آنسو پر شاعری

آنسوؤں کا یہ شعری بیانیہ بہت متنوع ،وسیع اور رنگا رنگ ہے ۔ آنسو صرف آنکھ سے بہنے والا پانی ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کبھی دکھ اور کبھی خوشی کی جو زبردست کیفیت ہے وہ بظاہر پانی کے ان قطروں کو انتہائی مقدس بنا دیتی ہے ۔ شاعری میں آنسو کا سیاق اپنی اکثر صورتوں میں عشق اور اس میں بھوگے جانے والے دکھ سےوا بستہ ہے ۔ عاشق کس طور پر آنسوؤں کو ضبط کرتا ہے اور کس طرح بالآخر یہ آنسو بہہ کر اس کو رسوا کرتے ہیں یہ ایک دلچسپ کہانی ہے ۔

ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے

ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا

وسیم بریلوی

رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں

اشک پینے کے لیے ہیں کہ بہانے کے لیے

آنند نرائن ملا

ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں

بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی

a single tear caused my fall in her company

just a drop of water drowned my dignity

a single tear caused my fall in her company

just a drop of water drowned my dignity

شیخ ابراہیم ذوقؔ

ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

منور رانا

مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہ

جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے

کیفی اعظمی

ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ

میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا

ساحر لدھیانوی

شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا

آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا

بشیر بدر

تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا

کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے

لالہ مادھو رام جوہر

آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

سرور عالم راز

پھر مری آنکھ ہو گئی نمناک

پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے

اسرار الحق مجاز

حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو

یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے

جگر مراد آبادی

اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں

آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے

ناصر کاظمی

آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا

ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

حفیظ جالندھری

پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

نامعلوم

اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں

یہ موتیوں کی طرح سیپیوں میں پلتے ہیں

بشیر بدر

بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا

آنکھ سے ہو کر گال بھگو کر مٹی میں مل جائے گا

احمد مشتاق

آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیں

مہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں

گلزار

مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے

مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے

my tears too this does contain,this wine may start to boil

be careful for my goblet burns with rare intensity

my tears too this does contain,this wine may start to boil

be careful for my goblet burns with rare intensity

انور مرزاپوری

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے

عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

بسمل صابری

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

مصطفی زیدی

میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کی

بکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے

بشیر بدر

روز اچھے نہیں لگتے آنسو

خاص موقعوں پہ مزا دیتے ہیں

محمد علوی

دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا

وزیر علی صبا لکھنؤی

جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے

جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

معین احسن جذبی

لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو

نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے

انور شعور

محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے

کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی

جگر مراد آبادی

اب اپنے چہرے پر دو پتھر سے سجائے پھرتا ہوں

آنسو لے کر بیچ دیا ہے آنکھوں کی بینائی کو

شہزاد احمد

آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر

یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

عباس تابش

بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں

کوئی آنسو گرا تھا یاد ہوگا

بشیر بدر

میں نے چاہا تھا کہ اشکوں کا تماشا دیکھوں

اور آنکھوں کا خزانہ تھا کہ خالی نکلا

ساقی فاروقی

آسرا دے کے مرے اشک نہ چھین

یہی لے دے کے بچا ہے مجھ میں

نامعلوم

سمجھتا ہوں سبب کافر ترے آنسو نکلنے کا

دھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کا

امیر مینائی

کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں

غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں

میر اثر

میں جو رویا ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے

حسن کی فطرت میں شامل ہے محبت کا مزاج

انور صابری

آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں

یہ کس کا جمال آ گیا ہے

ادا جعفری

کوئی بادل ہو تو تھم جائے مگر اشک مرے

ایک رفتار سے دن رات برابر برسے

بشیر بدر

ڈوب جاتے ہیں امیدوں کے سفینے اس میں

میں نہ مانوں گا کہ آنسو ہے ذرا سا پانی

when hope and aspirations drown in them so easily

that tears are just some water, how can I agree

when hope and aspirations drown in them so easily

that tears are just some water, how can I agree

جوشؔ ملسیانی

اشک غم دیدۂ پر نم سے سنبھالے نہ گئے

یہ وہ بچے ہیں جو ماں باپ سے پالے نہ گئے

میر انیس

وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا

نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے

اختر انصاری

آنسو ہمارے گر گئے ان کی نگاہ سے

ان موتیوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی

جلیل مانک پوری

کتنی فریادیں لبوں پر رک گئیں

کتنے اشک آہوں میں ڈھل کر رہ گئے

صوفی تبسم

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

کلیم عاجز

رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید

کھارے پانی سے دال گلتی نہیں

شیخ قدرت اللہ قدرت

دم رخصت وہ چپ رہے عابدؔ

آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل

سید عابد علی عابد

عارضوں پر یہ ڈھلکتے ہوئے آنسو توبہ

ہم نے شعلوں پہ مچلتی ہوئی شبنم دیکھی

lord forbid that tears on your cheeks do flow

like dewdrops agonizing on embers all aglow

lord forbid that tears on your cheeks do flow

like dewdrops agonizing on embers all aglow

جوشؔ ملسیانی

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات

شہریار

دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا

آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا

خواجہ میر درد

آج آنسو تم نے پونچھے بھی تو کیا

یہ تو اپنا عمر بھر کا کام ہے

جلیل مانک پوری

یہ بے سبب نہیں آئے ہیں آنکھ میں آنسو

خوشی کا لمحہ کوئی یاد آ گیا ہوگا

اختر سعید خان

تھمتے تھمتے تھمیں گے آنسو

رونا ہے کچھ ہنسی نہیں ہے

بدھ سنگھ قلندر

Added to your favorites

Removed from your favorites