Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اسلم محمود کے اشعار

814
Favorite

باعتبار

تیغ نفس کو بہت ناز تھا رفتار پر

ہو گئی آخر مرے خوں میں نہا کر خموش

تیغ نفس کو بہت ناز تھا رفتار پر

ہو گئی آخر مرے خوں میں نہا کر خموش

گزرتے جا رہے ہیں قافلے تو ہی ذرا رک جا

غبار راہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں

گزرتے جا رہے ہیں قافلے تو ہی ذرا رک جا

غبار راہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں

دیکھ آ کر کہ ترے ہجر میں بھی زندہ ہیں

تجھ سے بچھڑے تھے تو لگتا تھا کہ مر جائیں گے

دیکھ آ کر کہ ترے ہجر میں بھی زندہ ہیں

تجھ سے بچھڑے تھے تو لگتا تھا کہ مر جائیں گے

ہم دل سے رہے تیز ہواؤں کے مخالف

جب تھم گیا طوفاں تو قدم گھر سے نکالا

ہم دل سے رہے تیز ہواؤں کے مخالف

جب تھم گیا طوفاں تو قدم گھر سے نکالا

تیرے کوچے کی ہوا پوچھے ہے اب ہم سے

نام کیا ہے کیا نسب ہے ہم کہاں کے ہیں

تیرے کوچے کی ہوا پوچھے ہے اب ہم سے

نام کیا ہے کیا نسب ہے ہم کہاں کے ہیں

خطا یہ تھی کہ میں آسانیوں کا طالب تھا

سزا یہ ہے کہ مرا تیشۂ ہنر بھی گیا

خطا یہ تھی کہ میں آسانیوں کا طالب تھا

سزا یہ ہے کہ مرا تیشۂ ہنر بھی گیا

پاؤں اس کے بھی نہیں اٹھتے مرے گھر کی طرف

اور اب کے راستہ بدلا ہوا میرا بھی ہے

پاؤں اس کے بھی نہیں اٹھتے مرے گھر کی طرف

اور اب کے راستہ بدلا ہوا میرا بھی ہے

اب یہ سمجھے کہ اندھیرا بھی ضروری شے ہے

بجھ گئیں آنکھیں اجالوں کی فراوانی سے

اب یہ سمجھے کہ اندھیرا بھی ضروری شے ہے

بجھ گئیں آنکھیں اجالوں کی فراوانی سے

یہی نہیں کہ کسی یاد نے ملول کیا

کبھی کبھی تو یونہی بے سبب بھی روئے ہیں

یہی نہیں کہ کسی یاد نے ملول کیا

کبھی کبھی تو یونہی بے سبب بھی روئے ہیں

رات آتی ہے تو طاقوں میں جلاتے ہیں چراغ

خواب زندہ ہیں سو آنکھوں میں جلاتے ہیں چراغ

رات آتی ہے تو طاقوں میں جلاتے ہیں چراغ

خواب زندہ ہیں سو آنکھوں میں جلاتے ہیں چراغ

بے رنگ نہ واپس کر اک سنگ ہی دے سر کو

کب سے ترا طالب ہوں کب سے ترے در پر ہوں

بے رنگ نہ واپس کر اک سنگ ہی دے سر کو

کب سے ترا طالب ہوں کب سے ترے در پر ہوں

میں ایک ریت کا پیکر تھا اور بکھر بھی گیا

عجب تھا خواب کہ میں خواب ہی میں ڈر بھی گیا

میں ایک ریت کا پیکر تھا اور بکھر بھی گیا

عجب تھا خواب کہ میں خواب ہی میں ڈر بھی گیا

آ گیا کون یہ آج اس کے مقابل اسلمؔ

آئینہ ٹوٹ گیا عکس کی تابانی سے

آ گیا کون یہ آج اس کے مقابل اسلمؔ

آئینہ ٹوٹ گیا عکس کی تابانی سے

وہ درد ہوں کوئی چارہ نہیں ہے جس کا کہیں

وہ زخم ہوں کہ ہے دشوار اندمال مرا

وہ درد ہوں کوئی چارہ نہیں ہے جس کا کہیں

وہ زخم ہوں کہ ہے دشوار اندمال مرا

مری کہانی رقم ہوئی ہے ہوا کے اوراق منتشر پر

میں خاک کے رنگ غیر فانی کو اپنی تصویر کر رہا ہوں

مری کہانی رقم ہوئی ہے ہوا کے اوراق منتشر پر

میں خاک کے رنگ غیر فانی کو اپنی تصویر کر رہا ہوں

تمام عمر جسے میں عبور کر نہ سکا

درون ذات مرے بے کنار سا کچھ ہے

تمام عمر جسے میں عبور کر نہ سکا

درون ذات مرے بے کنار سا کچھ ہے

مرے شوق سیر و سفر کو اب نئے اک جہاں کی نمود کر

ترے بحر و بر کو تو رکھ دیا ہے کبھی کا میں نے کھنگال کے

مرے شوق سیر و سفر کو اب نئے اک جہاں کی نمود کر

ترے بحر و بر کو تو رکھ دیا ہے کبھی کا میں نے کھنگال کے

رک گیا آ کے جہاں قافلۂ رنگ و نشاط

کچھ قدم آگے ذرا بڑھ کے مکاں ہے میرا

رک گیا آ کے جہاں قافلۂ رنگ و نشاط

کچھ قدم آگے ذرا بڑھ کے مکاں ہے میرا

کہاں بھٹکتی پھرے گی اندھیری گلیوں میں

ہم اک چراغ سر کوچۂ ہوا رکھ آئے

کہاں بھٹکتی پھرے گی اندھیری گلیوں میں

ہم اک چراغ سر کوچۂ ہوا رکھ آئے

Recitation

بولیے