں خامشی کے حجابوں میں مستوراور رہروؤں کے لیے ان کے در بندسوئی ہوئی مہ جبینوں کی پلکوں کے مانندروسی ''ہمہ اوست'' کے تازیانوں سے معذوردو مہ جبینیں!بخارا سمرقند کو بھول جاؤاب اپنے درخشندہ شہروں کیطہران و مشہد کے سقف و در و بام کی فکر کر لوتم اپنے نئے دور ہوش و عمل کے دل آویز چشموں کواپنی نئی آرزوؤں کے ان خوبصورت کنایوں کومحفوظ کر لو!ان اونچے درخشندہ شہروں کیکوتہ فصیلوں کو مضبوط کر لوہر اک برج و بارو پر اپنے نگہباں چڑھا دوگھروں میں ہوا کے سواسب صداؤں کی شمعیں بجھا دو!کہ باہر فصیلوں کے نیچےکئی دن سے رہزن ہیں خیمہ فگنتیل کے بوڑھے سودا گروں کے لبادے پہن کروہ کل رات یا آج کی رات کی تیرگی میںچلے آئیں گے بن کے مہماںتمہارے گھروں میںوہ دعوت کی شب جام و مینا لڑھائیں گےناچیں گے گائیں گےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےوہ گرمائیں گے خون محفل!
تمہیں کب یاد ہوگاٹوٹتے کمزور لمحوں کے یہ بندھن کس قدر مضبوط ہوتے ہیںکہ اب میں ہر برس جولائی کی انیسویں تپتی جھلستی دوپہر میںخواب جگنو اور ستارے اپنی آنکھوں پر رکھے محسوس کرتا ہوںتمہیں چھوتا ہوں پلکوں سےہوا میں انگلیاں بھر کرتمہارے کان سے سرگوشیاں کرتے ہوئے بالوں کواک تمہید دیتا ہوںنگاہ خواب آلودہ کے بوسوں سےتمہارے جسم کی ساری صفوں پر لفظ رکھتا ہوںتمہیں بھرتا ہوں بانہوں میںتمہاری یاد رفتہ سے وہی لمحہ اٹھا کر وقت کو ساکت بناتا ہوںتو پھر وہ موڑ آتا ہےجہاں اوہام الہامی نظر آتے ہیںاور اک نظم کی تخلیق ہوتی ہے
مگر اک روز جب اس نے مرے مضبوط ہاتھوںمیںیہ دنیا چھوڑ دیمیری بھی انگلی کٹ گئییہ زندگی جو ایک دل میں مجتمع تھی سینکڑوں ٹکڑوں کے اندر بٹ گئی
تمہاری آنکھیں تم وہیں تو بستے ہوایک جسم کو دنیا نے تمہارا نام دیاتمہیں پایا تمہاری آنکھوں میں ہے میں نےان دو پلکوں نے چھوا ہے مجھےتمہاری انگلیوں کے جادوئی اسپرش سیمیرے چہرے کی نرم گلابی گلیوں میں کھوئیمیری زلفوں میں الجھی ہوئی ریشم سے تر بہ تر یہ آنکھیںکبھی ہونٹھ بن کر تمہاری سانسوں کی آہٹ کوچپکے سے میرے کانوں میں رکھ جاتی ہےتمہارے ذہن میں پنپ رہے ہرنازک جذبات کی خوشبو ہے تمہاری آنکھیںمیرے کانپتے ہونٹوں پہ تمہارے ہونٹوں کےنشان ہے تمہاری آنکھیںوہی تو ہے جو ہتھیلیاں بن کر مضبوطی سےمیرا ہاتھ تھامے ہوئے ہے اب تکتمہارے دل سی دھڑکتی ہے تمہاری آنکھیںمیرے اشکوں کا ہر ایک قطرہان کی نمی میں ڈوب کر ایک ہو جاتا ہےرات کے سناٹے میں مضبوط باہیں بن کراپنی ٹھنڈک میں سلا دیتی ہےتمہارے قدم بن کر ساتھ چلی ہے جیسے تم چلتےاس نے لوٹا نہیں لوٹایا ہے مجھے اپنے آپ کوان آنکھوں میں ایک گھر بسایا ہے میں نےتمہارے جسم میں جڑی ہے مگرمیری ہے تمہاری آنکھیں
