aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".park"
پارک میں کیا وہ آئی تھیآج بھی کیا شرمائی تھیکیسے کپڑے پہنے تھیکیا انداز تھا جوڑے کاتم نے اس سے پوچھا تھارات جو تم نے سوچا تھافیضؔ کی تازہ نظم پڑھیاور بیدیؔ کا افسانہلوپ سے کیا حاصل ہوگادریا کیا ساحل ہوگا
چار باغ اسٹیشن دیکھوشہر میں ایک نیا پن دیکھوسجی سجائی دلہن دیکھوقدم قدم پر فیشن دیکھوآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںکتنا اچھا چڑیا گھر ہےشیر ہرن بھالو بندر ہےمور کبوتر اور تیتر ہےاندر مردہ عجائب گھر ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںحضرت گنج کی سیر کرائیںقیصر باغ کی لاٹ دکھائیںاور امین آباد گھمائیںشام اودھ رنگین بنائیںآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںیہ پوری یوپی کا دل ہےاس میں ایک چھتر منزل ہےآرٹ اسکول لب ساحل ہےندوہ دیکھنے کے قابل ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںچوک نخاس حسین آبادگولا گنج نظیر آبادپیار محبت میں آزادمرد و زن شیریں فرہادآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںآؤ شہد اسمارک دکھائیںجھنڈے والے پارک میں جائیںبیلی گارد کو سمجھائیںمیڈیکل کالج دکھلائیںآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںیہ سب شہروں میں نیارا ہےنام اس کا کتنا پیارا ہےسب کی آنکھوں کا تارا ہےامن و سکوں کا گہوارا ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیں
۔۔۔۔اور چادر پر شب باشی کا زندہ لہو تھااس نے اٹھ کے انگڑائی لیآئینے میں چہرہ دیکھاسرشاری میں اطمینان کی ٹھنڈی سانس لیاس کی تھکی ہوئی آنکھوں میںدیوانی مغرور چمک تھیفتح کے نشے سے پلکیں بوجھل تھیںاس نے سوچا ہائیڈ پارک میںجو لڑکی اک جاسوسی ناول میں ڈوبیاسے ملی تھیوہ تو جیسے فاختہ نکلیاس نے اپنی سیکس اپیل کا کمپا مار کےرام کیا تھااس کی لچھے دار انوکھی باتیں سن کراس کے ساتھ چلی آئی تھیصبح سویرےچائے بنا کربوسہ دے کرچلی گئی تھیوہ تو سچ مچ باکرہ نکلی(ورنہ سولہ سترہ برس کی لڑکی حرافہ ہوتی ہے)اس نے سوچااس نے شب بھربند کلی پراک زنبوری رقص کیا تھااور چادر پر اتنا لہو تھاجیسے جنگ عظیماسی بستر پر لڑی گئی تھیاس نے اپنی مونچھوں کے گچھے میںاپنی ہنسی دبائیایک خیال سےآنکھوں میں سایہ لہرایاسر چکرایا۔۔۔۔یہ تو اس کی مہواری کا مردہ لہو تھاجو چادر پر پھیل گیا تھا
سبز و شاداب ساحلریت کے اور پانی کے گیتمسکراتے سمندر کا سیال چہرہچاند سورج کے ٹکڑےلاکھوں آئینے موجوں میں بکھرے ہوئےکشتیاں بادبانوں کے آنچل میں اپنے سروں کو چھپائے ہوئےجال نیلے سمندر میں ڈوبے ہوئےخاک پر سوکھتی مچھلیاںگھاٹنیں پتھروں کی وہ ترشی ہوئی مورتیںایلیفینٹا کے غاروں سے جو رقص کرتی نکل آئی ہیں
