حنا شاعری

عشق کلاسیکی شاعری کا مرکزی موضوع رہا ہےاورمعشوق مرکزی کردار، اس لئےان تمام باتوں کوشاعری کا موضوع بنایا گیا ہے جومعشوق سے تعلق رکھتی ہیں ۔ شاعروں نے مہندی اس کے رنگ اوراس کے ذریعے معشوق کے حسن میں ہونے والےاضافے کو طرح طرح سےبرتا ہے ۔ مہندی کے رنگ کی نسبت سے جوایک دلچسپ جہت کا اضافہ ہواہے وہ یہ ہے کہ شاعروں نےمہندی سے رنگےہوئے ہاتھوں کوعاشق کےخون سے رنگے ہوئے ہاتھوں سے تعبیرکیا ہے ۔ مہندی کوموضوع بنانے والی شاعری میں اوربھی کئی ایسے مزے دارپہلو ہیں ۔ ہمارایہ انتخاب پڑھئے ۔

دونوں کا ملنا مشکل ہے دونوں ہیں مجبور بہت

اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے میرے پاؤں میں چھالے ہیں

عمیق حنفی

مہندی لگائے بیٹھے ہیں کچھ اس ادا سے وہ

مٹھی میں ان کی دے دے کوئی دل نکال کے

ریاضؔ خیرآبادی

لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے

کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے

آسی غازی پوری

اللہ رے نازکی کہ جواب سلام میں

ہاتھ اس کا اٹھ کے رہ گیا مہندی کے بوجھ سے

ریاضؔ خیرآبادی

مہندی لگانے کا جو خیال آیا آپ کو

سوکھے ہوئے درخت حنا کے ہرے ہوئے

حیدر علی آتش

مہندی نے غضب دونوں طرف آگ لگا دی

تلووں میں ادھر اور ادھر دل میں لگی ہے

نامعلوم

مل رہے ہیں وہ اپنے گھر مہندی

ہم یہاں ایڑیاں رگڑتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

مہندی کے دھوکے مت رہ ظالم نگاہ کر تو

خوں میرا دست و پا سے تیرے لپٹ رہا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

ہم گنہ گاروں کے کیا خون کا پھیکا تھا رنگ

مہندی کس واسطے ہاتھوں پہ رچائی پیارے

مرزا اظفری

کشتۂ رنگ حنا ہوں میں عجب اس کا کیا

کہ مری خاک سے مہندی کا شجر پیدا ہو

مصحفی غلام ہمدانی

متعلقہ موضوعات