Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل لگی پر اشعار

دل ہی عشق اور محبت کا

مرکز ہوتا ہے ۔ دل لگنا ، دل جدا ہونا ، دل ٹوٹنا ، دل جلا ہونا یہ اور اس طرح کی دوسری لفظیات دل کی اسی مرکزیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ دل لگی کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں ان میں آپ دل لگی کی مزے دار ، کبھی ہنسا دینے والی اور کبھی رلا دینے والی صورتوں سے گزریں گے ۔ یہ شاعری عاشقوں کیلئے ایک سبق بھی ہے جسے پڑھ کر وہ خود کو دل لگی کے سفر کیلئے تیار بھی کرسکتے ہیں ۔

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

Interpretation: Rekhta AI

شیخ ابراہیم ذوقؔ اس شعر میں انسانی فطرت کی مجبوری بیان کر رہے ہیں۔ اگرچہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ فانی دنیا سے دل نہ لگایا جائے، مگر عملی طور پر جینے کے لیے کچھ نہ کچھ دلچسپی اور لگاؤ ضروری ہے۔ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا کے میلے میں کھو جانے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے بغیر زندگی بے کیف ہو جاتی ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل

دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

حفیظ جالندھری

درد دل کی انہیں خبر کیا ہو

جانتا کون ہے پرائی چوٹ

فانی بدایونی

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

اعتبار ساجد

سوچ لو یہ دل لگی بھاری نہ پڑ جائے کہیں

جان جس کو کہہ رہے ہو جان ہوتی جائے گی

امیر امام

دل لگی میں حسرت دل کچھ نکل جاتی تو ہے

بوسے لے لیتے ہیں ہم دو چار ہنستے بولتے

منشی امیر اللہ تسلیم

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے

دتا تریہ کیفی

قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں

ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے

حبیب موسوی

عشق کو برقرار رکھ دل کو لگا کے بھول جا

اس سے بھی مطمئن نہ ہو اس کو بھی پا کے بھول جا

خمار بارہ بنکوی
بولیے