Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Charagh Sharma's Photo'

چراغ شرما

1998 | چندوسی, انڈیا

مشہور نوجوان شاعر، اپنی شاعری میں محبت، درد اور زندگی، خاص طور پر نوجوانوں کے جذبات کو روایت اور نئے پن کے خوبصورت سنگم میں ڈھالنے کے لیے مشہور

مشہور نوجوان شاعر، اپنی شاعری میں محبت، درد اور زندگی، خاص طور پر نوجوانوں کے جذبات کو روایت اور نئے پن کے خوبصورت سنگم میں ڈھالنے کے لیے مشہور

چراغ شرما کے اشعار

انھوں نے اپنے مطابق سزا سنا دی ہے

ہمیں سزا کے مطابق بیان دینا ہے

اب کے ملی شکست مری اور سے مجھے

جتوا دیا گیا کسی کمزور سے مجھے

ہاتھ بھر دوری پہ ہے قسمت کی چابی آپ کی

ایک چھوٹا سا قدم اور کامیابی آپ کی

میں نے قبول کر لیا چپ چاپ وہ گلاب

جو شاخ دے رہی تھی تری اور سے مجھے

تمہیں یہ غم ہے کہ اب چٹھیاں نہیں آتیں

ہماری سوچو ہمیں ہچکیاں نہیں آتیں

وہ شانت بیٹھا ہے کب سے میں شور کیوں نہ کروں

بس ایک بار وہ کہہ دے کہ چپ تو چوں نہ کروں

کوئی خط وت نہیں پھاڑا کوئی تحفہ نہیں توڑا

کہ وہ دیکھے تو خود سوچے کہ دل توڑا نہیں توڑا

خطائیں اس لئے کرتا ہوں میں کہ جانتا ہوں

سزا مجھے ہی ملے گی خطا کروں نہ کروں

میرؔ جی عشق مانا کہ نعمت نہیں پر میں اس کو بلا بھی نہیں مانتا

مانتا ہوں خدائے سخن بھی تمہیں اور حکم خدا بھی نہیں مانتا

Recitation

بولیے