ببول کا پیڑ چھایا نہیں دیتااس کے کانٹے چبھ جائے تو درد ہوتا ہےاور خون نکلتا ہےلیکن بڑا مضبوط ہوتا ہےببول شاید ٹھاکر ہوگا
محبت خدا کی حقیقت کا نورمحبت کسی کا پیام ظہورمحبت کے پیغامبر انبیامحبت کے زیر اثر اولیامحبت نقوش بیاض وجودتر و تازہ اس سے ریاض شہودمحبت نہیں تو نہیں زندگیمحبت سے ہے دل نشیں زندگیمحبت سے ہر ذرہ پیوستہ ہےطرب زا محبت کا گلدستہ ہےنشاط محبت رفیق حیاتکئے اس نے حل زندگی کے نکاتمحبت سے ہر اک حقیقت عیاںمحبت سے ماں کی فضیلت عیاںمحبت سے شان پدر سر بلندمحبت سے وصف پسر ارجمندمحبت سے مضبوط اجزائے قوممحبت سے مربوط آرائے قوممحبت سے قائم نظام حیاتتغیر میں بھی ان کا نور ثباتمحبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیںمحبت ہی ہے اصل دنیا و دیں
تمہیں معلوم ہے وہ بے خودی کا کیسا عالم تھامرے ہونٹوں میں جلتی پٹریاں بھی مسکراتی تھیںمری آنکھوں کو راتیں جاگنے کا غم نہیں تھا جبمرے ہاتھوں میں بکھری سلوٹیں شکوہ نہ کرتی تھیںمرے پیروں کا ننگا پن کہیں بے دم نہیں تھا جبمجھے کھدر کے ملبوسات بھی رسوا نہ کرتے تھےکسی کھانے کی باسی بدبوؤں میں غم نہیں تھا جبیہ ساری محنتیں کیوں میری آنکھوں میں اترتی ہیںیہ ہونٹوں میں دماغوں کا کھنچاؤ جاگتا کیوں ہےیہ چہرے کی لکیریں کیوں مجھے رنجیدہ کرتی ہیںیہ کیسے رنج ہیں آلام ہیں غم ہیں تباہی ہےمری خود آگہی کے سبز چشمے خشک سے کیوں ہیںیہ کیسی دھوپ ہے جو جسم کی رعنائی جھلسائےیہ کیسی چھاؤں ہے جو سردیوں کی برف بن جائےیہ میں نے چاندنی کو مدتوں سے کیوں نہیں دیکھایہ کیوں ان بارشوں میں پھول رستوں میں نہیں پھیلےاب اس ممتا کی شبنم کیوں مرے دل پر نہیں گرتیمری آغوش میں بستی کے بچے کیوں نہیں آتےوہی ہنگام اب کیوں ایک پاگل پن سا لگتا ہےکسی دلچسپ خاموشی میں کیوں وحشت سی ہوتی ہےیہ آخر رفتہ رفتہ ساری دنیا کیوں بدلتی ہےمگر جب سوچتی ہوں میں تو یہ بحران کا عالمیہ ساری ہوش کی دنیا ہے بس اک خواب کے پیچھےیہ سارے بولتے آنسو یہ ہونٹوں میں کھنچاؤ سایہ جلتی دھوپ دشمن چھاؤں گزرے چاند کی کرنیںیہ آزردہ سے رستے مامتا سے خالی آغوشیںیہ پاگل پن کی دنیا وحشتوں کی گھور تاریکییہ میری روح کے اندر بدلتی عادتوں کا غمتمہارا منتظر ہے تم مجھے مضبوط بانہوں میںکبھی ہولے سے لے لو گے مرے کانوں میں کہہ دو گےتمہیں کس بات کا غم ہے تمہیں کیسی پریشانیتمہارے پاس ہیں جو ہوں تمہارے غم میں لے لوں گا
