aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raaz-daar"
رام داس
شاعر
رام داس بیجل
مصنف
سکھرام داس
بخشی رام داس
پنڈت چاند نرائن راز مونس
رضا دارالاشاعت، رام نگر
ناشر
کیشورام دت اینڈ سنز بکسیلر دہلی
انبا داس راو
مدیر
رائے ٹھاکر دت
امبا داس راؤ
ابنا داس راؤ
رام سرن داس
رام کرن داس کھتری
انتشارات در راہ حق قم
کوی راج ہرنام داس
انجمن در انجمن تفریق خاص و عام ہےہے کوئی جو راز کہہ دے برملا میری طرح
ہمیں بھی آ ہی گیا رازؔ در بدر پھرناہمیں بھی لگ گئی آخر ہوائے شہر عشق
دو چار تو محفل میں طرف دار ملیں گےاے رازؔ کھری بات سنا کیوں نہیں دیتے
در خزینۂ صد راز کھولتا ہے کوئینہ جانے کون ہے وہ مجھ میں بولتا ہے کوئی
راز کی باتیں کہیں عام نہ کر دے کوئیاب تو گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے
رات کا استعارہ شاعری میں معنیاتی لحاظ سے بہت متنوع اور پھیلا ہوا ہے ۔ رات اپنی سیاہی اور تاریکی کے حوالے سے زندگی کی منفی صورتوں کی علامت کے طور پر بھی برتی گئی ہے ساتھ ہی روشنی کی چکا چوند اور اس کی اذیت کے مقابلے میں سکون اور تنہائی کے استعارے کے طور پر بھی ۔ رات کے اس متضاد اور دلچسپ شعری بیانیے کو پڑھئے ۔
राहदारी راہ داری
راستے سے گزرنے کا حق یا آنے جانے کا عمل، سفر
فارسی
राह-दाँ راہ داں
راہ شناس، رہبر، رہنما، قائد، پاسباں
दज़ دَز
محل ؛ بالا خانہ ، قلعہ .
रम्ज़-दाँ رَمْز داں
رمز شناس، نکتہ وری، اشارہ سمجھنے والا، کسی بات یا مسئلے کے نازک پہلوؤں کو سمجھ لینے والا
راز دار معشوقہ
نامعلوم مصنف
ناول
راز در راز
راز القادری بدایونی
رابندرناتھ ٹیگور
افسانہ / کہانی
آئینہ تفتیش
ایکادشی مہاتم
ہندو ازم
اردو کی دوسری کتاب
نصابی کتاب
اقبال درراہ مولوی
سید محمد اکرام
تنقید
در آئینہ
رفیع الدین راز
مجموعہ
وا نہیں ہے کوئی در
اصغر راز فاطمی
حمد
پھیلاوت
دام محبت
سیتا رام
مہاتما تلسی داس
پنڈت رام چندر راؤ
داگا داس راٹھور
کرپا رام گپتا اثر
ہمہ دان طبیب
حکیم بھگت رام
طب
پرندر داس
راجہ راؤ
ترجمہ
بس یہی سوچ کر ڈر رہا ہوں میں رازؔکیوں عزیزوں کی ہمدردیاں بڑھ گئیں
جو راہ حق میں مرنے کے لیے تیار ہو جائےنظر میں اس کی بازیچہ فراز دار ہو جائے
وہ سمجھتا ہے اسے جو راز دار نغمہ ہےآہ کہتے ہیں جسے صرف اک شرار نغمہ ہے
راز در پردۂ دستار و قبا جانتی ہےکون کس بھیس میں ہے خلق خدا جانتی ہے
تھا ایک راز دار محبت سے لطف زیستلیکن وہ راز دار محبت کہاں ملا
وہ راز دار محفل یاراں نہیں رہاوہ غم گسار بزم عریفاں چلا گیا
سچ بتا کیوں خموش ہے بلبلاے صبا راز دار پھولوں کی
ہم اپنے راز پہ نازاں تھے شرمسار نہ تھےہر ایک سے سخن راز دار کرتے رہے
درد دل نے راز دار ہر دو عالم کر دیاخاک کو یہ فکر ہے اب اور کیا ہو جائیے
چراغ بزم ہیں ہم راز دار صحبت بزمبجھا دیے گئے ہیں یا جلا دیے گئے ہیں
لبوں کو تم نے تو مسعودؔ سی لیا تھا مگرتبسم نگہ راز دار میں کیا تھا
راز در راز ہے الفاظ کی گہرائی میںمیرے چہرے پہ جو تحریر ہے پڑھ کر دیکھو
میں بڑے بلند شجر کا پھلبڑے فاصلے کا شکار غمزۂ راز دار
خامشی کب تک رہے گی راز دار حرف شوقکہہ سکیں گے داستاں کب تک زبان دل سے ہم
جوانی راز دار کن فکاں ہے سر آدم ہےجوانی انقلاب انگیز ہے پہنائے عالم ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books