noImage

لالہ مادھو رام جوہر

1810 - 1888

کئی ضرب المثل شعروں کے خالق، مرزا غالب کے ہم عصر

آ گیا دل جو کہیں اور ہی صورت ہوگی

لوگ دیکھیں گے تماشا جو محبت ہوگی

آہیں بھی کیں دعائیں بھی مانگیں ترے لیے

میں کیا کروں جو یار کسی میں اثر نہ ہو

  • شیئر کیجیے

آپ تو منہ پھیر کر کہتے ہیں آنے کے لیے

وصل کا وعدہ ذرا آنکھیں ملا کر کیجیے

  • شیئر کیجیے

اب عطر بھی ملو تو تکلف کی بو کہاں

وہ دن ہوا ہوئے جو پسینہ گلاب تھا

اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ

بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے

پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

  • شیئر کیجیے

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

چپکا کھڑا ہوا ہوں کدھر جاؤں کیا کروں

کچھ سوجھتا نہیں ہے محبت کی راہ میں

  • شیئر کیجیے

دل پیار کی نظر کے لیے بے قرار ہے

اک تیر اس طرف بھی یہ تازہ شکار ہے

  • شیئر کیجیے

دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں

بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں

  • شیئر کیجیے

غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہے

ہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہے

  • شیئر کیجیے

کعبے میں بھی وہی ہے شوالے میں بھی وہی

دونوں مکان اس کے ہیں چاہے جدھر رہے

  • شیئر کیجیے

کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے

یوں تو جاتے بھی مگر اب نہیں جانے والے

خط لکھا یار نے رقیبوں کو

زندگی نے دیا جواب مجھے

  • شیئر کیجیے

کس طرف آئے کدھر بھول پڑے خیر تو ہے

آج کیا تھا جو تمہیں یاد ہماری آئی

لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے

ہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو

محبت کو چھپائے لاکھ کوئی چھپ نہیں سکتی

یہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہے

  • شیئر کیجیے

نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر

اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی

تشریف لاؤ کوچۂ رنداں میں واعظو

سیدھی سی راہ تم کو بتا دیں نجات کی

  • شیئر کیجیے

تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا

کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے

  • شیئر کیجیے

Added to your favorites

Removed from your favorites