تو کیا دیکھتا ہوںبچارے مجاور کےشانوں سے اکھڑے ہوئےاور ٹوٹے ہوئے ہاتھمضبوط رسی سےننگی کمر پر بندھے ہیں
ہے کوئی تو بات جو وہ آواز دبانے پہ آمادہ ہےلگا لے جتنا دم ہو اپنا بھی مضبوط ارادہ ہےکفایتی تعلیم و علاج کی حق دار ہے عوامرقم وہاں سے نکالے جن کے پاس ضرورت سے زیادہ ہےآگے چل کر یہی پڑھنے والے لوگ دیش کو آگے لے جائیں گےیہ کیا تہذیب کہ ضرورت مند کو کہتے ہو حرام زادہ ہےکرسی پہ بیٹھ کے خود کو وزیر سمجھ رہا ہے وہ بد گماںاس کو یہ بتا دو کہ وہ بساط کا بس ایک پیادہ ہے
عقیدے زخموں سے چور پیہم کراہتے ہیںیقین کی سانس اکھڑ چلی ہےجمیل خوابوں کے چہرۂ غمزدہ سے ناسور رس رہا ہےعزیز قدروں پہ جاں کنی کی گرفت مضبوط ہو گئی ہےپتنگ کی طرح کٹ چکے ہیں تمام رشتےجو آدمی کو قریب کرتے تھے آدمی سےدلوں میں قوس قزح کی انگڑائیاں جن سے ٹوٹتی تھیںنہ فرد ہی کا مکاں سلامتنہ اجتماعی وجود ہی زیر سائباں ہےکوئی خدا تھا تو وہ کہاں ہے؟کوئی خدا ہے تو وہ کہاں ہے؟مہیب طوفاں مہیب تر ہےپہاڑ تک ریت کی طرح اڑ رہے ہیںبس ایک آواز گونجتی ہے''مجھے بچاؤ مجھے بچاؤ''مگر کہیں بھی اماں نہیں ہے
چھپائے ہیں سینے میں کچھ راز اپنےدکن کے کہستاں کی تپتی چٹانیںمسافر کچھ آئے تھے ان جنگلوں میںفضا میں ہیں بکھری ہوئی داستانیںوہ ہمدرد آنکھیں وہ باتوں میں جادووہ مضبوط بازو وہ بھاری کمانیںوہ اک خود فراموش پی کی پجارنکٹی پتیوں کی ندی کا کنارانگاہوں سے چھنتا ہوا نور الفتجبیں پر فروزاں وفا کا ستارہبرستے ہوئے پھول خوشیوں کے ہر سوزمانہ بھی تھا رک کے محو نظارہ
جہاں میں کھڑی تھیوہاں سے قدم، دو قدم ہی کا رستہ تھاجس جا پہ موسم بدلنے کو تیار بیٹھے تھےمیرے یہ بس میں نہیں تھا کہ میںاپنی کھڑکی کے آگے پگھلتے ہوئےمنظروں میں کوئیاپنی مرضی کا ہی رنگ بھر دوںخزاں کی اکڑتی ہوئی زرد بانہوں کواپنے جھروکے کے آگے یہ بد رنگ پیلے مناظرسجانے سے ہی روک پاؤںدرختوں کی مضبوط شاخوں سے دامن چھڑاتےہوئے زرد پتوں کو روکوںبکھرتے ہوئے پھول لچکیلی، سرسبز شاخوں پہ پھر سے کھلاؤںہواؤں کی پژمردہ سانسوں میں پھر زندگی دوڑ جائےپرندوں کی چہکار ابھرے، ندی مسکرائےجہاں میں کھڑی تھیوہاں سے قدم، دو قدم ہی کا رستہ تھارستے میں بکھرے ہوئے کتنے پل تھےادھورے سفر تھےمگر میرے بس میں نہیں تھا کہ میںسارے بکھرے ہوئے پل ہی ترتیب دے دوںمسافت کے مارے ہوئے راستے منزلوں سے ملا دوںالجھتی