aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dushmano.n"
اگر میں سمجھوںکے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونےتو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضرورینہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کینہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہےمیں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہےتو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیرسچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبےسب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوںیہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہےیہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سےیہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہےیہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کامیں سوچتا ہوںجو کھیل ہےاس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائےمگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھاتری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھاتری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میںاسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھایہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشتتو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھادل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصلتو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھاترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہومیں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھااگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصلبھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہےاگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھاعیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبےانہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھاسنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نےتو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکنتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
سیکڑوں حسن ناصرہیں شکار نفرت کےصبح و شام لٹتے ہیںقافلے محبت کےجب سے کالے باغوں نےآدمی کو گھیرا ہےمشعلیں کرو روشندور تک اندھیرا ہےمیرے دیس کی دھرتیپیار کو ترستی ہےپتھروں کی بارش ہیاس پہ کیوں برستی ہےملک کو بچاؤ بھیملک کے نگہبانودس کروڑ انسانو!بولنے پہ پابندیسوچنے پہ تعزیریںپاؤں میں غلامی کیآج بھی ہیں زنجیریںآج حرف آخر ہےبات چند لوگوں کیدن ہے چند لوگوں کارات چند لوگوں کیاٹھ کے درد مندوں کےصبح و شام بدلو بھیجس میں تم نہیں شاملوہ نظام بدلو بھیدوستوں کو پہچانودشمنوں کو پہچانودس کروڑ انسانو!
حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پرحضور کی تمام تر بلائیں میری جان پرحضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیںحضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیںحضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوںحضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوںحضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہےحضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہےحضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پرحضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پرحضور منہ سے بہ رہی ہے پیک صاف کیجئےحضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجئےحضور کیا کہا میں آپ کو بہت عزیز ہوںحضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوںحضور چھوڑیئے ہمیں ہزار اور روگ ہیںحضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں
یہ اپنے نغمات پر اثر سے دلوں کو بیدار کر چکی ہےیہ اپنے نعروں کی فوج سے دشمنوں پہ یلغار کر چکی ہےستم گروں کی ستم گری پر ہزارہا وار کر چکی ہے
تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!جس میں رکھا نہیں ہے کسی نے قدمکوئی اترا نہ میداں میں دشمن نہ ہمکوئی صف بن نہ پائی، نہ کوئی علممنتشر دوستوں کو صدا دے سکااجنبی دشمنوں کا پتا دے سکاتم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!جس میں رکھا نہیں ہم نے اب تک قدمتم یہ کہتے ہو اب کوئی چارا نہیںجسم خستہ ہے، ہاتھوں میں یارا نہیں
کاش اک ''دیوار رنگ''میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو!یہ سیہ پیکر برہنہ راہرویہ گھروں میں خوبصورت عورتوں کا زہر خندیہ گزر گاہوں پہ دیو آسا جواںجن کی آنکھوں میں گرسنہ آرزؤں کی لپکمشتعل، بے باک مزدوروں کا سیلاب عظیم!ارض مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میںآج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سببدشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہےان کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں!
کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہےنہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہےحکیم جانے وہ کیسی حکمت سے آشنا تھاشجیع جانے کہ بدر و خیبر کی فتح مندی کا راز کیا تھاعلیم جانے وہ علم کے کون سے سفینوں کا نا خدا تھامجھے تو بس صرف یہ خبر ہےوہ میرے مولا کی خوشبوؤں میں رچا بسا تھاوہ ان کے دامان عاطفت میں پلا بڑھا تھااور اس کے دن رات میرے آقا کے چشم و ابرو و جنبش لب کے منتظر تھےوہ رات کو دشمنوں کے نرغے میں سو رہا تھا تو ان کی خاطرجدال میں سر سے پاؤں تک سرخ ہو رہا تھا تو ان کی خاطرسو اس کو محبوب جانتا ہوںسو اس کو مقصود مانتا ہوںسعادتیں اس کے نام سے ہیںمحبتیں اس کے نام سے ہیںمحبتوں کے سبھی گھرانوں کی نسبتیں اس کے نام سے ہیں
شدت درد و الم سے جب بھی گھبراتا ہوں میںتیرے نغموں کی گھنی چھاؤں میں آ جاتا ہوں میںزندگی کا آئنہ یہ ہے ترے فن کا کمالہے ادھر حد فلک تک تیری پرواز خیالچل گیا سارے دلوں پر تیرا سحر سامریجاوداں اے امرتا پریتم ہے تیری شاعریشدت احساس ہو تو خود سنور جاتا ہے فنروشنی ہوتی ہے کل دنیا میں جب جلتا ہے منسرپھرے کچھ اہل فن مارے ہوئے تقدیر کےیوں ہی بے سمجھی میں ہیں دشمن تری تحریر کےدشمنوں کے وار سے ڈرتی نہ گھبراتی ہے تولوگ پتھر پھینکتے ہیں پھول برساتی ہے توتیرے فن کے معترف ہوں گے وہ وقت آنے کو ہےپھول تیرے فن کا ہر گلشن کو مہکانے کو ہے
کبھی میں زندگی کی ناز برداری نہ کر پایاہمیشہ بیچ میں حائل رہا اک خوابپاگل خوابسوتے جاگتے جو دیکھتا ہوں میںکہ سر ہی سر جنازے میں ہیں میرےاور میں بانوں کی نئی اک چارپائی پر سکوں کے ساتھ لیٹا ہنس رہا ہوںاک ایسی بھیڑ پرجو مجھ کو کاندھا دینے کے لیے آپس میں جھگڑا کر رہی ہےمجھے یہ زندگی پیروں تلے جتنا کچلتی ہےمری اس خواب سے وابستگی بڑھتی ہی جاتی ہےمرے جیسے کسی گمنام سے اک شخص کی آنکھوں نےایسا خواب کیوں دیکھاکہاں دیکھایہ خود میرے لیے بھی اک پہیلی ہےمگر ہنسئے نہیں اس خواب پر میرےمرا یہ خواب ہی تو وہ کڑی ہےجو مجھ کو زندگی سے جوڑتی ہےنہ جانے کب سے وہ فہرست میں تیار کرنے لگا ہوںلکھے ہیں نام جس میں ایسے لوگوں کےجنازے میں جنہیں ہونا ہی ہونا چاہیئے میرےسو ان لوگوں سے رشتے بھیبہت ہموار ہونا چاہیئے میرےمیں یہ بھی جانتا ہوںمجھے جس شان سے مرنے کی خواہش ہےوہ محنت مانگتی ہےکسی حد تک بھی جھک کر دشمنوں سےصلح کر لینے کی ہمت مانگتی ہےمحبت مانگتی ہےدعائیں مانگتا ہوں زندگی کی اس لیے میںکہ مجھ کو وہ تھوڑا وقت مل جائےنئے رشتے بنانے کاتعلق گہرے کرنے کاوگرنہ کیوں بھلا آئے گا کوئیموت کے دن گھر پہ میرےسنک کہہ لو کہ پاگل پنادھر آ کر مری یہ دھن یہاں تک بڑھ گئی ہےکہ اب میں دوستوں سےخوشی کی محفلوں میں بھی یہ اکثر پوچھ لیتا ہوںجنازے میں تو آؤ گے نہ میرے؟یہاں چاہو تو ہنس سکتے ہو مجھ پرمگر لاشے پہ تو آنسو بہاؤ گے نہ میرے؟وہ ہنس دیتے ہیں میری بات پراور میں کہیں اندر سے جیسے ٹوٹ جاتا ہوںمگر جب بھی کبھی ایسا ہوا ہےجنازے نے مجھے کاندھا دیا ہےمجھے جب بھی لگا ایسا کہ میں اب تھک رہا ہوںگر رہا ہوںمرے اس خواب نےمرے اپنے جنازے نے مجھے کاندھا دیا ہے
پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجبآسماں پر رنگ دیکھو ہو گیا کیسا غضبکھیت ہیں اور ان میں اک روپوش سے دشمن کا شکسرسراہٹ سانپ کی گندم کی وحشی گر مہکاک طرف دیوار و در اور جلتی بجھتی بتیاںاک طرف سر پر کھڑا یہ موت جیسا آسماں
مرے دیار کہاں تھے ترے تماشائیکہ دیدنی تھا مرا جشن آبلہ پائیکچھ ایسے دوست ملے شہر غیر میں کہ مجھےکئی فرشتہ نفس دشمنوں کی یاد آئیمیں سوچتا ہوں کہ کم ہوں گے ایسے دیوانےنہ کوئی قدر ہو جن کی نہ کوئی رسوائیمجھے بجھا نہ سکی یخ زدہ ہوائے شمالمجھے ڈبو نہ سکی قلزموں کی گہرائینہ جانے کیسا کرہ تھا مرا وجود کہ روزمرے قریب زمیں گھومتی ہوئی آئی
کوئی دوستوں کو دل میں سمجھتا ہے اپنے غیرکوئی دشمنوں سے دل کا نکالے ہے اپنا بیرکہتا ہے واں نظیرؔ بھی آتش کی دیکھ سیریا رب تو سب کی کیجیو برسا برس کی خیربے طرح کر رہی ہے نموداری شب برات
تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نےمیں لفظ سوچوں میں لفظ بولوں میں لفظ لکھوںمیں لفظ لکھنے پہ زندگی کے عزیز لمحوں کو نذر کر دوںمیں لفظ لکھوںاور ان کی آنکھوں میں منجمد رتجگوں کو اپنے لہو کی تازہ حرارتیں دے کےجگمگا دوںتو میں بڑا ہوںتمہیں خبر ہےمری رگوں میں بڑے قبیلے کے شاہزادے کا خون زندہ رواں دواں ہےجسے محبت کے دشمنوں بے ضمیر لوگوں نےپیار کرنے کے جرم میں قتل کر دیا تھایہی نہیں بلکہ خود کو منصف بنا لیا تھاکسی نے بھی خوں بہا نہ مانگاکہ شہر محنت کے سب بزرگوں نے درگزر کا سبق دیا تھامگر وہ میں تھا کہ لفظ لکھےتمہیں خبر ہےکہ میری بوڑھی عظیم ماں نے جوان بیٹوں کو حادثوں کےسپرد کر کے دعائیں مانگیںخدائے برتر مرے لہو کو امر بنا دےدعائیں مانگیں تو ان کے چہرے پہ گزرے موسم کے سارے دکھسلوٹوں کی صورت ابھر گئے ہیںمگر وہ مفلوج ہو گئی ہےیقین جانو کہ میں نے ایسے عذاب لمحوں میں لفظ لکھےتمہیں خبر ہےبڑی حویلی کے رہنے والے تمام لوگوں کو چھوڑ کر میں نے لفظ لکھےتمہیں خبر ہےمیں لہلہاتے حسین کھیتوں کو چھوڑ شہر کی بے اماںفصیلوں میں آگیا ہوںاور اپنے سائے کی کھوج میں ہوںکہیں ملے تو میں لفظ لکھوںنہیں ملے تو میں لفظ لکھوںتمہیں خبر ہے کہا تھا تم نےکہ وقت منصف ہےاور وہ فیصلہ کرے گا
زمین ویتناممیں بھی اک سر زمیں کا باسی ہوںجو ابھی تک مری ہےکل کا پتہ نہیں ہے کہ میرے پاؤں مری زمین پر پھسل رہے ہیںکوئی بڑے زور دار ہاتھوں سےدور بیٹھازمین کا پلو پکڑ کے اپنی طرف اسے کھینچتا ہی جاتا ہےمیں کھنچا جا رہا ہو پلو سمیتٹھہروں تو میرے پاؤں پھسل رہے ہیںمیں دوسری سمت منہ اگر کر کے بھاگ نکلوںزمین کھنچ جائے پاؤں سے تو خلا میں گرنے کا ڈر ہے مجھ کوزمین ویتناماس سے پہلے کہ میرے پیروں تلے سے میری زمین کھنچ جائےآج تجھ سے مقابلہ اپنا کر رہا ہوںکہ مجھ میں تجھ میں جو مشترک قدر ہے وہ جنگی صعوبتیں ہیںمرا بھی دشمن وہی ہے جو تجھ سے لڑ رہا ہےتری زمین پر بھی جنگ جاریمری زمیں پر بھی