aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tuutii"
السائی ہوئی رت ساون کیکچھ سوندھی خوشبو آنگن کیکچھ ٹوٹی رسی جھولے کیاک چوٹ کسکتی کولھے کیسلگی سی انگیٹھی جاڑوں میںاک چہرہ کتنی آڑوں میںکچھ چاندنی راتیں گرمی کیاک لب پر باتیں نرمی کیکچھ روپ حسیں کاشانوں کاکچھ رنگ ہرے میدانوں کاکچھ ہار مہکتی کلیوں کےکچھ نام وطن کی گلیوں کےمت روکو انہیں پاس آنے دویہ مجھ سے ملنے آئے ہیںمیں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سےپھر وہ خوش بخت پلٹ آیا تری دنیا میںجس کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل میںمیری قسمت میں ہی جب خالی جگہ لکھی تھیتجھ سے شکوہ بھی اگر کرتا تو کیسے کرتامیں وہ سبزہ تھا جسے روند دیا جاتا ہےمیں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہےمیں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہےمیں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہےمیں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئیمیں تو وہ تھا کہ جسے یاد نہیں کرتا کوئی
کھڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلناوہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑناوہ گڑیوں کی شادی پہ لڑنا جھگڑناوہ جھولوں سے گرنا وہ گرتے سنبھلناوہ پیتل کے چھاؤں کے پیارے سے تحفےوہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانیوہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
تمہیں کس نے کہا تھادوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھواور اتنی دیر تک دیکھوکہ بینائی پگھل جائےتمہیں کس نے کہا تھاآسماں سے ٹوٹتی اندھی الجھتی بجلیوں سے دوستی کر لواور اتنی دوستی کر لوکہ گھر کا گھر ہی جل جائےتمہیں کس نے کہا تھاایک انجانے سفر میںاجنبی رہرو کے ہمرا دور تک جاؤاور اتنی دور تک جاؤکہ وہ رستہ بدل جائے
یہ زمیں تب بھی نگل لینے پہ آمادہ تھیپاؤں جب ٹوٹتی شاخوں سے اتارے ہم نےان مکانوں کو خبر ہے نہ مکینوں کو خبران دنوں کی جو گپھاؤں میں گزارے ہم نے
کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےناخداؤں میں اب پیچھے کتنے بچے ہیںروشنی اور اندھیرے کی تفریق میں کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیںکتنی صدیاں سفر میں گزاریںمگر آج پھر اس جگہ ہیں جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نےرخصت کیا تھااپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئےدیکھنے سے برا کچھ نہیں ہےتیری قربت میں یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاریتیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہےکہنیوں سے ہمیں اپنا منہ ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھاتو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہےلیکن ہمیں یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ وہ آفات ٹوٹی ہیںجن کا ہمیں اک صدی بعد پھر سامنا ہےوبا کے دنوں میں کسے ہوش رہتا ہےکس ہاتھ کو چھوڑنا ہے کسے تھامنا ہےاک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں میں پرکار لے کریہ دنیا نہیں دائرہ کھینچنا تھاخیر جو بھی ہوا تم بھی پرکھوں کے نقش قدم پر چلواور اپنی حفاظت کروکچھ مہینے تمہیں اپنے تسمے نہیں باندھنےاس سے آگے تو تم پہ ہے تم اپنی منزل پہ پہنچو یا پھر راستوں میں رہواس سے پہلے کہ تم اپنے محبوب کو وینٹیلیٹر پہ دیکھوگھروں میں رہو
کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریںاکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریںدیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانیسینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریںبھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیںتقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریںآنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کاتخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریںکیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کوابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریںکیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھےاک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریںکیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھےاک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریںسنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئےاٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں
تتلی جگنو رنگ و خوشبوگل و بلبل جیسےاستعارے نہیں ہیں پاس مرےکیونکے میں نےسسکتی سلگتی تڑپتی ہوئیزندگی کو دیکھا ہےکھلی آنکھ سےمیں نے دیکھی ہےلہو سے تر سڑکیںمیں نے دیکھے ہیں جنرل وارڈ میںبے بسی سے ایڑیاں رگڑتے ہوئےبچے بوڑھے لاچارمیں نے دیکھی ہیںروٹی کے بدلےردا ہوتی ہوئیتار تارمرے شعور میںآج بھی تازہ ہےسارہ شگفتہؔ کے بنا کفن کےپھول جیسے بچے کی لاشمیں نے دیکھی ہےمسجد کی ٹوٹتی ہوئی محراباب مری بے نور آنکھیںکیسے دیکھے کوئی حسین خواب
اے عشق ازل گیر و ابد تاباے کاہن دانشور و عالی گہر و پیرتو نے ہی بتائی ہمیں ہر خواب کی تعبیرتونے ہی سجھائی غم دلگیر کی تسخیرٹوٹی ترے ہاتھوں ہی سے ہر خوف کی زنجیراے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خواب
مری صدا ہے گل شمع شام آزادیسنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادیلہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہےاچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادیمجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوںمری فنا سے ہے پیدا دوام آزادیجو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میںانہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادیبنائیں گے نئی دنیا کسان اور مزدوریہی سجائیں گے دیوان عام آزادیفضا میں جلتے دلوں سے دھواں سا اٹھتا ہےارے یہ صبح غلامی یہ شام آزادییہ مہر و ماہ یہ تارے یہ بام ہفت افلاکبہت بلند ہے ان سے مقام آزادیفضائے شام و سحر میں شفق جھلکتی ہےکہ جام میں ہے مئے لالہ فام آزادیسیاہ خانۂ دنیا کی ظلمتیں ہیں دو رنگنہاں ہے صبح اسیری میں شام آزادیسکوں کا نام نہ لے ہے وہ قید بے میعادہے پے بہ پے حرکت میں قیام آزادییہ کاروان ہیں پسماندگان منزل کےکہ رہروؤں میں یہی ہیں امام آزادیدلوں میں اہل زمیں کے ہے نیو اس کی مگرقصور خلد سے اونچا ہے بام آزادیوہاں بھی خاک نشینوں نے جھنڈے گاڑ دیئےملا نہ اہل دول کو مقام آزادیہمارے زور سے زنجیر تیرگی ٹوٹیہمارا سوز ہے ماہ تمام آزادیترنم سحری دے رہا ہے جو چھپ کرحریف صبح وطن ہے یہ شام آزادیہمارے سینے میں شعلے بھڑک رہے ہیں فراقؔہماری سانس سے روشن ہے نام آزادی
بولیں بئے بٹیریں قمری پکارے کو کوپی پی کرے پپیہا بگلے پکاریں تو توکیا حدحدوں کی حق حق کیا فاختوں کی ہو ہوسب رٹ رہے ہیں تجھ کو کیا پنکھ کیا پکھیروکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی ماریں
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
مرہم اشک نہیں زخم طلب کا چارہخوں بھی روؤگے تو کس خاک کی سج دھج ہوگیکانپتے ہاتھوں سے ٹوٹی ہوئی بنیادوں پرجو بھی دیوار اٹھاؤ گے وہی کج ہوگیکوئی پتھر ہو کہ نغمہ کوئی پیکر ہو کہ رنگجو بھی تصویر بناؤ گے اپاہج ہوگی
ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلسپاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہےاور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھیگیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے
محبت ڈائری ہرگز نہیں ہےجس میں تم لکھوکہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے کون سی خوشبو لگانی ہےکسے کیا بات کہنی کون سی کس سے چھپانی ہےکہاں کس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہےمل کر پوچھنا ہےکیا تمہیں مجھ سے محبت ہےیہ فرسودہ سا جملہ ہےمگر پھر بھی یہی جملہدریچوں آنگنوں سڑکوں گلی کوچوں میں چوباروں میںچوباروں کی ٹوٹی سیڑھیوں میںہر جگہ کوئی کسی سے کہہ رہا ہےکیا تمہیں مجھ سے محبت ہےمحبت ڈائری ہرگز نہیں ہےجس میں تم لکھوتمہیں کس وقت کس سے کس جگہ ملنا ہے کس کو چھوڑ جانا ہےکہاں پر کس طرح کی گفتگو کرنی ہے یا خاموش رہنا ہےکسی کے ساتھ کتنی دور تک جانا ہے اور کب لوٹ آنا ہےکہاں آنکھیں ملانا ہے کہاں پلکیں جھکانا ہےیا یہ لکھو کہ اب کی بار جب وہ ملنے آئے گاتو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کردھنک چہرے پہ روشن جگمگاتی رقص کرتی اس کی آنکھوں میں اتر جائیں گےاور پھر گلشن و صحرا کے بیچوں بیچ دل کی سلطنت میں خاک اڑائیں گےبہت ممکن ہے وہ عجلت میں آئےاور تم اس کا ہاتھ ہاتھوں میں نہ لے پاؤنہ آنکھوں ہی میں جھانکو اور نہ دل کی سلطنت کو فتح کر پاؤجہاں پر گفتگو کرنی ہے تم خاموش ہو جاؤجہاں خاموش رہنا ہے وہاں تم بولتے جاؤنئے کپڑے پہن کر گھر سے نکلو میلے ہو جاؤکوئی خوشبو لگانے کا ارادہ ہو تو شیشی ہاتھ سے گر جائےتم ویران ہو جاؤسفر کرنا سے پہلے بے سر و سامان ہو جاؤمحبت ڈائری ہرگز نہیں ہے آب جو ہےجو دلوں کے درمیاں بہتی ہے خوشبو ہےکبھی پلکوں پہ لہرائے تو آنکھیں ہنسنے لگتی ہیںجو آنکھوں میں اتر جائے تو منظر اور پس منظر میں شمعیں جلنے لگتی ہیںکسی بھی رنگ کو چھو لےوہی دل کو گوارا ہےکسی مٹی میں گھل جائےوہی مٹی ستارہ ہے
کوئی تابندہ کرن یوں مرے دل پر لپکیجیسے سوئے ہوئے مظلوم پہ تلوار اٹھےکسی نغمے کی صدا گونج کے یوں تھرائیجیسے ٹوٹی ہوئی پازیب سے جھنکار اٹھےمیں نے پلکوں کو اٹھایا بھی تو آنسو پائےمجھ سے اب خاک جوانی کا کوئی بار اٹھے
مری گلی کے غلیظ بچوتم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھوتمہاری آنکھیںاداسیوں سے بھری ہوئی ہیںازل سے جیسے ڈری ہوئی ہیںتمہارے ہونٹوں پہ پیڑھیوں کی جمی ہوئی تہہ یہ کہہ رہی ہےحیات کی آب جو پس پشت بہہ رہی ہےتمہاری جیبیں منافقت سے اٹی ہوئی ہیںسبھی قمیصیں پھٹی ہوئی ہیںتمہاری پھیکی ہتھیلیوں کی بجھی لکیریںبقا کی ابجد سے اجنبی ہیںتمہاری قسمت کی آسمانی نشانیاں اب خطوط وحدانیت کا مقسوم ہو رہی ہیںنظر سے معدوم ہو رہی ہیںمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے ماں باپ نے تمدن کا قرض لے کرتمہاری تہذیب بیچ دی ہےتمہارا استاد اپنی ٹوٹی ہوئی چھڑی لے کے چپ کھڑا ہےکہ اس کے سوکھے گلے میں نان جویں کا ٹکڑا اڑا ہوا ہےمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے میلے بدن کی ساری غلاظتیں اب گئے زمانوں کے ارمغاں ہیںتمہارے ورثے کی داستاں ہیںانہیں سنبھالوکہ آنے والا ہر ایک لمحہ تمہارے جھڑتے ہوئے پپوٹوں سے جانے والے دنوں دنوں کی اتار لے گامری گلی کے غلیظ بچوضدوں کو چھوڑوقریب آؤرتوں کی نفرت کو پیار سمجھوخزاں کو رنگ بہار سمجھوغلاظتوں کو ادھار سمجھو
میں کھنڈروں کی زمیں پہ کب سے بھٹک رہا ہوںقدیم راتوں کی ٹوٹی قبروں کے میلے کتبےدنوں کی ٹوٹی ہوئی صلیبیں گری پڑی ہیںشفق کی ٹھنڈی چتاؤں سے راکھ اڑ رہی ہےجگہ جگہ گرز وقت کے چور ہو گئے ہیںجگہ جگہ ڈھیر ہو گئی ہیں عظیم صدیاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books