ہمارے گھر کے قریبکوئی نہر نہیں بہتیاور نہ ہیکسی پارک میںسنگی نشستہمارے نام سے منسوب ہےہماری طرفآنے والے کسی راستے پرکوئی درخت نہیں لگایا گیانیلا آسمانہم سے بہت دور ہےاور ستارےصرف ہماری آنکھوں میں چمکتے ہیںدوستوں سے کہہ دوہم حالت جنگ میںآسمان سے گرائے گئے کھلونے ہیںکوئی ہم سے مت کھیلے
تمہیں یاد ہوگاتم نے مجھے پچھلے برس خط میں اپریل بھیجاجو مجھ تک پہنچتے پہنچتے اگست ہو گیالفظ پیلے پتوں کی طرحفرش پر بکھر گئےدسمبر کی سرد راتوں میںمیں وعدوں کے آتش دان پربیٹھی جاگتی رہیمیری رگوں میں جما ہوا دسمبرآنکھوں سے پگھل کربہتا رہتا ہےاس برس مجھےخط میں کچھ نہیں بھیجناکچھ بھی نہیںشاید اذیتوں سے بھریشاخوں پرکسی وعدے کی کونپلپھوٹ پڑےموسموں کا کیا ہے کب بدل جائیںبے اعتبار لہجوں کی طرحوقت سب کچھ الٹ پلٹ رہا ہےشاید تمہارے لوٹنے تکبہت کچھ ویسا نہ رہےجیسا تم چھوڑ گئے تھےلوہے کے جبڑےمٹی کے ملبوسکو تار تار کرتے جا رہے ہیںپل جہاں سے تم پارک کے کنارےکھڑے دکھائی دیتے تھےوہ منظر میٹرو بس نے نگل لیا ہےسنبل کے پیڑوں کی جگہ شاپنگ مال لے چکا ہےاور ہاںوہ پھولوں والی دکانجہاں سے ہم بکے لیتے تھےوہاں فاسٹ فوڈ بن گیادل کی جگہ انتڑیوں نے لے لی ہےکیا کچھ اور کیسے بدل جاتا ہے
میں گھاس ہوںہری بھری گھاسپانی ملے تو ہری بھری نہ ملے تو گھاس پھوستھوڑی نرگسیت کی اجازت دیجیےارے جب اگتی ہوں تو کیا جوبن ہوتا ہے مجھ پرنئی نئی گھاس پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں تواندھوں کی آنکھوں میں بھی طراوت اتر آتی ہے جناباور ہائے وہ تازہ تازہ گھاس کی خوشبوپر افسوس جب دیر تک بارش نہ ہو تو پیلی پڑ جاتی ہوںمگر دھوپ پہلے مجھے سونا اور پھر کندن بنا دیتی ہےزمین پر ایستادہ ہزاروں پہاڑیوں پر میرا ہی رنگ چڑھا ہوتا ہےآنکھ رکھنے والے کہتے ہیںسبزے سے ڈھکی پہاڑیاں کتنی بھی حسین ہوںسونے سے ڈھکی پہاڑیوں کی بات ہی الگ ہےلیکن یہ میں کیا بڑ ہانکنے بیٹھ گئیآمدن برسر مطلب میں سانپوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتی ہوںسانپ جو گھاس میں چھپ کردار کرتے ہیںگھاس سے ڈھکے لان باغ اور پارککروڑوں انسانوں کو تسکین دیتے ہیںبچے گھاس پر بھاگتے دوڑتے اچھلتے کودتے اور لوٹ پوٹ ہوتے ہیںجوان مجھ پر چلتے ہوئے محبتوں کا اظہار اور اقرار کرتے ہیںعمر رسیدہ لوگ دور دور تک پھیلے سبزے کو دیکھ کردل کی گھٹن اور احساس زیاں بھول جاتے ہیںمیں خوش ہوتی ہوں کہ کسی کے کام آ ہی ہوںلیکن میری خوشی دکھ اور شرمندگی میں بدل جاتی ہےجب میرے اندر چھپے ہوئے سانپ انسانوں کو ڈس لیتے ہیںسوچتی ہوں ان سانپوں کا کیا علاج کروںسوچتی ہوں ان سانپوں کا کوئی علاج ہے بھی یا نہیںسوچتی ہوں سانپ مجھی میں تو نہیں چھپےوہ تو زمین کے