علم شاعری

ہم ہیں تہذیب کے علمبردار

ہم کو اردو زبان آتی ہے

محمد علی ساحل

ہمت ہے تو بلند کر آواز کا علم

چپ بیٹھنے سے حل نہیں ہونے کا مسئلہ

ضیا جالندھری

حوصلہ ہے تو سفینوں کے علم لہراؤ

بہتے دریا تو چلیں گے اسی رفتار کے ساتھ

شہزاد احمد

ہماری فتح کے انداز دنیا سے نرالے ہیں

کہ پرچم کی جگہ نیزے پہ اپنا سر نکلتا ہے

فصیح اکمل

وہ ہندی نوجواں یعنی علمبردار آزادی

وطن کی پاسباں وہ تیغ جوہر دار آزادی

مخدومؔ محی الدین

وہ غم ہو یا الم ہو درد ہو یا عالم وحشت

اسے اپنا سمجھ اے زندگی جو تیرے کام آئے

شوق اثر رامپوری

متعلقہ موضوعات