بوسہ پر اشعار
بوسہ پر شاعری عاشق کی
بوسے کی طلب کی کیفیتوں کا بیانیہ ہے ، ساتھ ہی اس میں معشوق کے انکار کی مزے دار صورتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں ۔ یہ طلب اور انکار کا ایک جھگڑا ہے جسے شاعروں کے تخیل نے بےحد رنگین اور دلچسپ بنادیا ہے ۔ اس مضمون میں شوخی ، مزاح ، حسرت اور غصے کی ملی جلی کیفیتوں نے ایک اور ہی فضا پیدا کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے اور ان کیفیتوں کو محسوس کیجئے۔
دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی خاموشی سے بے چین ہے اور التجا کرتا ہے کہ اگر وصال (بوسہ) ممکن نہیں تو زبانی جواب ہی دے دو۔ محبوب کے لبوں کی جنبش (حرکت) میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ عاشق کی جان لینے یا اسے فنا کرنے کے لیے کافی ہے، چاہے وہ بات انکار کی ہی کیوں نہ ہو۔
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
غالب اس شعر میں محبوب کی شوخی اور کاروباری ذہنیت کا ذکر کر رہے ہیں۔ محبوب عاشق کا دل تو لینا چاہتا ہے مگر بدلے میں بوسہ دینے کو تیار نہیں ہے، وہ سوچتا ہے کہ بنا کسی قیمت کے اگر یہ قیمتی چیز ہاتھ آ جائے تو یہ بہت نفع بخش ہے۔
دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا
چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے
بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے
لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے
مل گئے تھے ایک بار اس کے جو میرے لب سے لب
عمر بھر ہونٹوں پہ اپنے میں زباں پھیرا کیا
بے خودی میں لے لیا بوسہ خطا کیجے معاف
یہ دل بیتاب کی ساری خطا تھی میں نہ تھا
-
موضوعات : بے خودیاور 1 مزید
بوسہ جو رخ کا دیتے نہیں لب کا دیجئے
یہ ہے مثل کہ پھول نہیں پنکھڑی سہی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب سے شوخی کے ساتھ ایک انوکھی منطق پیش کرتا ہے۔ وہ چہرے کو پھول اور ہونٹ کو پنکھڑی سے تشبیہ دے کر کہتا ہے کہ اگر پھول (رخسار) کا بوسہ ممکن نہیں تو اصول کے تحت پنکھڑی (ہونٹ) پر ہی اکتفا کر لیا جائے، جو بظاہر عاشقانہ چال ہے۔
ایک بوسہ ہونٹ پر پھیلا تبسم بن گیا
جو حرارت تھی مری اس کے بدن میں آ گئی
بوسے اپنے عارض گلفام کے
لا مجھے دے دے ترے کس کام کے
کیا قیامت ہے کہ عارض ان کے نیلے پڑ گئے
ہم نے تو بوسہ لیا تھا خواب میں تصویر کا
بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پر
وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت
بوسہ لیا جو اس لب شیریں کا مر گئے
دی جان ہم نے چشمۂ آب حیات پر
بے گنتی بوسے لیں گے رخ دل پسند کے
عاشق ترے پڑھے نہیں علم حساب کو
محبت ایک پاکیزہ عمل ہے اس لیے شاید
سمٹ کر شرم ساری ایک بوسے میں چلی آئی
بوسے بیوی کے ہنسی بچوں کی آنکھیں ماں کی
قید خانے میں گرفتار سمجھئے ہم کو
-
موضوعات : تعلقاور 1 مزید
کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں تعریف دراصل طنز ہے: عاشق کو غیر کے ساتھ محبوب کی قربت کا اندیشہ اور دکھ ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ اپنی خودداری جتاتا ہے کہ اگر بات بڑھائی گئی تو وہ جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ مرکزی کیفیت حسد، رنج اور ضبط کے ساتھ ایک تنبیہ ہے۔
جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے
آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار
لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر
-
موضوعات : ساقیاور 1 مزید
اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