کونے کونے میں موجود ہیںاس کے اندر بھی اس کے باہر بھیسوچتی ہوں جس تیزی سے سانپوں کی تعداد بڑھ رہی ہےکل یہ ساری زمین پر نہ چھا جائیںسوچتی ہوں کوئی سیلاب ہی آ جائے جو انہیں بہا لے جائےپھر خیال آتا ہے یہ بہہ کر جائیں گے کہاںآخر ایک نہ ایک دن پانی اترے گا اور یہ دوبارہ خشکی پر چڑھ آئیں گےاور میرے ہی دامن میں پناہ لے لیں گےسوچتی ہوں خدا نے مجھے بنایا تھا تو انہیں کیوں بنایااور اگر بنایا ہی تھا تو ان کے اندر زہر کیوں بھر دیاکیوں ہو گئے یہ انسان کے دشمنمگر سارے سانپ تو زہریلے نہیں ہوتےاور کیا انسانوں کے اندر بھی زہر نہیں بھرتا جا رہا ہے ابسوچتی ہوں انسان سانپ سے ڈرتا ہے توسانپ بھی انسان سے ڈرتا ہےانسان نے سانپ میں شیطان کی شکل دیکھی تھیجس نے اسے جنت سے نکلوا دیا تھاانسان کے اندر شیطان سے برابر اترنے کی طلب رکھ دی گئی ہےجہاں کہیں سانپ کو دیکھتا ہے اسے مارنے کی کوشش کرتا ہےسانپ کو بھی انسان کے اس ازلی و ابدی ارادے کی خبر ہےاسی لیے تو انسان کی آہٹ یا بو پاتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہےخرابی تو میری وجہ سے ہوتی ہےگھاس میں چھپا سانپ انسان کو دیکھ کر بھاگتا ہےلیکن انسان اسے دیکھ نہیں پاتا اور نا دانستہ اس کا پاؤں سانپ پر پڑ جاتا ہےاور سانپ اپنی جان بچانے کے لیے اسے ڈس لیتا ہےیوں میں ذریعہ بن جاتی ہوں انسان کی موت کامجھے اپنا یہ کردار ہرگز پسند نہیںسوچتی ہوں انسانوں اور سانپوں نے آپس میں لڑنا ہی ہے تومیری آڑ میں نہ لڑیںسڑکوں پر لڑیں گھروں کے اندر لڑیںچٹیل میدانوں میں لڑیں صحراؤں میں لڑیںپھر خیال آتا ہے ان جگہوں پر تو پہلے ہی گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہےانسان انسان سے لڑ رہا ہےاور اس نے طرح طرح کےمہلک کیمیائی جوہری اور نفسیاتی ہتھیار ایجاد کر لیے ہیںایک دوسرے کو دکھ دینے اور مارنے کے لیے
اک ایسا زمانہ گزرا ہے جب اپنا سہارا کوئی نہ تھامنجھدار میں اپنی کشتی تھی محفوظ کنارا کوئی نہ تھاصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیںتفریح کے سارے کاموں میں جب روڑے سب اٹکاتے تھےجب کھیل کا نام آ جاتا تھا بل تیوری پر پڑ جاتے تھےاب اپنے سارے بزرگوں کو شیشے میں اتارا کرتے ہیںصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیںیہ لائبریری اپنی ہے یہ بینک کا کام ہمارا ہےیہ ریڈنگ روم ہمارا ہے یہ پارک ہمارا اپنا ہےہم اپنے بگڑتے کاموں کو خود آپ سنوارا کرتے ہیںصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیںاسکول میں دن بھر پڑھ لکھ کر جب شام کو ہم گھر آتے ہیںپھر اپنے کلب میں جاتے ہیں اور اپنا جی بہلاتے ہیںذہنوں کو جو شل کر دیتا ہے وہ بوجھ اتارا کرتے ہیںصد شکر کے وہ دن بیت گئے جب کوچہ گردی کرتے تھےاب اپنے کلب کے کاموں میں ہم وقت گزارا کرتے ہیں