ہوئی، سر پٹختی ہوئی تند موجوں کے آگے کنارے بچھا دوںجہاں میں کھڑی تھیوہاں سے قدم، دو قدم ہی کا رستہ تھاجس جا پہ دنیا تھی، ٹھہرا ہوا وقت تھاجس جگہ زندگی تھیمگر میرے بس میں نہیں تھا کہ میںزندگی سے یہ کہہ دوںکہ ٹھہرے ہوئے وقت سے آگے کچھ پل نکلنے نہ پائےیہ دنیا کو جا کے بتائےمجھے سانس لینے کو تھوڑی جگہ چاہیئےوقت کا ایک اجلا کنارہ ملےزندگی سے کچھ ایسا اشارہ ملےاس زمانے کا ہی ساتھ سارا ملےمیں اسے جا کے کہہ دوںمگر میرے بس میں نہیں تھا کہ میںاپنی بانہیں اٹھاؤںقدم کو بڑھاؤںنگاہوں سے اس کو بلاؤںاسے کہہ ہی پاؤںکہ ہے یہ قدم، دو قدم ہی کا رستہجہاں میں کھڑی ہوں!
دبلا پتلا نازک دوراںؔشیشہ جیسا نازک دوراںؔغم کی کالی رات کا مارااپنے ہی جذبات کا ماراآٹھوں پہر یوں کھویا کھویاجیسے گہری سوچ میں ڈوباکم ہنسنا عادت میں داخلخاموشی فطرت میں داخلشمع کی صورت بزم میں جلناگاہ بھڑکنا گاہ پگھلناماتھے پر ہر وقت شکن سیچہرہ پر آزردہ تھکن سیچہرہ سے محرومی ظاہرمعصومی مظلومی ظاہرآنکھیں ہر دم امڈی امڈیپلکیں ہر دم بھیگی بھیگیکرب آنکھوں میں درد آنکھوں میںراہ وفا کی گرد آنکھوں میںسہما سہما شام بلا سےروٹھا روٹھا اپنے خدا سےعقل و خرد سے جی کو چرائےپاگل پن سے باز نہ آئےجانے دل میں کس کی لگن ہےروح میں کس کانٹے کی چبھن ہےیہ ہے اپنا دوراںؔ یاروالجھا سلجھا دوراںؔ یارولیکن یارو یہی مسافرراہ وفا کا دکھی مسافرشانوں پر اک بوجھ کو لادےراہ طلب میں آگے آگےدل میں اک مضبوط ارادہنظروں میں اک روشن جادہغم کی لمبی رات پہ بھاریظلم کا اور ظلمت کا شکاریانسانی تہذیب کا قائلدنیا کی تعمیر پہ مائلسعی پیہم اس کی تمناجگمگ جگمگ اس کا رستہاس کی ساری فکر پریشاںانسانی تنظیم کی خواہاںنظمیں اس کی جان مقاصدروح تمدن شان مقاصدصبح پہ شیدا شام پہ عاشقاپنے وطن کے نام پہ عاشقباتیں ریب و ریا سے خالیہر نقش کردار مثالیپیار انساں کا دل میں چھپائےدرد جہاں سینہ میں بسائےدوراںؔ ہے یا روح دوراںؔگریاں گریاں خنداں خنداںاس کی دنیا اپنی دنیااس دنیا میں ساری دنیا
سواری اونٹ کی ہےاور میں شہر شکستہ کیکسی سنساں گلی میں سر جھکائےہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کراس گھر کی جانب جا رہا ہوںجس کی چوکھٹ پرہزاروں سال سےاک غم زدہ عورتمرے وعدے کی رسیریشۂ دل سے بنیمضبوط رسی سے بندھی ہےآنسوؤں سے تر نگاہوں میںکسی کہنہ ستارے کی چمک لے کرمرے خاکستری ملبوس کیمخصوص خوشبو سونگھنے کواور بھورے نٹ کیدکھ سے لبالب بلبلاہٹسننے کو تیار بیٹھی ہے!
