آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے

آج سے طے ہے کہ دشمن کو دعا دینا ہے

اس طرح روز ہم اک خط اسے لکھ دیتے ہیں

کہ نہ کاغذ نہ سیاہی نہ قلم ہوتا ہے

انہیں بھی جینے کے کچھ تجربے ہوئے ہوں گے

جو کہہ رہے ہیں کہ مر جانا چاہتے ہیں ہم

زمانہ اور ابھی ٹھوکریں لگائے ہمیں

ابھی کچھ اور سنور جانا چاہتے ہیں ہم

سب بچھڑے ساتھی مل جائیں مرجھائیں چہرے کھل جائیں

سب چاک دلوں کے سل جائیں کوئی ایسا کام کرو والیؔ

سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیں

اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے

عشق بن جینے کے آداب نہیں آتے ہیں

میرؔ صاحب نے کہا ہے کہ میاں عشق کرو

  • شیئر کیجیے

عشق کی راہ میں یوں حد سے گزر مت جانا

ہوں گھڑے کچے تو دریا میں اتر مت جانا

غم کے رشتوں کو کبھی توڑ نہ دینا والیؔ

غم خیال دل نا شاد بہت کرتا ہے

مصلیٰ رکھتے ہیں صہبا و جام رکھتے ہیں

فقیر سب کے لیے انتظام رکھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

موج ہوا آب رواں اور یہ زمین و آسماں

اک روز سب جائیں گے تھک اللہ بس باقی ہوس

  • شیئر کیجیے

میں جس کا جواب نہ دے پاؤں

ایسا بھی کوئی سوال کرنا

وہاں ہمارا کوئی منتظر نہیں پھر بھی

ہمیں نہ روک کہ گھر جانا چاہتے ہیں ہم

کبھی بھولے سے بھی اب یاد بھی آتی نہیں جن کی

وہی قصے زمانے کو سنانا چاہتے ہیں ہم

ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن

اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا

  • شیئر کیجیے

ہم ہار گئے تم جیت گئے ہم نے کھویا تم نے پایا

ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا ہم کوئی خیال نہیں کرتے

ہمارے شہر میں اب ہر طرف وحشت برستی ہے

سو اب جنگل میں اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں ہم

ہمیں انجام بھی معلوم ہے لیکن نہ جانے کیوں

چراغوں کو ہواؤں سے بچانا چاہتے ہیں ہم

ہمیں تیرے سوا اس دنیا میں کسی اور سے کیا لینا دینا

ہم سب کو جواب نہیں دیتے ہم سب سے سوال نہیں کرتے

Added to your favorites

Removed from your favorites