جنگ جاریاگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ اپنے دشمن کے سامنے تو بہادری سے ڈٹا ہوا ہےمیں جھک گیا ہوںیہاں ذرا مختلف ہے صورتکہ میرا دشمن ڈٹا ہوا ہےمیں سر بھی اپنا جھکا چکا ہوںمیں اس کی منت بھی کر چکا ہوںمگر وہ بے رحم مارے ہی جا رہا ہےکسی طرح مانتا نہیں ہےبس اپنی منوائے جا رہا ہےزمین ویتنامتو نے اتنے برس گنوائےکروڑوں افراد اپنے مروائےتو نے منت ہی کی نہ سودا کیا نہ فوجوں کا سر جھکایاعجب کہ تو نے رگوں میں خون کی بجائے بارود بھر لیا ہےتو باؤلی ہےیہ دیکھ بارہ کروڑ کے چند مالکوں کا بھی کارنامہانہیں بھی اک جنگ آ پڑی تھیانہوں نے سولہ دنوں میں وہ کر دیا جو صدیوں میں بھی نہ ہوتاجھکا دیے اپنے لاکھ فوجیمٹا دئے اپنے لاکھ فوجیمٹا دئے اپنے نصف جھگڑےکٹا دیا اپنا نصف نقشہجو نصف باقی تھا اور سولہ دنوں کا جھگڑا تھا گر یہ رہتاکیوں نہ ہوتاکہ ہر بڑی قوم کام ایسے کیا ہی کرتی ہے جو کہ تاریخ کے لئے باب کھولتے ہیںیہ کارنامہیہ صرف تاریخ کا نہیں ہےیہ کارنامہ تو ہے جغرافیہ بھی جس نے بدل دیا ہےبہت بڑی قوم کا یہ کرتب ہےقوم سوئی بنانا اپنے لیے جو تو جانتی نہیں ہےیہ قوم بارود جس کی خاطر بڑے ممالک بنا رہے ہیںبہت بڑی قوم ہے بہت ہیجہاز کے کارخانے بیرون ملک جس کے بنے ہوئے ہیںوہ جس کی خاطر کہ بیوک امپالا فورڈ آرڈر پہ بن رہی ہےمشین انجن ملوں کا سامان کارخانے کے سارے اوزارریڈیو ٹیلیفون ٹیلی ویژن ٹریکٹر مشین گن توپغرض ایک ایک شے اس کی اس کے کمی خود اپنے ملکوں میں اس کی خاطر بنا رہے ہیںبہت بڑی قوم ہے کہ اس کے بڑے گھروں میں تو سر کا شیو بھیتن کے کپڑے بھی اور جوتے بھی اس کے باہر سے آ رہے ہیںزمین ویتنامتیری مائیں تو اپنے بچے کے قد کو دیکھتی ہیں کہ اس کی لمبائی کار سے تو بڑی نہیں ہےزمین ویتنامبیٹیاں تیری اپنے شانوں پہ اپنے شیروں کا بوجھ لے کر پاؤں کی صورت ہیں ایستادہمگر یہاں بیٹیاں نہیں ہیںیہاں تو تحفے ہیںجو کہ باہر سے آئے سوداگروں کی خاطر تواضع کرنے کے واسطے کر رہے ہیںزمین ویتنامتیرے بیٹے تو تیرے وارث ترے محافظ ہیںفوج وہ بن رہے ہیں تیری کہ تجھ پہ جانیں نثار کر دیںزمین ویتنامتیرے بیٹے تو تیرے وارث ترے محافظ ہیںفوج وہ بن رہے ہیں تیری کہ تجھ پہ جانیں نثار کر دیںیہاں پہ بیٹی نہیں تو بیٹے بھی اس زمیں نے نہیں جنے ہیںیہاں تو تنخواہ کی ضرورت ہے فوج میں ہو کہ موج میں ہوزمین ویتنامتیرا آدم کہاں سے آیا تھابیٹیاں تیری کون سی بے مثال حوا کی بیٹیاں ہیںزمین ویتنام تیری مٹی کہاں کی ہے جو کہتیرے دشمن نے چاند تسخیر کر لیا پر نہ تجھ کو جیتاترا خدا کون سا خدا ہےمرے خدا کا سلام اس کومگر مرے ویتنام جو فرق تجھ میں مجھ میں ہے اور تھوڑا سا دور کر دوںتری لڑائی تو صرف دشمن سے ہے کہ جو تیرے سامنے ہےمری لڑائی ہے دشمنوں سے جو سامنے ہو کے بھی مرے سامنے نہیں ہیںمیں دشمنوں سے بھی لڑ رہا ہوںمیں دوستوں سے بھی لڑ رہا ہوں جو دوستی کا لباس پہنےمری لڑائی اڑوسیوں سے پڑوسیوں سےمری لڑائی ہے اپنے گھر میںمری لڑائی سمندروں کے ادھر بھی