تم لوگ یہاں بیٹھے ہوتم لوگ یہاں اس لیے بیٹھے ہو کہجو تم میں سے یہاں نہیں ہےاسے وہاں سے اٹھا دیا گیا ہےتم میں سے کوئی پرتگال نہیں گیالیکن تمہارے درمیان میز اور کرسیاں ہیںجو دنیا تم کو دکھانے کے لئے کافی ہےاس سے بڑھ کر بھی کوئی دکھ ہوگاجتنا سوچو گے بھولتے جاؤ گےمسلہموسیقی یا عورتیں اور آب و ہوا بچےاخبار یا غذاؤں کے نامیہاں تک کہ نیند آ جاتی ہےیا وہ ایک بوڑھا جس کے پاؤںمیدانوں میں چلتے چلتے ختم ہوئےاس کی فصل اس کے پرانے چہرہ کوگالی دے اس پر پھینک دی گئیناریل کا بنا ہوا حقہ بھی اور اس میں جو جلا ہوا پانی ہوتا ہے وہ بھی تم لوگاس کمرے میں آ گئےتمہارے سامنے میز پر ایش ٹرے میں ابھی ابھی جبکہ ملک کی گھڑیوں میں رات کے ۹ بج رہے ہیںایک سگریٹ کا جلتا ہوا فلٹر ختم ہو رہا ہےمیں تم سب کے بارے میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں کچھ بہت ضروری بھید ہیںلیکن اگر کہہ دوں تو بہت برا ہوگاتمہاری گردنیں مجھے انسانی شکل میں دکھائی نہیں دیتیںیہ گردنیں جسم کا فلٹر ہیںجسم تفصیلات میں جل گئے اب فلٹر جل رہے ہیںیہ میں نہیں بتاؤں گا کہ تمہیں کس نے جلا جلا کے پیامذہب نے اس جسم میں تمہارے اس کمرے میں جیسے ان گنت کمرے بنائے اور ہر کمرہ آگجلائے رکھنے کی ترکیب بتائیمیں تم میں سے ایک تھا تمہارے درمیان مصیبت میں خدا کا نام سنا تھاکروڑوں بھکاریوں کے دلوں کو سمیٹ کر روٹی کا ایک سوکھا ٹکڑا مانگنے کے لئے اسے پکاراکتابوں میں سچائی کے دو لفظ پڑھنے کے لئے مٹی کے تیل کی ڈھیریاں چا رپائیوں پر الٹ دیںمیری غریبی کے یادگار گدڑے اور بستر جل گئےزمین پر اتنے کنکر پتھر اینٹیں بجری اور بالو کے ذرے بھی نہیں ہو گےجتنی میری رٹی ہوئی دعائیںکہ عورتوں اور جانوروں سے چھٹکارا مل جائےبات یہ کہ میں کھل کر رونا چاہتا تھااتنا کہ تمہاری آبادیوں میں بازاروں کے ہجوم بھی نہیں ہو گے اور لڑکوں کی گالیاں جو ننگے پاگلوں کے پیچھے دوڑتی ہیںسنو میں اسے اپنے ڈھنگ سے چاہتا تھااتنا کہ ایک عرب نیکیوں سے بھرے ہوئے اسپتال بھی کافی نہیںارے میں جو خدا مانگتا ہوں وہ تم دیتے نہیںآگ جلانے کی ترکیب تو میں نہیں جانتامیں تم سے کہتا ہوں مجھے جلاؤ یا میری نباتات جلاؤ میں جلوں گا اور جلوں گاکام کروں گا اور کام کروں گاسنو کام کرنے کے لئے ایک ایسی زندگی چاہئے کہ میں تم سب کو بلا