Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گلی شاعری

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر

اور بھی خاک میں ملا لایا

میرا دل مجھے اُس گلی میں پھر لے گیا۔

اور مجھے پہلے سے بھی زیادہ ذلت و خاکساری میں گرا آیا۔

میرا دل مجھے اُس گلی میں پھر لے گیا۔

اور مجھے پہلے سے بھی زیادہ ذلت و خاکساری میں گرا آیا۔

میر تقی میر

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے

شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہے

فرحت احساس

یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم

جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

ہم اُس گلی سے آہ بھرتے ہوئے یوں اٹھ کر چلے گئے۔

یہ کیفیت ایسی تھی جیسے کوئی انسان دنیا ہی سے اٹھ جاتا ہے۔

ہم اُس گلی سے آہ بھرتے ہوئے یوں اٹھ کر چلے گئے۔

یہ کیفیت ایسی تھی جیسے کوئی انسان دنیا ہی سے اٹھ جاتا ہے۔

میر تقی میر

گلی کے موڑ سے گھر تک اندھیرا کیوں ہے نظامؔ

چراغ یاد کا اس نے بجھا دیا ہوگا

شین کاف نظام

تیرا کوچہ ترا در تیری گلی کافی ہے

بے ٹھکانوں کو ٹھکانے کی ضرورت کیا ہے

شاہد کبیر

اک دن تری گلی میں مجھے لے گئی ہوا

اور پھر تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

وپل کمار

آپ اپنی گلی کے سائل کو

کم سے کم پر سوال تو رکھئے

جون ایلیا

گلی کا عام سا چہرہ بھی پیارا ہونے لگتا ہے

محبت میں تو ذرہ بھی ستارا ہونے لگتا ہے

احمد عطاء اللہ

کتنی ویران ہے گلی دل کی

دور تک کوئی نقش پا بھی نہیں

ناظم سلطانپوری
بولیے