قائممری لڑائی ہے جسم سے بھیمری لڑائی ہے ذہن سے بھیمری لڑائی تو سامراجی نظام سے ہےجہاں جہاں سامراج ہے میں وہاں وہاں پر ڈٹا ہوا ہوںمیں اپنی غربت سے اپنی مظلومیت سے آگاہ ہو چکا ہوںمری یہ غربت یہ میری مظلومیت ہی قوت ہےوہ سپاہی نہیں ہے میرا جو اپنے ہیلمٹ کے بوجھ سے سر جھکا چکا ہےجو صرف تنخواہ کے لیے میرا شیر جرنیل بن گیا ہےمیرا یہ قلاش میرا بیکار میرا مزدور وہ سپاہی ہےجو مری فوج بن رہا ہےزمین کے پلو کو اپنی اس تازہ فوج کی بے پناہ قوت سے تھام کراب میں اپنی جانب گھسیٹ لوں گاگھسیٹ لوں گا میں ان کو بھی وہ جو دوسری سمت اپنے آہن کے ہاتھ لے کرمری زمین اپنی سمت لالچ سے کھینچتے ہیںزمین ویتنام گر تری سر زمیں پہ بارود کی تہیں بچھ گئی ہیں تو اس زمیںکے کھیتوں میں بھی فقط گولیاں اگیں گییہاں بھی پیڑوں کو اب پھلوں کی بجائے بم ہی لگیں گےاس سر زمیں پہ بھی آگ ہی کے دریا بہیں گےجن میں کہ کوئی کاغذ کی ناؤ وہ سامراج کی ہو کہ میری اپنینہ چل سکے گیزمین ویتنام میں بھی اک سر زمیں کا باسی ہوںاس زمیں کا سلام تجھ کو
تیری خاک کی قسمہم تجھے بچائیں گےدشمنوں کی فوج پربجلیاں گرائیں گےنوجوان نسل کیہمتوں پہ رکھ یقیںاے وطن کی سرزمیں
آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھسارے دروازوں کے ساتھسرخ اینٹوں کی چھتوں پر رینگتی ہےنیلی نیلی کھڑکیوں سے جھانکتی ہےریتریت رک جاکھیل طے کر لیںسنہرے تاش کے پتوں سے درزوںروزنوں کو بند کر لیں ریترک جاسست برساتیں کہ جن پر دوڑ پڑناجن کو دانتوں میں چبا لیناکوئی مشکل نہ تھاتو نے وہ ساری نگل ڈالی ہیں راترات ہم ہنستے رہے اے ریتتو دیوانی بلی تھی جو اپنی دم کے پیچھےگھومتی جاتی تھیاس کو چاٹتی جاتی تھی راتریت کی اک عمر ہے اک وقت ہےلیکن ہمیںخود سے جدا کرتی چلی جاتی ہے ریتناگہاں ہم سب پہ چھا جانے کی خاطریہ ہماری موت بن کر تازہ کر دیتی ہےیادیں دور کی یا دیر کیریت کو مٹھی میں لے کر دیکھتے ہیںاپنے پوروں سے اسے چھنتے ہوئےہم دیکھتے ہیںاپنے پاؤں میں پھسلتے دیکھتے ہیںریت پر چلتے ہوئےاپنے گیسو سے اٹ جاتے ہیںبھر جاتے ہیں پیراہنہمارے باطنوں کو چیرتی جاتی ہے ریتپھیلتی جاتی ہے جسم و جاں کے ہر سوہم پہ گھیرا ڈالتی جاتی ہےریتریت اک مثبت نفی تھیریت سرحد تھی کبھیریت عارف کی اذیت کا بدل تھیآنسوؤں کی غم کی پہنائی تھی ریتاپنی جویائی تھی ریتریت میں ہر کس تھے ہمدوسرا کوئی نہ تھاریت وہ دنیا تھی جس پر دشمنوں کیمہر لگ سکتی نہ تھیاس کو اپنا تک کوئی سکتا نہ تھاریت پر ہم سن رہے ہیں آجپیرانہ سری کی اپنی تنہائیکی چاپدن کے ساحل پر اتر کرآنے والی رات کے تودے لگاتیجا رہی ہےناگہاں کی بے نہایت کو اڑا لائی ہےریتدل کے سونے پن میں در آئی ہےریتریت
