aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dast-e-kaatib-e-taqdiir"
یادگار کاتب، کراچی
ناشر
ادارۂ تجدید، علی گڑھ
جزیرۂ تحریر، بہاولپور
ادارۂ تحریر، کراچی
اے۔ اے۔ خطیب
مدیر
ادارہ تجدید ادب، حیدرآباد
دائرہ تحریر نو، کلکتہ
اے نارائن داس
مترجم
اے۔ آر۔ طاہر
خدیجہ بنت طاہر سیف الدین
مصنف
تاجدار احتشام صدیقی
مقام دوست، لاہور
انجمن دوستداران کتاب
ایم۔ اے۔ عظیم طاہر
مکتبہ تاجر، کراچی
مری قسمت لکھی جاتی تھی جس دن میں اگر ہوتااڑا ہی لیتا دست کاتب تقدیر سے کاغذ
غرور کاتب تقدیر توڑ ڈالتے ہیںچلو یہ آبلۂ بخت پھوڑ ڈالتے ہیں
اے کاتب تقدیر یہ تقدیر میں لکھ دےبس اس کی محبت مری جاگیر میں لکھ دے
لرز گیا ہے جہاں دست کاتب تقدیرہماری زیست میں لمحات آئے ہیں کیا کیا
کاتب تقدیر میرے حق میں کچھ تحریر ہورنج ہو یا شادمانی کچھ تو دامن گیر ہو
شاعری ،یا یہ کہاجائے کہ اچھا تخلیقی ادب ہم کو ہمارے عام تجربات اور تصورات سے الگ ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے وہ ہمیں ان منطقوں سے آگاہ کرتا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے الگ ہوتے ہیں ۔ کیا آپ دوست اور دوستی کے بارے ان باتوں سے واقف ہیں جن کو یہ شاعری موضوع بناتی ہے ؟ دوست ، اس کی فطرت اس کے جذبات اور ارادوں کا یہ شعری بیانہ آپ کیلئے حیرانی کا باعث ہوگا ۔ اسے پڑھئے اور اپنے آس پاس پھیلے ہوئے دوستوں کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیجئے ۔
یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔
کاتب تقدیر کون؟
پی۔ آر۔ سباس چندرن
زائچۂ تقدیر
کرشمۂ تقدیر
گلدستۂ کلک تقدیر
منشی رام سہائے تسلیم
شاعری
دست شناسی
خط تقدیر
ایم۔ اسلم
رحمانی دست غیب
محمد عمران آسی
آہنگ کاتب بھوپالی
محمد مختار علی
تعبیر و تقدیر
لطف الرحمن
مولوی کریم الدین
ناول
کلیات کاتب
عبدالمجید کاتب
کلیات
کاشف تقدیر
مقالات/مضامین
دست غیب
خواجہ حسن نظامی
اسلامیات
دست برگ
ستیہ پال آنند
دست ہنر
قاسم نیازی
کرم کچھ اس طرح سے کاتب تقدیر کرتا ہےسزا دینے میں بندوں کو سدا تاخیر کرتا ہے
ہو نوشتہ یہ بھی جیسے کاتب تقدیر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
لکھیں جب کاتب تقدیر نے بندوں کی تقدیریںمرے حصے میں عجز اور ان کے حصے میں غرور آیا
کسی پاداش کی تکمیل کا حصہکہ حرف کاتب تقدیر ہوتا ہے
شکوۂ کاتب تقدیر بجا ہے لیکندست تدبیر میں جب دامن تقدیر نہ ہو
صفت کاتب تقدیر کے لکھنے والےعرصۂ حشر کو میدان قلم کہتے ہیں
قلم کاتب تقدیر نے جو لکھا ہےاس میں حکمت ہے کوئی اس کا ہے گہرا مفہوم
پڑھتا ہی نہیں وہ کبھی تحریر ہماریاے کاتب تقدیر یہ تقدیر ہماری
میری تقدیر کو کچھ اور نکھر جانے دےٹھہر اے کاتب تقدیر سنور جانے دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books