پارک کی آخری ادھوری بنچ
اب کی گرمی کی چھٹی میںیعنی اس گزری گرمی میںگئے لکھنؤ ہم خالہ کے گھردیکھے طرح طرح کے منظربھول بھلیاں ہم نے دیکھیجا کے نہ نکلے جس میں کوئیدیکھا حسین آباد کا پھاٹکدیکھا سنیما دیکھا ناٹکلاٹ شہیدوں والی دیکھیپارک گئے ہم ہاتھی والیکونسل چمبر دیکھا ہم نےزو بھی جا کر بھالو دیکھےناچ دکھاتے کالو دیکھےبیلی گارد ہم نے دیکھیجس میں چلے تھے گولے گولیگئے امین آباد بھی یارواور ہوئے ہم شاد بھی یاروگنج کی ہم نے سیر بھی کر لیہر منظر سے جھولی بھر لیگزرے قیصر باغ سے ہو کرچار باغ کا چلتا منظردیکھ کے ہر منظر کو آئےلوٹ کے اپنے گھر کو آئے
اک دن پارک کی بنچ پہ یوں ہیکیا جانے کیا سوچ کے تم نےبیٹھے بیٹھے اپنی بندیامیرے ماتھے پر چپکا دیاور ہنسیں تم آئے ہائےاس دن بندیا لگا کے جب میںخوش تھا نہ کہ شرمندہ تھاتب ہی میں نے جان لیا تھاشاید مجھ کو عشق ہوا ہے
ادھر ہے پارک بچوں کا چلو آؤ ذرا گھومیںذرا چکر کا جھولا جھول کر ہاتھی پہ جا بیٹھیں
پارک کی پہلی دھوپ سے ملنےانگلی سے انگلی کو تھامےسب کو ہیلو ہیلو کرتیواکی ٹاکی دادی پوتیسہج سہج چلتی ہیں دادیآگے پیچھے پھرتی پوتیرکتی چلتی چلتی رکتیواکی ٹاکی دادی پوتیگھس آیا شاید کوئی کنکرپوتی کی چپل کے اندردادی جھک کے جھاڑ رہی ہیںپوتی کو پھٹکار رہی ہیںکتنا کہا تھا جوتا پہنولیکن تم کس کی سنتی ہوسوری دادی دادی سوریکل سے جوتا ہی پہنوں گیپوتی آنکھیں مٹکاتی ہےدادی کو یوں بہلاتی ہےپارک میں جا کر بیٹھ گئی ہیںدھوپ سے خود کو سینک رہی ہیںلیکن پوتی کیوں بیٹھے گیپارک میں آئی ہے دوڑے گیجھولا سی سو اور سلائڈلیکن دادی بنی ہیں گائیڈیہ نہ کرو یہ کیا کرتی ہوہے ہے جو تم گر جاتی توتتلی کے پر توڑ رہی ہوتوبہ توبہ کتنی بری ہودامن میں پھر بھر لیے پتھرپھینکو ورنہ دوں گی تھپڑدادی نے جو دی اک جھڑکیلال بھبھوکا ہو گئی پوتیاب دونوں چپ دونوں روٹھیان کی تولو ہو گئی کٹیآیا تبھی غبارے والاٹن ٹن گھنٹی خوب بجاتانیلے پیلے کتنے سارےبادل چھونے والے غبارےلیکن کیسے پائے گی پوتیدادی سے تو ہوئی ہے کٹیسوچ سوچ کے دھیرے دھیرےبولی غبارے والے سےمجھ کو ایک غبارہ دے دوپیسے دادی جان سے لے لوان سے میری ہوئی ہے کٹیلیکن ہیں تو میری دادیسن کے ہنس دیں بولیں دادیلے جیتی تو میں ہی ہاریبھیا ایک غبارہ دے دواس آفت کی پرکالہ کوفتنہ ہے شیطان کی نانیپھر بھی جان سے دل سے پیاریلے کے غبارہ ہنستی ہنستیگھر کو چلیں وہ پکڑے انگلیرکتی چلتی چلتی رکتیواکی ٹاکی دادی پوتی