اہنسا کی شمشیر چمکی اسی دنغلامی کی زنجیر ٹوٹی اسی دنگلستاں کی تقدیر بدلی اسی دناٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںکھلے کیسے کیسے بھرم دشمنوں کےرہے پھر نہ باقی ستم دشمنوں کےمٹے اس زمیں سے قدم دشمنوں کےاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںاسی دن کی خاطر بڑے غم اٹھائےزمیں آسماں کے قلابے ملائےذرا بھی نہ اپنے قدم ڈگمگائےاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںیہ وہ دن ہے ہم جس کی برکت کو سمجھیںیہی دن ہے وہ جس کی قیمت کو سمجھیںیہی دن ہے وہ جس کی عظمت کو سمجھیںاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںترنگے کو ہم اور اونچا اٹھا دیںچراغوں سے ہر بام و در کو سجا دیںزمانے کو یہ سر خوشی بھی دکھا دیںاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں
یہ سوچتا ہوں جوخدا کبھی دیدار بخشے گااور اپنے فضل سے دے گا اجازت مانگنے کی کچھتو نہ دستار و قبا نہ جبہ و خرقہنہ دولت نہ محل نہ سر پہ تاج مانگوں گانہ عہدہ و منصب نہ کوئی جاہ و جلالنہ علم و آگہی نہ مسند نہ اقتدار مانگوں گافراوانی غم سے نجات نہ فارغ البالینہ صحت نہ شفا نہ اچھی موت مانگوں گانہ تکمیل آرزو کی دعا نہ نفس مطمئنہ کینہ عمر خضر نہ شہرت نہ خواب کی تعبیر مانگوں گانہ دشمنوں کے ضرر سے نہ شر سے دوستوں کےنہ کبر سنی نہ ضعف نہ لاچاری سے پناہ مانگوں گانہ دنیا جہان کی خوشیاں نہ شان و شوکت ہینہ خوش نصیبی نہ دل کا چین نہ سکون روح مانگوں گانہ خوش گوار راتیں نہ طول شباب نہ نیند نہ آغوش محبوبنہ سامان عیش و طرب نہ حور و قصور مانگوں گانہ رسوائی سے بچنے کی نہ عزت آبرو کی خواہش ہےنہ شہرت و مقبولیت نہ اچھی امیج مانگوں گانہ قرض کے بوجھ نہ خوف نہ دہشت سےنہ کسی کے جبر سے نہ ظلم سے حفاظت کی دعا مانگوں گااب آپ سوچتے ہوں گےکہ یہ باؤلا یہ دیوانہ یہ پاگل شخصنہ جانے آخر خدا سے کیا مانگے گاسو مرے ہمدم مرے دوستو مرے یاروذرا قریب آؤ آؤ بتاؤں راز تمہیں دکھی دل کامیں خدائے قادر مطلق رحیم و اکرم سےجنون مذہبی کے خاتمے اور امن کی فضا مانگوں گا
خیالات میں سخت ہے انتشارتخیل پریشاں قلم بے قرارجہاں خون آلود و خوں رنگ ہےوطن پر پڑا سایۂ رنج ہےگل و لالہ ہیں مستعد بے تکاںرفیقوں نے رکھی ہتھیلی پہ جاںہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنخلوص آج پامال ہے اور تباہاصول آج دریوزہ خواہ پناہگرفتار آزار دنیا ہے آجمحبت پریشان و رسوا ہے آجاصول محبت کے ہم ترجماںخلوص و محبت کے ہم پاسباںدوانوں کو مطلق نہیں ہے قرارصداقت سے بیتاب دل پائیدارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنوطن ہے یہ نانک کا فرماں پذیرتھا گوتم اسی کارواں کا امیرمحبت نے رتبہ دیا ہے بلندمحبت نے سب کو کیا ارجمندہے غیرت کا طوفان چھایا ہواہے بچوں میں بھی جوش آیا ہواارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار ہیں جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطننہ دی دشمنوں کو کبھی اس نے راہہمالہ ہے رفعت سے عالم پناہہمالہ کی دلچسپ ہے داستاںیہ عظمت نشاں سب کا ہے پاسباںزمانے پہ یہ بات ہے آشکاراما اس کی ہے دختر نامدارہمالہ کی عظمت کی ہم کو قسمہمالہ کی رفعت کی ہم کو قسمحفاظت ہمالہ کی اب فرض ہےہمالہ کا ہم پر بڑا قرض ہےیہ کہتے ہیں سب مل کے خورد و کلاںکہ غیرت کا اس