مزدور پر شاعری

شعر وادب کے سماجی سروکار بھی بہت واضح رہے ہیں اور شاعروں نے ابتدا ہی سے اپنے آس پاس کے مسائل کو شاعری کا حصہ بنایا ہے البتہ ایک دور ایسا آیا جب شاعری کو سماجی انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا اور سماج کے نچلے، گر پڑے اور مزدور طبقے کے مسائل کا اظہار شاعری کا بنیادی موضوع بن گیا ۔آپ ان شعروں میں دیکھیں گے کہ مزدور طبقہ زندگی کرنے کے عمل میں کس کرب اور دکھ سے گزرتا ہے اور اس کی سماجی حثیت کیا ہے ۔ مزدوروں پر کی جانے والی شاعری کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

منور رانا

فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں

وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

منور رانا

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

علامہ اقبال

ہونے دو چراغاں محلوں میں کیا ہم کو اگر دیوالی ہے

مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور کی دنیا کالی ہے

جمیلؔ مظہری

بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے

رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں

منور رانا

لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی

یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی

افضل خان

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے

حفیظ جالندھری

کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ کو چلو اتنا

یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں

احمد سلمان

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد

روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد

اظہر اقبال

اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا

بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں

نفس انبالوی

دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر

مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے

نشور واحدی

میں نے انورؔ اس لیے باندھی کلائی پر گھڑی

وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ

انور مسعود

مل مالک کے کتے بھی چربیلے ہیں

لیکن مزدوروں کے چہرے پیلے ہیں

تنویر سپرا

سروں پہ اوڑھ کے مزدور دھوپ کی چادر

خود اپنے سر پہ اسے سائباں سمجھنے لگے

شارب مورانوی

محنت کر کے ہم تو آخر بھوکے بھی سو جائیں گے

یا مولا تو برکت رکھنا بچوں کی گڑ دھانی میں

ولاس پنڈت مسافر

زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا

بھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا

رضا مورانوی

خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں

نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا

حیدر علی جعفری

پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن

سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں

علی سردار جعفری

بلاتے ہیں ہمیں محنت کشوں کے ہاتھ کے چھالے

چلو محتاج کے منہ میں نوالہ رکھ دیا جائے

رضا مورانوی

پیڑ کے نیچے ذرا سی چھاؤں جو اس کو ملی

سو گیا مزدور تن پر بوریا اوڑھے ہوئے

شارب مورانوی

اس لیے سب سے الگ ہے مری خوشبو عامیؔ

مشک مزدور پسینے میں لیے پھرتا ہوں

عمران عامی

میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمن

صبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے

مجروح سلطانپوری

شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں

جس نے سب کے گھر بنائے اوس کا گھر کوئی نہیں

نامعلوم

تعمیر و ترقی والے ہیں کہیے بھی تو ان کو کیا کہیے

جو شیش محل میں بیٹھے ہوئے مزدور کی باتیں کرتے ہیں

عبید الرحمان

اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط

اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے

تنویر سپرا

دنیا میری زندگی کے دن کم کرتی جاتی ہے کیوں

خون پسینہ ایک کیا ہے یہ میری مزدوری ہے

منموہن تلخ

تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری

ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں

عاصم واسطی

انہی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھے ہیں وہ آنسو بھی

جو اکثر دھوپ میں محنت کی پیشانی سے ڈھلتے ہیں

جمیلؔ مظہری

لے کے تیشہ اٹھا ہے پھر مزدور

ڈھل رہے ہیں جبل مشینوں میں

وامق جونپوری

میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں

مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا

احتشام الحق صدیقی

آج بھی سپراؔ اس کی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے

میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

تنویر سپرا

پسینہ میری محنت کا مرے ماتھے پہ روشن تھا

چمک لعل و جواہر کی مری ٹھوکر پہ رکھی تھی

ناظر صدیقی

ہم ہیں مزدور ہمیں کون سہارا دے گا

ہم تو مٹ کر بھی سہارا نہیں مانگا کرتے

راہی شہابی

تیری تابش سے روشن ہیں گل بھی اور ویرانے بھی

کیا تو بھی اس ہنستی گاتی دنیا کا مزدور ہے چاند؟

شبنم رومانی

متعلقہ موضوعات