ADVERTISEMENT

اشعار پراحباب

احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ

اب آفتاب زیست لب بام آ گیا

جگر مراد آبادی

شغل الفت کو جو احباب برا کہتے ہیں

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا کہتے ہیں

میر مہدی مجروح

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا

چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

قتیل شفائی

آڑے آیا نہ کوئی مشکل میں

مشورے دے کے ہٹ گئے احباب

جوشؔ ملیح آبادی
ADVERTISEMENT

غم مسلسل ہو تو احباب بچھڑ جاتے ہیں

اب نہ کوئی دل تنہا کے قریں آئے گا

سلام ؔمچھلی شہری

ہجر جاناں کے الم میں ہم فرشتے بن گئے

دھیان مدت سے چھٹا آب طعام و خواب کا

منیرؔ  شکوہ آبادی

اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خلل

احباب زیر خاک سلا کر چلے گئے

جوشؔ ملسیانی