شوق فضول و جرأت رندانہ چاہئے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ وصالِ یار ناممکن نہیں، مگر اس تک پہنچنے کے لیے عام طریقے کارگر نہیں ہوں گے۔ محبوب کی قربت پانے کے لیے انسان کو عقل و ہوش سے بیگانہ ہو کر دیوانگی اور ایسی بے خوفی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے جو صرف نشے میں مست لوگوں میں ہوتی ہے۔
لے لو بوسہ اپنا واپس کس لیے تکرار کی
کیا کوئی جاگیر ہم نے چھین لی سرکار کی
لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے
کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے
-
موضوعات : حنااور 1 مزید
بوسہ ہونٹوں کا مل گیا کس کو
دل میں کچھ آج درد میٹھا ہے
میں آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن اس کا
سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا
بوسہ تو اس لب شیریں سے کہاں ملتا ہے
گالیاں بھی ملیں ہم کو تو ملیں تھوڑی سی
بوساں لباں سیں دینے کہا کہہ کے پھر گیا
پیالہ بھرا شراب کا افسوس گر گیا
بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی
میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا
-
موضوع : لب
کیا تاب کیا مجال ہماری کہ بوسہ لیں
لب کو تمہارے لب سے ملا کر کہے بغیر
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کی جھجک اور بےبسی نمایاں ہے: خواہش شدید ہے مگر جرات ساتھ نہیں دیتی۔ «تاب» اور «مجال» جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی طاقت اور خود کو اجازت دینے کی علامت ہیں۔ بوسہ ایک استعارۂ قربت ہے، مگر عاشق اس قربت کو بھی «کہے بغیر» یعنی اجازت/اظہار کے بغیر ممکن نہیں سمجھتا۔
ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں
غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا
سبھی انعام نت پاتے ہیں اے شیریں دہن تجھ سے
کبھو تو ایک بوسے سے ہمارا منہ بھی میٹھا کر
رخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج
بوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے
-
موضوع : رخسار
لب خیال سے اس لب کا جو لیا بوسہ
تو منہ ہی منہ میں عجب طرح کا مزا آیا
دل لگی میں حسرت دل کچھ نکل جاتی تو ہے
بوسے لے لیتے ہیں ہم دو چار ہنستے بولتے
-
موضوعات : دلاور 1 مزید
جو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ
ہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض
-
موضوع : رخسار
گڑ سیں میٹھا ہے بوسہ تجھ لب کا
اس جلیبی میں قند و شکر ہے
سادگی دیکھ کہ بوسے کی طمع رکھتا ہوں
جن لبوں سے کہ میسر نہیں دشنام مجھے
بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے
کہ نہ سمجھے وہ لذت دشنام
Interpretation:
Rekhta AI
غالب طنزیہ انداز میں محرومی کو بھی فائدہ بنا لیتے ہیں: بوسہ تو دور، بس یہ کافی ہے کہ محبوب اُن کے تلخ کلام میں پوشیدہ محبت کی مٹھاس نہ پہچانے۔ یہاں “دشنام” شکایت کی صورت میں عشق کی زبان بن جاتی ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ دل زخمی ہے، مگر خواہش کو ہنسی اور کاٹ کے پردے میں چھپایا گیا ہے۔
جی اٹھوں پھر کر اگر تو ایک بوسہ دے مجھے
چوسنا لب کا ترے ہے مجھ کو جوں آب حیات
لٹاتے ہیں وہ دولت حسن کی باور نہیں آتا
ہمیں تو ایک بوسہ بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے
نمکیں گویا کباب ہیں پھیکے شراب کے
بوسا ہے تجھ لباں کا مزیدار چٹ پٹا
ہم تو کیوں کر کہیں کہ بوسہ دو
گر عنایت کرو عنایت ہے
بولے وہ بوسہ ہائے پیہم پر
ارے کمبخت کچھ حساب بھی ہے
بوسے میں ہونٹ الٹا عاشق کا کاٹ کھایا
تیرا دہن مزے سیں پر ہے پے ہے کٹورا
رکھے ہے لذت بوسہ سے مجھ کو گر محروم
تو اپنے تو بھی نہ ہونٹوں تلک زباں پہنچا
جی میں ہے اتنے بوسے لیجے کہ آج
مہر اس کے وہاں سے اٹھ جاوے
اس وقت دل پہ کیوں کے کہوں کیا گزر گیا
بوسہ لیتے لیا تو سہی لیک مر گیا