وجہ مرنے سے روک سکوںزندگی کا کام کبھی رکتا نہیںہر چند کہبری بھیڑ کے زمانہ میں اچھی کتابیں لکھنے پڑھنے کے مضبوط سامان نایاب ہو جاتے ہیںدولت بڑے اسٹائل سے اشتہاری سکون بانٹتی ہےمائیکرو فون یا باپ اور یونیورسٹیوں میں جب پروفیسر اعزاز کی سولیوں پر خوش گوار دکھائی دیتے ہیںدوائیں یا مائیں بہنیںتب بڑا غلط اندھیرا ہوتا ہے غلط بیٹے اور بھائیجنہیں بنا قیمت لئے اگر تم چھو لو تو کاغذ تمہیں پکڑ لیں گےکاغذ تمہیں مار ڈالیں گےیہی کاغذ جن سے تمہارے لیے دھوکے اور مستقبل بناتے ہیںچلو اس بھیڑ سے نکلوزندگی کا کام کبھی رکتا نہیںپاس آؤمیں تمہاری جیبوں کے جھوٹ سے آج تک ڈرا نہیں ہوںان میں رکھے ہوئے پیسے نکال لوں گاپیسے مت چھپاؤ پاس آؤیہ میں جانتا ہوں کہ تمہاری بیویاں تمہاری موت کے ایجنٹ ہیںتمہارے بیٹے اور بھائی مجھ سے نفرت کرتے ہیںمیں تمہارے گھروں کے ڈرے ہوئے بند دروازوں پر دستک دیتا ہوں اور تم اور تمہارے لوگاندر سے چلاتے ہیں کہ تم نہیں ہومیں تمہیں مرنے سے کیوں روکوں ہر چند کہ روک سکتا ہوںموت کسی کو مارنے کے لیے آسمان سے نہیں اترتیموت اس لیے ہے کہ تم نے اسے آسمان مان لیازمین تمہیں جاگنے کے لیے دی گئی تم نے اسے مایوس کیاموت زمین کی مایوسی پر آج تک خوش ہےاور تمہارے خوابوں میں چلنے کی آزادی ہےتمباکو افیم اور بھنگ کے پودے آج تک خوش ہیں کہ وہ تمہاری مری ہوئی ماؤں کی مامتا ہیںتمہاری بہت سی بیماریاں تمہارے جسم میں بڑے آرام سے ہیںاور دوا خانوں میں بہت سی دوائیں بھی بڑے آرام سے ہیںمیں تمہیں مرنے سے کیسے روکوںہاں تم مجھے جینے سے روکتے ہومیں تم سے کہتا ہوں کہ تمہارے چھوڑے ہوئے میدانوں کی ہواؤں کے جھونکے جب تمہاری کھڑکیوں میں آ رہے ہوں توکھڑکیاں مت بند کروبات یہ ہے کہ تمہارا جمع کیا ہوا اثاثہ تمہارے جسم کے ایک معمولی روئیں تک کو نہیں چمکا سکتاتمہارے جمع کیے ہوئے غلط اندھیروں پر جب سورج چمکتا ہےتو تم اس سے اکتاتے ہوتم مجھے بولنے سے روکتے ہومیں کہتا ہوں تمہارے یہ مکان تمہاری آنے والی قبروں سے مختلف نہیںتم بین الاقوامی بچھوؤں سے زیادہ چالاک نہیںتم دنیا کی بڑی کتابوں سے زیادہ گمبھیر نہیں ہوجب تک میں تم سے اپنے سفر کا سارا سامان چھین نہیں لوں گا تم سے اختلاف کروں گاتمہیں مرنے سے روکوں گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books