aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dast-e-kaatib-e-taqdiir"
اے۔ اے۔ خطیب
مدیر
یادگار کاتب، کراچی
ناشر
جزیرۂ تحریر، بہاولپور
ادارۂ تحریر، کراچی
ادارۂ تجدید، علی گڑھ
ادارہ تجدید ادب، حیدرآباد
دائرہ تحریر نو، کلکتہ
اے نارائن داس
مترجم
مقام دوست، لاہور
اے۔ آر۔ طاہر
ایم۔ اے۔ عظیم طاہر
مصنف
خدیجہ بنت طاہر سیف الدین
انجمن دوستداران کتاب
دوست محمد کتابدار بہرام مرزا
died.1550
مکتبہ تاجر، کراچی
مری قسمت لکھی جاتی تھی جس دن میں اگر ہوتااڑا ہی لیتا دست کاتب تقدیر سے کاغذ
اے کاتب تقدیر یہ تقدیر میں لکھ دےبس اس کی محبت مری جاگیر میں لکھ دے
غرور کاتب تقدیر توڑ ڈالتے ہیںچلو یہ آبلۂ بخت پھوڑ ڈالتے ہیں
لرز گیا ہے جہاں دست کاتب تقدیرہماری زیست میں لمحات آئے ہیں کیا کیا
کرم کچھ اس طرح سے کاتب تقدیر کرتا ہےسزا دینے میں بندوں کو سدا تاخیر کرتا ہے
شاعری ،یا یہ کہاجائے کہ اچھا تخلیقی ادب ہم کو ہمارے عام تجربات اور تصورات سے الگ ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے وہ ہمیں ان منطقوں سے آگاہ کرتا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے الگ ہوتے ہیں ۔ کیا آپ دوست اور دوستی کے بارے ان باتوں سے واقف ہیں جن کو یہ شاعری موضوع بناتی ہے ؟ دوست ، اس کی فطرت اس کے جذبات اور ارادوں کا یہ شعری بیانہ آپ کیلئے حیرانی کا باعث ہوگا ۔ اسے پڑھئے اور اپنے آس پاس پھیلے ہوئے دوستوں کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیجئے ۔
یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔
کاتب تقدیر کون؟
پی۔ آر۔ سباس چندرن
زائچۂ تقدیر
خط تقدیر
ایم۔ اسلم
مولوی کریم الدین
ناول
کرشمۂ تقدیر
دست زلیخا
سلمیٰ جاوید
خواتین کی تحریریں
دست شناسی
دست قضا
ارل سٹینلے گارڈنر
رائیڈر ہیگرڈ
ناسخ
سید شبیہ الحسن
سوانح حیات
رحمانی دست غیب
محمد عمران آسی
لیل و نہار
ڈرامہ
نامعلوم مصنف
گلدستۂ کلک تقدیر
منشی رام سہائے تسلیم
شاعری
دست زرفشاں
صبا اکبرآبادی
رباعی
کاتب تقدیر میرے حق میں کچھ تحریر ہورنج ہو یا شادمانی کچھ تو دامن گیر ہو
ہو نوشتہ یہ بھی جیسے کاتب تقدیر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
لکھیں جب کاتب تقدیر نے بندوں کی تقدیریںمرے حصے میں عجز اور ان کے حصے میں غرور آیا
صفت کاتب تقدیر کے لکھنے والےعرصۂ حشر کو میدان قلم کہتے ہیں
قلم کاتب تقدیر نے جو لکھا ہےاس میں حکمت ہے کوئی اس کا ہے گہرا مفہوم
میری تقدیر کو کچھ اور نکھر جانے دےٹھہر اے کاتب تقدیر سنور جانے دے
اے کاتب تقدیر ہماری بھی رضا پوچھیوں نالۂ تقدیر رقم ہونے نہ دیں گے
کسی پاداش کی تکمیل کا حصہکہ حرف کاتب تقدیر ہوتا ہے
شکوۂ کاتب تقدیر بجا ہے لیکندست تدبیر میں جب دامن تقدیر نہ ہو
اے مرے کاتب تقدیر ذرا یہ تو بتاتیری تحریر بھی کیا رد و بدل ہوتی ہے
پڑھتا ہی نہیں وہ کبھی تحریر ہماریاے کاتب تقدیر یہ تقدیر ہماری
تم تو کرتے ہو مری کلک سخن کو پابندکون ہے کاتب تقدیر وطن کیا جانو؟
کیا کاتب تقدیر سے زخموں کی شکایتجو تیر تھا ترکش میں سو چلنے کے لیے تھا
سب کچھ تو پہلے کاتب تقدیر لکھ چکااے آدمی یہاں تری سازش فضول ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books