انتقام پر اشعار

انتقام بدلہ لینے کا

شدید ترین جذبہ ہے ۔ یوں تو انتقام کی صورتیں بہت گھناونی ہوتی ہیں لیکن شاعرمیں انتقام کلاسیکی عشق کی کہانی کا ایک موڑ ہوتا ہے جہاں عاشق اپنے ناختم ہونے والے ہجر کی توجیہ کسی دشمن کے انتقامی جذبے سے کرتا ہے۔ عاشق کا دشمن اس کا محبوب نہیں ہوتا بلکہ تقدیر اور آسمان عاشق کے دشمن کے کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو محبوب اور اس سے وصال کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں ۔

کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے

مدعا ہم کو انتقام سے ہے

میر تقی میر

حسن کو شرمسار کرنا ہی

عشق کا انتقام ہوتا ہے

اسرار الحق مجاز

ہم نے تو خود سے انتقام لیا

تم نے کیا سوچ کر محبت کی

سلیم کوثر

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا

معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا

فیصل عجمی

تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی

کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

حمایت علی شاعر

یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے

یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے

حسیب سوز

عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ

شکست کھا کے وہ پانی میں زہر ڈال آیا

اظہر عنایتی

خود آگ دے کے اپنے نشیمن کو آپ ہی

بجلی سے انتقام لیا ہے کبھی کبھی

نامعلوم

خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے

میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

ابراہیم اشکؔ
بولیے