وقت ہے امتحاںہوا روئے شنکر ہے غصے سے لالدکھائے گا اب رقص تانڈو جلالارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار سب جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنمحافظ ہیں ہم امن کے لا کلامزمانے کو دیتے ہیں بدھ کا پیامصبا اپنے گلشن سے جاتی ہے جبمٹاتی ہے دنیا کے رنج و تعبرسیلی ہے صبح اور رسیلی ہے شامنہاں ان میں ہے زندگی کا پیامروایت کا محفوظ کر کے وقارہمیں لوٹنا ہے خوشی کی بہارذرا دیکھئے گا رفیقوں کی آنہے رکھی جنہوں نے ہتھیلی پہ جانہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنہے عزت کا جرأت کا اب امتحاںکہیں جھک نہ جائے وطن کا نشاںفریبوں سے کوئی پنپتا نہیںکبھی جھوٹ کا میوہ پکتا نہیںصداقت کا ہے بول بالا سدانہیں کام آتے دروغ افترافضا ہے چمن کی ہمیں سازگارہے پابندہ تر اس زمیں کی بہارہر اک لب پہ ہے بس یہیں اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنحیا اور مروت ہے جو پر رہیںہوئی ہیں وہ آنکھیں بہت خشمگیںبڑھے ہیں وطن کی طرف بد قماشکلیجہ زمیں کا ہوا پاش پاشپہاڑوں پہ ہے برف غصے سے لالفضائیں ہوئیں گرم آتش مثالہیں جہلم میں آنے کو طغیانیاںہر اک موج پر ہے غضب کا سماںمحبت کی دنیا کو دل میں لیےبہار جوانی سے پیماں کیےوطن کی حفاظت کو تیار ہیںمحبت کے بادہ سے سرشار ہیںحفاظت ہے فرض اپنے ارمان کیہمیں آج پروا نہیں جان کیہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن۲آؤ بڑھو میدان میں شیروں دشمن پر یلغار کریںقبر بنے میدان میں اس کی ایسا اس پر وار کریںزنگ نہ لگنے پائے اپنے بھارت کی آزادی کوآؤ زیر دام کریں صیادوں کی صیادی کولوح دل پر نقش کرو ہر حال میں زندہ رہنا ہےملک کی خدمت کے رستے میں جو دکھ آئے سہنا ہےیہ سیلاب سرخ نہیں ہے ظلم و ستم کی آندھی ہےاس سیلاب کو روکیں گے ہم ہمت ہم نے باندھی ہےشیروں کی اولاد ہو تم ان ویروں کی سنتان ہو تممرد مجاہد مرد جری ہو یودھا ہو بلوان ہو تمسانچی مدورا امرتسر اجمیر کی عظمت تم سے ہےصبح بنارس شام اودھ کی اصل و حقیقت تم سے ہےتاج اجنتا اور ایلورا کے واحد فن کار ہو تمخوش سیرت خوش صورت خوش مورت خوش کردار ہو تمبھیلائی چترنجن تم سے بھاکڑ اننگل تم سے ہےدامودر کی شان ہے تم سے عظمت چنبل تم سے ہےتم نے بسائے شہر نرالے جنگل تم سے منگل ہیںتم نے نکالی نہریں اتنی صحرا تم سے جل تھل ہیںتم نے اتنی ہمت سے دریاؤں کے رخ موڑ دیےتم نے کھودیں سرنگیں اتنی دور کے رشتے جوڑ دیےتم کشمیر کی ارض حسیں کے نظاروں میں پلتے ہوکہساروں کو پھاندتے ہو تم دریاؤں پہ چلتے ہوتم میسور میں ورندا بن کے باغ سجانے والے ہواوٹی شملہ دارجلنگ سے شہر بسانے والے ہوتاتیا ٹوپے لکشمی بائی ٹیپو کی اولاد ہو تمجنگ کے فن میں قابل ہو تم ماہر ہو استاد ہو تمہندو مسلم سکھ عیسائی جینی بودھ اور پارسیدہقاں تاجر اور ملازم سادھو سنت اور سیاسیلے کے وطن کا جھنڈا آؤ دشمن پر یلغار کریںقبر بنے رن بھوم میں اس کی ایسا اس پر وار کریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books