aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Guru-FAi"
شام سرمہ در گلو ہے تو سحر پنبہ بگوشکس جہاں میں فیضؔ کو تو نے غزل خواں کر دیا
غرور چاک جنوں فیضؔ سرنگوں نہ ہواہزار خار مغیلاں بڑھے رفو کے لئے
کل ہم غرور فن کی روانی میں پھنس گئےاولی لکھا تھا مصرعۂ ثانی میں پھنس گئے
شوخی ادا غرور شرارت خریدئیےچاندی اچھالیے تو قیامت خریدئیے
کیا گھٹا آسماں پہ چھائی ہےجیسے بھر کر شراب لائی ہے
خود لفظ پس لفظ کبھی دیکھ سکے بھیکاغذ کی یہ دیوار کسی طرح گرے بھی
کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھیپر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیں
جیسے سورج غروب ہوتا ہےپھیل کر یوں سمٹ رہی ہے حیات
بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہےمجھے وہ گل بدن یاد آ گیا ہے
دل میں ترے خیال کی دنیا لئے ہوئےبیٹھا ہوں ایک کوزے میں دریا لئے ہوئے
گردش ایام ہم پر مہرباں کچھ کم نہیںیہ زمیں ہے خوں طلب تو آسماں کچھ کم نہیں
بھرا ہوا تری یادوں کا جام کتنا تھاسحر کے وقت تقاضائے شام کتنا تھا
نشاط ہستیٔ فانی کی جستجو کیا ہےجو بے ثبات ہے پھر اس کی آرزو کیا ہے
عرشؔ اونچا تھا سر فن کبھی یا فخر و غروراب تہ تیغ ہے گردن یہ کوئی کیا جانے
اونچے کلس پہ دیپ جلا شام ہو گئیجاگے گناہ سویا خدا شام ہو گئی
ہیں نخوتوں کے بھی کانٹے گل عبادت میںغرور و کبر کا پھل شاخ پارسائی دے
وقت کے طوفانی ساگر میں کرودھ کپٹ کے ریلے ہیںلیکن آس کے مانجھی ہر لحظہ موجوں سے کھیلے ہیں
عدو کی یار کی ایسی کی تیسیگلوں کی خار کی ایسی کی تیسی
محیط مثل آسماں زمین فکر و فن پہ ہوںسکوت کا سبب ہے یہ مقام لا سخن پہ ہوں
غرور ناز ادا تمکنت شعاری سبمجھے تو یاد ہے اک اک ادا تمہاری سب
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books