بقا اللہ بقاؔ کے اشعار
عشق میں بو ہے کبریائی کی
عاشقی جس نے کی خدائی کی
بلبل سے کہا گل نے کر ترک ملاقاتیں
غنچے نے گرہ باندھیں جو گل نے کہیں باتیں
عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں
داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں
چھوڑ کر کوچۂ مے خانہ طرف مسجد کے
میں تو دیوانہ نہیں ہوں جو چلوں ہوش کی راہ
الفت میں تری اے بت بے مہر و محبت
آیا ہمیں اک ہاتھ سے تالی کا بجانا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس بزم میں پوچھے نہ کوئی مجھ سے کہ کیا ہوں
جو شیشہ گرے سنگ پہ میں اس کی صدا ہوں
خواہش سود تھی سودے میں محبت کے ولے
سر بسر اس میں زیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
دیکھ آئینہ جو کہتا ہے کہ اللہ رے میں
اس کا میں دیکھنے والا ہوں بقاؔ واہ رے میں
اپنی مرضی تو یہ ہے بندۂ بت ہو رہیے
آگے مرضی ہے خدا کی سو خدا ہی جانے
-
موضوع : بت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بانگ تکبیر تو ایسی ہے بقاؔ سینہ خراش
انگلیاں آپ موذن نے دھریں کان کے بیچ
سیلاب سے آنکھوں کے رہتے ہیں خرابے میں
ٹکڑے جو مرے دل کے بستے ہیں دو آبے میں
اے عشق تو ہر چند مرا دشمن جاں ہو
مرنے کا نہیں نام کا میں اپنے بقاؔ ہوں
قلم صفت میں پس از مراتب بدن ثنا میں تری کھپایا
بدن زباں میں زباں سخن میں سخن ثنا میں تری کھپایا
کل کے دن جو گرد مے خانے کے پھرتے تھے خراب
آج مسجد میں جو دیکھا صاحب سجادہ ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کیا تجھ کو لکھوں خط حرکت ہاتھ سے گم ہے
خامہ بھی مرے ہاتھ میں انگشت ششم ہے
یہ رند دے گئے لقمہ تجھے تو عذر نہ مان
ترا تو شیخ تنور و شکم برابر ہے
-
موضوع : رند
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دلا اٹھائیے ہر طرح اس کی چشم کا ناز
زمانہ بہ تو نسازد تو با زمانہ بساز
ہے دل میں گھر کو شہر سے صحرا میں لے چلیں
اٹھوا کے آنسوؤں سے در و بام دوش پر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دیکھا تو ایک شعلے سے اے شیخ و برہمن
روشن ہیں شمع دیر و چراغ حرم بہم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مت تنگ ہو کرے جو فلک تجھ کو تنگ دست
آہستہ کھینچیے جو دبے زیر سنگ دست
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خال لب آفت جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
دام دانے میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
رشد باطن کی طلب ہے تو کر اے شیخ وہ کام
پیر مے خانہ جو ظاہر میں کچھ ارشاد کرے
بس پائے جنوں سیر بیاباں تو بہت کی
اب خانۂ زنجیر میں ٹک بیٹھ کے دم لے