گھروں سے بچو نکل آؤ گر رہی ہے برفبجاؤ تالیاں اور گاؤ گر رہی ہے برففلک سے فرش زمیں پر برس رہا ہے نورچھتوں پہ کھیتوں پہ شاخوں پہ بس رہا ہے نورچمن ہے نور کی اک ناؤ گر رہی ہے برففضا میں چاروں طرف سرمئی اجالا ہےتھی بوند پانی کی اب روئی کا جو گالا ہےدلوں کو شوق سے گرماؤ گر رہی ہے برفہے نرم ایسی کہ پھولوں کو گدگدی آئےسفید ایسی کہ بگلے کا پر بھی شرمائےملا کے گڑ میں اسے کھاؤ گر رہی ہے برفبناؤ قوس قزح برف پر گرا کر رنگبڑھاؤ برف کے کھیلوں سے اپنے دل کی امنگپھسل کے برف پہ دکھلاؤ گر رہی ہے برفتراشو برف کے پتلے مناؤ یخ کی بہاراچھالو برف کی گیندیں اڑاؤ یخ کی پھوارچلو کہ پارک میں بے بھاؤ گر رہی ہے برفگھروں سے بچو نکل آؤ گر رہی ہے برفبجاؤ تالیاں اور گاؤ گر رہی ہے برف
اک انوکھی نرالی دنیا میںیوں سمجھ لو خیالی دنیا میںاپنی دنیا سے بھی بہت پہلےلو کہانی سنو کہ دل بہلےناچتے تھے ستارے چھم چھم چھماور بھینسیں تھرکتی تھیں باہمگائیں برقع میں منہ چھپاتی تھیںبچھڑوں کو اوڑھنی اڑھاتی تھیںبرف کے جب پہاڑ گلتے تھےاونٹ چسٹر پہن کے چلتے تھےکیا زمانہ تھا کیا کہوں ساتھیپائجامہ پہنتے تھے ہاتھیمچھلیاں سڑکوں پر ٹہلتی تھیںپارک کی گھانس پر مچلتی تھیںپہنے رہتا تھا ہر قلی کمخوابشاہزادے اٹھاتے تھے اسبابباز غوغائیوں سے ڈرتے تھےاور کبوتر شکار کرتے تھےبلی چوہے سے خوف کھاتی تھیکتے کو اس کی دم ہلاتی تھیشیر کا دل دھڑکتا تھا دھک دھکسارے جنگل کا راجا تھا مینڈکبکریاں پر لگا کے اڑتی تھیںدم ہوا میں اٹھا کے اڑتی تھیںبیل کے سینگ ہو گئے تھے گمنظر آتا تھا ہر گدھا بے دممرغیوں کے تھے مخملی گدےجن پہ دیتی تھیں بیٹھ کر انڈےشہد کی سی کونین میں تھی مٹھاسدکھ کو کہتے تھے سکھ تو آس کو یاسچڑیاں روزانہ دودھ دیتی تھیںکشتیاں مانجھیوں کو کھیتی تھیںریشمی صافہ باندھ کر گھوڑےشان سے مسندوں پہ بیٹھے تھےبچے اصلاح کرتے کاپی پردوڑا کرتے تھے ریس میں ٹیچر
بائیں جانبکولتار کیوہ سڑک ہےجو سبز و سیاہ درختوںکی قطار کے درمیاندور تکبل کھاتیچلی گئی ہےدائیں جانبنواب کی پرانی حویلیجس میںاب مارکیٹ ہےسامنےفینس کے اس پاراسکول کی عمارتجس کے گیٹ پرمالتی کی بیل کے زیر سایہایک گیت ہےگیتجو ملنے اور بچھڑنےرونے اور گانےجینے اور غم اٹھانےکے بارے میں ہےگیتجو فقط بچھڑنے کے لئے ملنےفقط رونے کے لئے گانےاور فقط غم اٹھانے کے لئے جینےکے بارے میں ہےگیتجو
نہیں میری جان فضا خراب ہے تو گاڑی پارک کر دوباہر جانا مناسب نہیںاداس قہقہوں میں پلے بچے اب جوان ہو چلے ہیںاور ہیڈ لائٹوں کی روشنی میں نت نئے غموں کی ایجاد کر رہے ہیں
تیرا پانی یوں ہمارے خون میں شامل ہواجو رہا تیرے کنارے پر وہی کامل ہوا
یہ لوگ لمس کے میلے سے بے خبر چپ چاپگھروں کی سمت رواں ہیںیہ ہسپتال یہ شوریہ پارک راتوں کی بستی ہیں اشتہاروں کے لفظیہ بورڈ کچلی ہوئی جنس کی علامت ہیںتھکے ہوئے ہیں یہ سب خاکے مسخ ہیں چہرے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books