ظفر اقبال

  • 1933

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروف ۔ رجحان سازشاعر

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آنکھ کے ایک اشارے سے کیا گل اس نے


جل رہا تھا جو دیا اتنی ہوا ہوتے ہوئے

آج کل اس کی طرح ہم بھی ہیں خالی خالی


ایک دو دن اسے کہیو کہ یہاں رہ جائے

اب کے اس بزم میں کچھ اپنا پتہ بھی دینا


پاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دینا

ابھی میری اپنی سمجھ میں بھی نہیں آ رہی


میں جبھی تو بات کو مختصر نہیں کر رہا

اپنے ہی سامنے دیوار بنا بیٹھا ہوں


ہے یہ انجام اسے رستے سے ہٹا دینے کا

بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پر


وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت

چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں


دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے

دل سے باہر نکل آنا مری مجبوری ہے


میں تو اس شور قیامت میں نہیں رہ سکتا

اس بار ملی ہے جو نتیجے میں برائی


کام آئی ہے اپنی کوئی اچھائی ہمارے

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ


آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

خرابی ہو رہی ہے تو فقط مجھ میں ہی ساری


مرے چاروں طرف تو خوب اچھا ہو رہا ہے

خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا


کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا


کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفرؔ


کتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفرؔ


صاف پہچان لیا جاتا ہوں رویا ہوا میں

پوری آواز سے اک روز پکاروں تجھ کو


اور پھر میری زباں پر ترا تالا لگ جائے

روک رکھنا تھا ابھی اور یہ آواز کا رس


بیچ لینا تھا یہ سودا ذرا مہنگا کر کے

ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو


یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو

اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں


رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

وہاں مقام تو رونے کا تھا مگر اے دوست


ترے فراق میں ہم کو ہنسی بہت آئی

comments powered by Disqus